تازه خبریں

ساڑھے 3 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس لوٹ گئے

کہ رواں سال پاکستان سے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس لوٹ گئے ہیں اور مزید لاکھوں کی واپسی متوقع ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی (یو این ایچ سی آر) کا کہنا تھا کہ پاکستان سے واپس آنے والے رجسٹر افغان مہاجرین کی تعداد 200000 تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم رواں ہفتے افغانستان میں انسانی امور کے حوالے سے رابطے کے آفس (او سی ایچ اے) کی جانب سے وطن واپس لوٹنے والے غیر رجسٹر افغان مہاجرین کے اعداد وشمار بھی جاری کیے گئے ہیں۔

او سی ایچ اے نے جاری بیان میں کہا ہے کہ اب تک وطن واپس لوٹنے والے غیر رجسٹر افغان مہاجرین کی تعداد 162186 اور رجسٹر افغان مہاجرین کی تعداد 207236 تک پہنچ چکی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جولائی سے اب تک وطن واپس لوٹنے والے افغان مہاجرین کی تعداد 333000 ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے اختتام تک مزید 446000 افغان مہاجرین کے وطن لوٹنے کی توقع کی جارہی ہے، جن میں غیر رجسٹر اور رجسٹر، دونوں قسم کے افغان مہاجرین شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ 2009 سے پاکستان افغان مہاجرین کی وطن واپسی پر مسلسل زور دے رہا ہے اور اس حوالے سے حکومت نے مارچ 2017 کی حتمی تاریخ بھی دے رکھی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے باعث ملک میں اندورنی طور پر نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے، جو افغان حکومت کیلئے مزید مشکلات کا باعث ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال میں خانہ جنگی کے باعث گھر بار چھوڑ کر ملک میں نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کی تعداد 323500 ہوگئی ہے۔

او سی ایچ اے کے مطابق غیر رجسڑ مہاجرین کی کثیر تعداد افغانستان کے صوبے نگر ہار اور وفاقی دارالحکومت کابل میں آباد ہوئی ہے۔

ادھر افغان مہاجرین پاکستان میں کئی دہائیوں سے آباد ہیں اور افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے باعث وہ اس اُمید کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں جاری کشیدگی کی وجہ سے انھیں پاکستان میں ہی رہنے کی اجازت دے دی جائے گی، تاہم پاکستان اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرچکا ہے۔

35 سال بعد افغانستان لوٹنے والے ایک مہاجر محمد انور کا کہنا تھا وہ بہت جلد پاسپورٹ کے ہمراہ پاکستان دوبارہ آئے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ 1979 میں سوویت یونین اور اس وقت کے روس نے افغانستان پر فوج کشی کی تھی جس کی وجہ سے لاکھوں افغانی اپنے گھر بار چھوڑ کر اطراف کے ممالک میں مہاجرین کی حیثیت سے پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہوگئے تھے، جن میں پاکستان، ایران سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

یو این ایچ سی آر کے رواں سال جاری ہونے والے اعدا وشمار کے مطابق 14 لاکھ رجسٹر افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں اور مہاجرین کی دیکھ بحال کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان میں غیر رجسٹر افغان مہاجرین کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