تازه خبریں

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ اندرون سندھ تک وسیع کیا جائے صدر شیعہ علماء کونسل سندھ

پیکس کمیٹی کا عمل تعطل اور کاسُستی کا شکار نظر آتا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد مختلف علاقوں میں اپنا نفوذ قائم کرتے جارہے ہیں)
کراچی میں دہشت گردوں اور انتہاں پسندوں کے خلاف جاری آپر یشن کو مزیدوسعت دی جائے)
دہشت گردوں نے کراچی کو چھوڑ کر اندرون سندھ میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کر نا شروع کر دیا ہے) (علامہ ناظر عباس تقوی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف جاری آپر یشن کو مزیدوسعت دی جائے گز شتہ دنوں کراچی کے علا قے کٹی پہاڑی کے قر یب امام بارگاہ سقائے سکینہ پر دہشت گردوں کی جانب سے کر یکر بم پھنکا گیا جس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ اب تک کراچی میں انتہا پسندوں کا نیٹ ورک موجود ہے اس لیے ہم یہ مطالبہ کر تے ہیں کہ بلا تفر یق دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپر یشن کو وسعت دیکر پورے سندھ میں دہشت گردوں کے خلاف آ پر یشن کیا جائے اور اُن کی کمین گا ہوں کو ختم کیا جائے کیو نکہ دہشت گردوں نے کراچی کو چھوڑ کر اندرون سندھ میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کر نا شروع کر دیا ہے جس کی بناء پر داخلی سندھ کے بہت سارے اضلاع حساس صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں اپیکس کمیٹیاں بنانے کابنیادی مقصد ہی دہشت گردوں کو کنٹرول کرنا اُن کے نیٹ ورک کو توڑنا اور مجرموں کو سزائیں دینا تھا لیکن اپیکس کمیٹی کا عمل تعطل اور کاسُستی کا شکار نظر آتا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد مختلف علاقوں میں اپنا نفوز قائم کرتے جارہے ہیں جو آئندہ کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے شکار پور ،جیکب آباد اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد اپنے قدم جمارہے ہیں ہم رینجرز اور سیکورٹی فورسز کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہیں کے وہ جس طرح سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں مصروف عمل ہیں اس میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ دہشت گردوں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے