تازه خبریں

دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم کے تحت برسی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی عظیم الشان برسی

دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم کے تحت برسی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی عظیم الشان برسی

دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم کے تحت برسی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی عظیم الشان برسی
قائد ملت جعفریہ پاکستان مسلّم مجتھد ہیں۔

شھید ڈاکٹر نقوی کی کاوشوں کی برکت سے ہم نے انقلاب اسلامی کو سمجھا اور انقلابی فکر کو حاصل کیا۔

سوچی سمجھی سازش کے تحت ائمہ ع کی ولادت کو ظہور کا نام دیکر مولود کعبہ کا انکار اور ظہور امام زمان ع کے نظریہ پر حملہ کیا جارہا ہے۔

حرم مطہر قم سے ملحقہ تاریخی مسجد اعظم میں دفتر قائد قم کے زیر اہتمام عظیم الشان سیمینار سے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کا عہد ساز خطاب

قم المقدسہ 12 مارچ 2019:
دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم المقدسہ کے زیر اہتمام حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا سے ملحقہ تاریخی مسجد اعظم کے وسیع و عریض حال میں عظیم الشان سیمینار بعنوان “استحکام پاکستان میں ملت تشیع کا کردار” اور “تجلیل شہداء بالخصوص شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی” کا انعقاد کیا گیا جس میں شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی نے خصوصی خطاب کیا۔
سیمینار میں علمائے عظام، طلاب کرام اور زائرین نے بھرپور شرکت کی اور قومی قیادت و مرکزی پلیٹ فارم کے ساتھ دلی وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔

سیمینار کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جس کے بعد فرزند شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی (رح) جناب برادر سید دانش نقوی نے خطاب کیا۔ انہوں شہید ڈاکٹر نقوی کے حالات زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ بعد از آں ڈاکٹر شہید کی یاد میں بڑی سکرین پر ان کے نماز جنازہ کا مختصر ویڈیو کلپ چلایا گیا۔

سیمینار میں مرکزی خطاب ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی مرکزی رہنما شیعہ علما کونسل پاکستان، جنرل سیکرٹری مجمع اہلبیت پاکستان و سربراہ زہرا اکیڈمی نے کیا۔
علامہ صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا ہم نے ڈاکٹر نقوی شھید کی برکت سے انقلاب اسلامی کو سمجھا اور انقلابی فکر کو حاصل کیا۔ بعد از آن ہم نے دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ ہم فرزندان حوزہ ہیں، حوزہ نے ہمیں قرآن کی تعلیم دی، فقہ و اصول فقہ و دیگر علوم ہمیں حوزہ نے مرحمت فرمائے۔ ڈاکٹر شہید پاکستان میں مرکزیت کے خواہاں تھے، ٹکڑیوں میں بٹنا انہیں قطعا پسند نہیں تھا۔

علامہ صاحب کا استحکام پاکستان میں ملت تشیع کا کردار کے حوالے سے کہنا تھا کہ استحکام پاکستان کے لئے ملت جعفریہ کا کردار ہمیشہ سے مرکزی رہا ہے، اس کے باوجود پاکستان میں ملت تشیع اور قومی قیادت کو مختلف اندرونی و بیرونی چیلینجز اور مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے گزشتہ 28 سالوں میں مسلسل اپنی حکمت، دانائی، بصیرت و محنت سے ملت تشیع کے خلاف ایک بل یا قانون بھی پاس نہیں ہونے دیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے تمام تر مشکلات کا بخوبی مقابلہ کیا اور آج ہم بحیثیت شیعہ قوم پاکستان میں ہر میدان میں کامیاب اور صف اول میں کھڑے ہیں تو یہ سب میرے قائد کے مرہون منت ہے؛ قائد ملت جعفریہ پاکستان ہی کی وجہ سے پاکستان میں ملت تشیع کا حال و مستقبل محفوظ ہے اور قائد محترم علمی میدان میں مسلّم مجتھد ہیں۔ فہم و فراست میں انکا کوئی ثانی نہیں۔ حکمت و بصیرت میں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ قائد محترم خاموشی سے اور مسلسل ملک بھر میں ملت تشیع کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ قائد ملت جعفریہ کو کمزور کرنے کیلئے پہلے اعلی سطح کی بڑی طاقتوں کے ذریعہ کوششیں کی گئیں جن میں وہ ناکام ٹھہرے، تو اب نچلی وتنظیمی سطح پر اندرونی اختلافات ایجاد کرکے قیادت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ تو ہم یقین محکم کیساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں، کہ جب دشمن کی بڑی طاقتیں ان سازشوں میں ناکام ٹھہری ہیں، تو یہ چھوٹی چھوٹی سازشیں بھی جلد ہی دم توڑ جائیں گی۔

