تازه خبریں

مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام : محمد حنان صدیقی



قرآن مجید، فرقان حمید کے مطابق جب خداوندِ متعال نے انسان کو خلق کرنے کا ارادہ کیا تو ملائکہ جیسی معصوم مخلوق نے انسان کی خلقت پر کہا کہ یہ فساد برپا کرے گا لیکن خداوند متعال نے فرمایا کہ

“إني أعلم ما لا تعلمون”
(جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے).

یعنی انسان کی خلقت ایک خاص حکمت کے تحت کی گئی اور اسی بات کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا کہ

“افحسبتم انما خلقنكم عبثا”
(کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تمہیں بیکار پیدا گیا ہے).

انسان خدا کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی ہے. اسی لئے حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہوا کہ

“من عرف نفسه فقد عرف ربه”
(جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے گویا خدا کو پہچان لیا).

مخلوق کو خدا شناسی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ نے اپنے معصوم نبیوں کو مختلف اقوام کی طرف پیامبر بنا کر بھیجا اور اسی سلسلے کی آخری ہستی کا نام محمدؐ مصطفٰی ہے.

ابرہہ کے لشکر کا خانہ کعبہ پر حملے کا مشہور قصہ رونما ہوئے پہلا سال ہی تھا کہ 12 یا 17 ربیع الاول(بنا بر اختلافِ روایت) کو بنو ہاشم کے چشم و چراغ حضرت محمدؐ مصطفٰی بی بی آمنہؑ کی بابرکت گود میں متولد ہوئے. آپؐ  کی ولادت سے قبل ہی آپؐ  کے والد محترم حضرت عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا. چھ سال کی عمر میں والدہ محترمہ کا سایہ بھی نہ رہا، یوں آپؐ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے. آپؐ  کے دادا حضرت عبدالمطلبؑ نے کفالت کی ذمہ داری سنبھالی اور بعد از وفاتِ حضرت عبدالمطلبؑ، آپؐ  کے شفیق چچا حضرت ابو طالبؑ نے آپؐ کی کفالت کی ذمہ داری کو بطریقِ احسن انجام دیا.

آج 12 ربیع الاول، اس ہستی کا یوم ولادت ہے جس کے بارے میں خود خدا نے حدیثِ قدسی میں فرمایا کہ

“لولاك لما خلقت الافلاک”
(اے رسول! اگر آپؐ نہ ہوتے تو میں کائنات خلق ہی نہ کرتا).

آپؐ کی عظمت و فضیلت کو بیان کرنے کے لئے صرف ایک فقرہ ہی کافی ہے کہ آپؐ وجہ تخلیق کائنات ہیں. اور رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ

“أول ما خلق الله نوري”
(اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرا نور خلق کیا).

خدا نے آپؐ کو پوری کائنات اور تمام انبیاء کا سردار بنا کر بھیجا اور ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا جو جہالت اور گمراہی سے پُر ہو چکی تھی. وہ بیت اللہ جو بابرکت اور عالمین کی ہدایت کے لئے بنایا گیا، وہ بتوں سے بھر چکا تھا اور اس میں لوگ برہنہ طواف کرتے تھے. لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیتے اور عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا. غلاموں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا اور عدل و انصاف صرف کمزور لوگوں تک محدود ہوگیا تھا. قرآن مجید تو متعدد مقامات پر گواہی دیتا ہے کہ آپؐ کی آمد سے قبل لوگ واضح گمراہی میں مبتلا تھے. لیکن آپؐ  کے مبعوث بہ رسالت ہونے کے بعد جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے. معاشرے کے ہر فرد سے برابری کا سلوک روا رکھا گیا. جزا و سزا کو معاشرے کے ہر فرد کے لئے یکساں لاگو کیا گیا، عورت کا مقام اس طرح بحال ہوا کہ ماؤں کے قدموں تلے جنت، بیٹی کو رحمت اور بیوی کو نصف ایمان کا ذریعہ قرار دیا گیا اور بلاشبہ اس کامیابی کے حصول کے لئے لازوال قربانیاں دی گئیں. آپؐ اور آپؐ  کے اصحاب کو بے حد ستایا گیا. قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ پہلے زمانے میں جو انبیاء بھیجے گئے، لوگوں نے انہیں ستایا، ان کی پیروی نہ کی اور حتٰی کہ بنی اسرائیل نے تو انبیاء کو قتل تک کیا لیکن اس سب کے باوجود رسول اکرمؐ  نے فرمایا کہ

“اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا.”
اسی طرح آپؐ پر پتھر برسائے گئے، جادوگر و دیوانہ کہا گیا لیکن مجال ہے کہ پایۂ استقلال میں کوئی لرزش آئی ہو. اسی لئے تو کہتے ہیں کہ

“عزت بھی بڑی تھی، مصیبت بھی بڑی تھی.”

آپؐ  کی زندگی کا ایک ایک پہلو لائقِ قدر دانی اور قابلِ تقلید ہے. زندگی کے ہر میدان میں آپؐ  کی اطاعت میں ہی فلاح و کامیابی کا راز مضمر ہے. خداوند متعال نے فرمایا کہ

“جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔”
(سورہ نساء، آیت 13)

آپؐ  کی سیرت و کردار میں اگر دیانت اور صداقت کو دیکھیں تو عرب کے بدو بھی آپؐ سے متاثر ہو کے صادق و امین کے لقب سے پکارتے تھے، وہ جانتے تھے کہ زمین و آسمان بدل سکتے ہیں لیکن عبداللہ کا لعل نہ جھوٹ بول سکتا ہے اور نہ ہی امانت میں خیانت کر سکتا ہے. اسی لئے آپؐ جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو بے شمار ظلم و ستم سہنے کے باوجود حضرت علیؑ کے ذمے یہ کام لگایا کہ کفار کی امانتیں ان کے سپرد کر کے پھر مدینہ آئیں.

