تازه خبریں

علامہ سبطین سبزواری کا فضل عباس شمسی شہید کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ

علامہ سبطین سبزواری کا فضل عباس شمسی شہید کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ 
 دہشت گرد گروہ ناکامی کے بعد، توہین رسالت کے جھوٹے الزامات لگا کر فساد ات کروانا چاہتا ہے، علامہ سبطین سبزواری
 ختم نبوت ، احترام انبیا تشیع کے ایمان کاحصہ ہے،ذاتی دشمنی ، تعصب اور بغض اہل بیتؑ میں لگائے گئے الزام کی کوئی حیثیت نہیں، گفتگو 
راولپنڈی۔ اسلام آباد(    ) شیعہ علماکونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ دہشت گرد تکفیری گروہ اپنے مذموم مقاصد کی ناکامی کے بعد اب توہین رسالت کے جھوٹے الزامات لگا کر فساد ات اور قتل و غارتگری کروانا چاہتا ہے۔جس کے نتائج معاشرے کے لئے خطر ناک ہوں گے۔ختم نبوت اور احترام انبیا تشیع کے ایمان کاحصہ ہے۔ذاتی دشمنی ، تعصب اور بغض اہل بیتؑ میں لگائے گئے الزام کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ الزام عائد کرنے والا خود مجرم ہے۔پسرور میں ہونے والے سانحہ پر ملت جعفریہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔شہید فضل عباس شمسی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ مکار دشمن کی شیطانی چالوں کو سمجھتے ہیں، ہم سے زیادہ محبت رسالت کا کوئی دعویدار نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پسرور میںدہشت گروہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ہاتھوں شہید ہونے والے فضل عباس شمسی کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر کیا۔شیعہ علما کونسل سیالکوٹ کے صدر ملک بختاور، تحصیل صدر شاہد کاظمی اور جعفریہ یوتھ کے رہنما سید تقلین بھی ان کے ہمراہ تھے۔شہید فضل عباس شمسی کے چچا اظہر حسین شمسی کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ فرقہ پرست خارجی دہشت گرد ملک بدامنی کا کھیل ایک بار پھر کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کا پہلے بھی پرامن حکمت عملی سے مقابلہ کیا ، اب بھی کریں گے۔ کسی بازاری گروہ کے ہاتھوں معاشرے کو ایک بار پھر یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، محض شیعہ دشمنی میں شفیق ڈوگر کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا ، تو فضل عباس شمسی عدالتوں کا سامنا کرنے ہی ملک واپس آیا تھا، اگر ریاست کی بجائے افراد نے قتل کرنے ہیں تو یہ ریاستی اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ جرائم کا ریکارڈ رکھنے والا شفیق ڈوگر پولیس کا چہیتا کیوں ہے۔