• علامہ رمضان توقیر سے علامہ آصف حسینی کی ملاقات
  • علامہ عارف حسین واحدی سے علماء کے وفد کی ملاقات
  • حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس

تازه خبریں

‎سانحہ حراموش کیخلاف شیعہ علما کونسل گلگت ڈویژن کی احتجاجی ریلی

جعفریہ پریس – آج مورخہ 3اکتوبر 2014 بروز جمعہ کوشیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کے زیر اہتمام بعد از نمازجمعہ سانحہ حراموش کے خلاف ایک احتجاجی ریلی مرکزی امامیہ جامع مسجد سے نکالی گئی جو بینظیر چوک پر پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیار کر گئی ۔ ریلی میں کثیر تعاد مییں مومنین نے شرکت کی ۔ اس موقع ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علما کونسل گلگت ڈویژن کے صدر شیخ سجاد قاسمی نے کہا کہ سانحہ حراموش علائقے کے خلاف ایک گہری سازش ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ میں ملوث دہشت گرد قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے انتظامیہ واقعے کو باوردی مواد کا نتیجہ قرار دے رہی ہے جو کہ قابل آفسوس ہے ۔ حکومت جلد قاتلوں کو گرفتار کرے اور واقعے کے اصل حقائق کو منظرعام پر لائے ۔ ریلی سے شیخ ناصر حیسن ، شیخ عاشق حسین ، ایڈوکیٹ باقر اور دیگر نے خطاب کیا جبکہ ریلی کے آخر میں ڈویژنل جنرل سیکرٹری عمران حسین نے قرارداد پیش کی ۔
قرارداد
1۔ آج کا یہ اجتماع حراموش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اصل کرداروں اور سازش کاروں کو منظر عام پر لایا جائے ۔
2۔ آج کا یہ اجتماع ذمہ دار حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کو اصل نوعیت اور حقائق کو تبدیل کرنے کی سازش قرار دیتا ہے ۔
2۔آج کا یہ اجتماع شہداء کے ورثا ء کو فوری مالی معاوضہ جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر مفت طبی اور مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
4۔ آج کا یہ اجتماع سانحہ حراموش اور سانحہ مناورکو ایک ہی کڑی قرار دیتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے ان دونوں سانحات کو ملا کر ایک ہی رخ سے تحقیقات کی جائیں ۔
5۔ گلگت بلتستان میں دہشت گردی نئے انداز میں شروع کی گئی ہے جیسا کہ سانحہ کوہستان ، سانحہ چلاس ، سانحہ لولوسر اور اب سانحہ حراموش ،آج کایہ اجتماع دہشت گردی کے اس انداز کو علاقے میں فتنہ و فساد اور مذہبی منافرت میں اُلجھانے کی سازش قرار دیتا ہے ۔
6۔ آج کا یہ اجتماع گلگت بلتستان میں قائم ایلیٹ فورس کے شعبے کو کو ختم کرنے کو ایک ساز ش قرار دیتا ہے اور اسکی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے ۔