تازه خبریں

یوم نکبہ 15 مئی 1948 یوم المیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

یوم نکبہ 15 مئی 1948 یوم المیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے اسرائیل ناجائز و غاصب ریاست ہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان

 مشرق وسطیٰ میں ظالم خنجر کی ماننداسرائیل سے اب دنیا کا امن بھی خطرے میں، علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی /اسلام آباد 14مئی 2025ء (جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ اسرائیل تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے ناجائز و غاصب ریاست ہے جس کا دنیا میں ایک صدی قبل کوئی وجود تک نہ تھا فلسطین میں کُل سرزمین کے دو فیصد حصے پر چھ یہودی آبادیاں تھیں ، اعلان بالفور اور  لیگ آف نیشنز کی کمیٹی کے یہودیوں کو بسانے کے منصوبے کے تناظر میں اٹھائے جانیوالے اقدام کو کس کی ایماء پر اسرائیل جیسی غاصب و ظالم ریاست بنانے کی شہ دی جس نے قتل و غارت گری ،نسل کشی کی وہ مثالیں قائم کیں وہ رہتی دنیا تک بدترین مثالوںو مظالم کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 15 مئی 1948 یوم نکبہ(یوم المیہ)،16 مئی 1948ء ناجائز ریاست اسرائیل کے تاسیس پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے دنیا کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ ایک صدی قبل اسرائیل نام کی ریاست کا وجو د دور کی بات نام تک دنیا نے نہ سنا تھا ۔ عالمی جنگ کے اختتام ، اعلان بالفورنومبر1917ء اور لیگ آف نیشنل کی خصوصی کمیٹی کے فیصلوں کے تناظر میں دو شرائط کیساتھ ان یہودیوں کی ارض فلسطین پر آبادکاری کافیصلہ کیاگیا جو اپنی رضا و رغبت اور بغیر کسی جبر کے وہاں آباد ہونگے جبکہ ملک فلسطین پر آباد صدیوں سے آباد عربوں کے حقوق اور حق ملکیت کی شرائط بھی شامل تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان شرائط کی نہ صرف خلاف ورزی کی گئی بلکہ ابتدا میں 6 آبادیوں اور 2فیصد سے بھی کم آبادی کو سامراج کی آشیر باد کیساتھ نہ صرف ایک ناجائز ریاست کے طور پر بڑھاوا دینے کی کوشش کی گئی بلکہ 1948ء تک عربوں سے ان کی سرزمین تک چھیننے کے اقدامات تک اٹھالئے گئے اور آج 2025ء میں اسرائیل وہ غاصب و جابر ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ایک ناجائز ریاست کے طور پر موجود ہے جس کے ماتھے پر لاکھوں لوگوں کے قتل،بچو ں اور خواتین کیساتھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی لمبی  فہرست ہے  اور یہ مشرق وسطیٰ میں ایک ظالم خنجر کی مانند پوست ہے جس سے اب دیگر دنیا کے امن کو بھی خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ آج پھر نام نہاد معاہدہ ابراہم کا تذکرہ کیا جارہاہے جبکہ جو قیامت ارض فلسطین پر ڈھائی گئی اس پرمظلوموں کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے والے کمال ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ غزہ کے لوگوں کو بھی جینے کاحق ملنا چاہیے۔