حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے اسی عدل کے سبب آپ کی شہادت ہوئی
علوی ؑ سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرارپایا۔ ( قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی)
راولپنڈی/اسلام آباد16 جون 2017 ء ( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ محراب مسجد کوفہ سے بلند ہونے والی فزت برب الکعبہ کی صدا دنیائے عالم میں گونج رہی ہے۔ بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین ؑ کا منفرد اعزاز ہے۔ آپ ؑ کی ذات کا ایک اور منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ اسی عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ پیغمبر گرامی قدرؐ نے اپنی رسالت اور اسلام کے پیغام کی ترویج کے لئے جہاں بہت سے افراد کو تیار کیا اور ان کی تربیت کی وہاں اسلام کی نشرواشاعت ، اسلام کے تحفظ اور اسلام کے نفاذ کے لئے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو خصوصی طور پر تیار کیا اور اعلی نہج پران کی تربیت کی۔ بچپن سے لے کر زندگی کے تمام مراحل تک حضرت امیر ؑ خلوت وجلوت میں پیغمبر خداؐ کیساتھ رہے اس قرابت کا ذکر احادیث پیغمبر ؐ اور اقوال علی ؑ میں واضح انداز میں ملتا ہے کہ امیرا لمومنین ؑ نے زندگی کے تمام مراحل رسول خدا ؐ کی نگرانی و سرپرستی میں طے کئے۔پیغمبر خدا ؐ سے اسی براہ راست رشتے ، تعلق اور سرپرستی کا سبب ہے کہ امیرالمومنین ؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم ؐ کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنین ؑ کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ اگرچہ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اور حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے امیر المومنین ؑ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو چھپانے کی بہت کوششیں کیں لیکن تاریخ کے جھروکوں سے وہ تمام کامیابیاں اور اصلاحات واضح طور پر آج بھی نظر آرہی ہیں۔ امیرا لمومنین ؑ نے سیاسی ، معاشی، سماجی اور تعلیمی میدان سمیت تمام میدانوں میں جو اقدامات اور اصلاحات کیں وہ تمام ادوار اور تمام نظام ہائے حکومت کے لیے نمونہ عمل ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔انکے اقوال و فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔
علوی ؑ سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرارپایا۔ ( قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی)
راولپنڈی/اسلام آباد16 جون 2017 ء ( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ محراب مسجد کوفہ سے بلند ہونے والی فزت برب الکعبہ کی صدا دنیائے عالم میں گونج رہی ہے۔ بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین ؑ کا منفرد اعزاز ہے۔ آپ ؑ کی ذات کا ایک اور منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ اسی عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ پیغمبر گرامی قدرؐ نے اپنی رسالت اور اسلام کے پیغام کی ترویج کے لئے جہاں بہت سے افراد کو تیار کیا اور ان کی تربیت کی وہاں اسلام کی نشرواشاعت ، اسلام کے تحفظ اور اسلام کے نفاذ کے لئے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو خصوصی طور پر تیار کیا اور اعلی نہج پران کی تربیت کی۔ بچپن سے لے کر زندگی کے تمام مراحل تک حضرت امیر ؑ خلوت وجلوت میں پیغمبر خداؐ کیساتھ رہے اس قرابت کا ذکر احادیث پیغمبر ؐ اور اقوال علی ؑ میں واضح انداز میں ملتا ہے کہ امیرا لمومنین ؑ نے زندگی کے تمام مراحل رسول خدا ؐ کی نگرانی و سرپرستی میں طے کئے۔پیغمبر خدا ؐ سے اسی براہ راست رشتے ، تعلق اور سرپرستی کا سبب ہے کہ امیرالمومنین ؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم ؐ کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنین ؑ کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ اگرچہ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اور حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے امیر المومنین ؑ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو چھپانے کی بہت کوششیں کیں لیکن تاریخ کے جھروکوں سے وہ تمام کامیابیاں اور اصلاحات واضح طور پر آج بھی نظر آرہی ہیں۔ امیرا لمومنین ؑ نے سیاسی ، معاشی، سماجی اور تعلیمی میدان سمیت تمام میدانوں میں جو اقدامات اور اصلاحات کیں وہ تمام ادوار اور تمام نظام ہائے حکومت کے لیے نمونہ عمل ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔انکے اقوال و فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