عید الفطر 1439 ھ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام
مختلف مذاہب ، معاشروں، تہذیبوں اور خطوں میں عید کا تصور مختلف اور جدا ہے جس کے بعض پہلووں سے اتفاق اور بعض سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اگرچہ عید کا عمومی اور دنیاوی تصور فقط خوشی‘ نشاط‘ سرگرمی‘ گرمجوشی اور مسرت کے ساتھ مربوط نظر آتا ہے۔لیکن اسلام میں عید کا تصور قدرے حسین ، مسحور کن ، جاذب اور دنیوی و اخروی لحاظ سے فائدہ مند بنایا گیا ہے ۔مسلمانوں کے ہاں عید کے موقع پر بھر پور زندگی سے لطف اندوز ہوئے خداتعالی کی عبودیت اور اس کی نعمات کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ خدا کی اطاعت اور عبادات کے بعد سرخروئی کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایسے امور سے مکمل پرہیز اختےار کرنے کا عہد کیا جاتا ہے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔چنانچہ قول معصوم ؑ کی روشنی میں مومن کے لئے ہر وہ دن روز عید قرار پایا ہے جس روز وہ معصیت خدا نہ کرے۔اسی طرح اسلامی معاشروں میں عید کا رائج فلسفہ یہی ہے کہ رمضان المبارک کے متبرک ایام اور روزوں کے اختتام پر اعمال کی قبولیت اور تزکیہ نفس میں کامیابی پر عید کا دن منایا جاتا ہے اور خوشی کا اظہار عید نماز کی ادائیگی اور دیگر مختلف انداز سے کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت عید کا مفہوم اور تصور اس سے قدرے وسیع اور مختلف ہے۔ ہم صحیح معنوں میں تب ہی عید منانے کے حقدار اور سزاوار ہیں کہ جب ہم نے اپنی ذات کی اصلاح ، نفس کے تزکیہ اور انفرادی طور پر تعمیر کردار کرنے کے بعداپنے معاشروں میں معاشرتی جرائم‘ گناہوں‘ برائیوں‘ مشکلات اور مسائل کا خاتمہ کرلیا ہو۔ مظلومین‘ محرومین اورپسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق فراہم کر دیئے ہوں اور معاشرے میں عادلانہ نظام‘ اسلامی روایات اور امن و امان قائم کردیاہو۔
عید کا دن ہمیں اتحاد جیسے قرآنی اور نبوی فریضے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس د ن تمام امت مسلمہ بلا تفریق مسلک و فرقہ عید کی خوشیاں مناتی ہے اور مسلمان ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں۔ خوشی کا یہ موقع وحدت کا ایک عظیم مظاہرہ بھی ہے۔ در اصل عید کے موقع پر مبارک باد کے مستحق ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتحاد جیسے عظیم فریضے کے لئے کام کیا اور قربانیاں دیں۔ ہمیں اس اتحاد کو آئندہ عید تک اسی جوش و جذبے اور خلوص و ولولے کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا تاکہ ہم اسلامی طبقات میں اتحاد پیدا کرکے معاشرے کو مسائل و جرائم سے پاک کرسکیں۔
وطن عزیز پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں اگرچہ عید کا دن تو ہرسال اپنی روایت کے مطابق طلوع ہوتا ہے لیکن حقیقی عید کا تصور ابھی قائم نہیں ہو سکا اور ہم نے ابھی اصلی آزادی اور اصلی عید کا لطف نہیں اٹھایا ہر سال کی طرح حالیہ عید پر بھی ہمیں غربت‘ جہالت‘ معاشرتی اور تعلیمی مسائل‘ مختلف امراض‘ جرائم اور امن و امان خاص طور پر دہشت گردی‘ بدامنی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے
ہمیں عید الفطر کے دن اس عہد کی بھی تجدید کرنا چاہیے کہ ہم وطن عزیز کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد کے ثمرات و نتائج کو محفوظ رکھیں گے‘ ملک کو عادلانہ مملکت بنانے کے لئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے‘ اخوت‘ اتحاد‘ محبت اور وحدت کا سفر جاری رکھیں گے‘ عالم اسلام کے مسائل و مشکلات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے حصہ کی جدوجہد کرتے رہیں گے‘ دنیا بھر میں چلنے والی آزادی و حریت کی تحاریک کی ہر ممکن اخلاقی مدد اور ان کے ساتھ تعاون وہمکاری کی کوشش کرتے رہیں گے۔ ان مسائل میں بیت المقدس کی آزادی‘ کشمیری مسلمانوں کی حق خود ارادیت سرفہرست ہیں۔ جبکہ پاکستان سے منفی سیاست کے خاتمے‘ دہشت گردی و فرقہ پرستی کے خاتمے‘ مذہبی‘ گروہی اور لسانی تعصبات کے خاتمے‘ جہالت‘ بے روزگاری‘ بدعنوانی‘ رشوت ستانی‘ بے راہروی‘ فحاشی ‘ دیگر اخلاقی جرائم اور تمام معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کرتے رہیں گے اور ملک کو جنت کا گہوارہ بناکر دم لیں گے۔