انقلاب اسلامی کے حوالے سے شیخ میثمی کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ہی کی بدولت علمائے کرام اور ملت تشیع کا وقار پوری دنیا میں بلند ہوا اور اسی طاقت سے تشیع نے شام و عراق میں کفر و داعش کو شکست دی ہے جبکہ مظلومین فلسطین و یمن کیلئے آج بھی یہ مقاومت جاری ہے۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود انقلاب اسلامی کی بدولت ایران نے جہاں علمی و سائنسی دنیا میں بے پناہ ترقی کی ہے وہاں عالمی طاقتیں اس بات کا اظہار بھی کر چکی ہیں کہ ہمیں اگر ایرانی سپریم لیڈر نے کہہ دیا ہے کہ ہم ایٹم بم نہیں بنائیں گے تو انکے اس قول و فعل پر مکمل اعتماد ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے پچیس سالہ دورانیہ میں کبھی بھی اپنے قول کے خلاف عمل نہیں کیا۔ ہمیں اس بات پر اپنی قیادت و رھبریت کیلئے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب مکتب اھلبیت ع کا خوبصورت ترین چہرہ دنیا کے سامنے ہے۔ ہمارا فریضہ بنتا ہے کہ ہم اسلام کے اس خوبصورت چہرے کو آگے بڑھائیں۔

پاکستان میں ملت تشیع کی حالیہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ شیعہ قوم کو پاکستان میں جلوس عزاداری و مجالس کے حوالے سے بیرونی اور مسلمہ عقائد کے حوالے سے اندرونی مشکلات کا سامنا ہے۔سوچی سمجھی سازش کے تحت شیعہ مسلمہ عقیدہ توحید و امامت پر حملہ کیا جارہا ہے۔ نظریہ امامت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی ولادت با سعادت کو ظہور کا رنگ دے کر مولود کعبہ کا انکار اور ظہور امام زمانہ (ع) کے نظریہ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ چند منحرف ذاکرین اپنی جیب گرم کرنے کی خاطر عالمی استعمار کی سازشوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ ملت تشیع پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے ان کا راستہ روکنا ہوگا۔ جتنا ممکن ہو سکے عزاداری کو سادگی سے منایا جائے، جس انداز میں عزاداری ہم تک پہنچی ہے اس میں تحریف نہیں کرنا چاہئے، دشمن شناسی کی اشد ضرورت ہے کہ دشمن کس رنگ میں کس انداز میں کہاں کہاں حملہ آور ہے اس پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ پھر وظیفہ شناسی پر مصروف عمل ہونا ہے۔

استحکام پاکستان کے حوالے سے موجودہ صورت حال کے پیش نظر انہوں نے فرمایا کہ حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہئے کہ اسرائیل کو قبول کرنے یا ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ و برادرانہ تعلقات کو خراب کرنے کی مذموم کوشش یا عزاداری کے حوالے سے مشکلات ایجاد کرنے کے حوالہ سے ملت تشیع کسی بھی قسم کی سودہ بازی کی اجازت نہیں دے گی۔