اخلاق کے لحاظ سے دیکھیں تو آپؐ  کامل نظر آتے ہیں. بچوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ نہایت احترام سے پیش آتے. سب کے ساتھ سلام میں پہل کرنا آپؐ  کا شیوہ تھا۔
آپؐ  کے اخلاق کی گواہی قرآن مجید میں خدا نے دی کہ

“انك لعلى خلق عظيم”
(بے شک آپؐ  اخلاق کی اعلٰی بلندیوں پر فائز ہیں)۔

اور رسول اکرمؐ نے اپنی بعث کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا کہ

“انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق”
(بے شک مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہے).

عبادتِ خدا میں دیکھیں تو رسول اکرمؐ سے بڑھ کر کوئی عبادت گزار نہیں. جن کو خداوند متعال نے خود فرمایا کہ

“اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے.
(سورہ اسرا، آیت 79)

پھر آپؐ ساری رات کھڑے ہو کر عبادت کرتے، یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں میں ورم پڑنے لگے تو خدا نے سورہ مزمل میں فرمایا کہ

“اے میرے کملی والے رسول! رات کو کم کھڑا کرو، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا تھوڑا بڑھا دو اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو.”
(سورہ مزمل، آیات 1 تا 4)

اسی کثرت عبادت کو دیکھ کر لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ کو اتنی عبادت کی کیا ضرورت ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ میں خدا کا شکر گزار بندہ بنوں؟

عفو و درگزر میں دیکھیں تو آپؐ کی مثل کوئی نہ تھا. تاریخ نے آپؐ  کی سیاست کے دو اہم پہلو بیان کئے، ایک اس وقت جب آپؐ اپنے صحابہ کے ہمراہ عمرہ کی غرض سے مکہ کی طرف عازمِ سفر ہوئے لیکن مکہ پہنچنے سے قبل ہی کفار نے آپؐ  کے قافلے کو روک لیا اور عمرہ نہ کرنے دیا. اس موقع پر آپؐ نے زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھ کے مظلومانہ سیاست کرتے ہوئے کفار کی تقریباً تمام شرائط کو تسلیم کر کے صلح حدیبیہ کی اور عمرہ کیے بغیر ہی واپس لوٹ آئے. سب سے بڑی بات یہ کہ اس صلح کے بعد وہاں موجود کچھ لوگوں کو آپؐ  کی رسالت پر بھی شک ہوا لیکن وہ لوگ یقیناً حکمت و مصلحت سے عاری تھے.
دوسرا موقع اس وقت دیکھنے کو ملا جب آپ نے 8 ہجری کو مکہ فتح کر لیا اور آپ کے پاس مکمل اختیار تھا کہ چاہیں تو سب مشرکین کو ان کے کیے کی سزا دیں لیکن اس موقع پر سزا دینے کی قدرت و طاقت ہونے کے باوجود اصل شجاعت کا ثبوت دیتے ہوئے فرمایا

“آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے.”
اور اس موقع پر ایسے شخص(ابو سفیان) کے گھر پناہ دینے کا کہا جو فتح مکہ سے قبل آپؐ کا بدترین دشمن تھا.

آپؐ اپنی اھل بیتؑ سے بہت محبت رکھتے تھے اور یہ محبت رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے اس مقام و مرتبہ کی بنیاد پر تھی جو خدا نے انہیں عطا کیا تھا. اپنی بیٹی زھراؑ، بھائی علیؑ اور اپنے حسنینؑ شریفین سے بے پناہ پیار تھا. اسی لئے جب رسول اکرمؐ سے لوگوں نے اجرِ رسالت کے بارے میں پوچھا تو حکمِ خدا سے آپؐ نے فرمایا

“میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ میرے قرابت داروں سے مودت کرو.”
(سورہ شورٰی، آیت 23)

آپؐ  کی عظمت کا ایک اور پہلو اپنی اُمت سے محبت کا تھا. اپنی امت کے لئے دعائے مغفرت کرتے. پچھلی امتوں پر نافرمانئ خدا کی وجہ سے آنے والے عذابوں کی وجہ سے آپؐ  کو اپنی امت کی فکر تھی لیکن خداوندِ متعال کا جتنا شکر کریں، کم ہے کہ اس ذات نے اپنے حبیبؐ  کے صدقے پچھلی امتوں پر نازل ہونے والے عذاب اس اُمت پر نازل نہ کیے بلکہ اُس ستّار العیوب نے آپؐ  کے اُمتیوں کے عیوب کی پردہ پوشی بھی کی تاکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے سامنے شرمندہ و رسوا نہ ہو سکے.

آپؐ کی سیرت و عظمت کوئی کیا بیان کرے. الفاظ میں آپؐ کی عزت و عظمت بیان نہیں کی جا سکتی. خدا نے آپؐ کو بشیر و نذیر، باعثِ ہدایت اور وسیلۂ نجات، شافِع روزِ جزا، سید المرسلین اور عالمین کے لئے رحمت قرار دیا. آپؐ  کی بعثت کو مومنین پر ایک عظیم احسان قرار دیا، جیسا کہ سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا کہ

“درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس(اللہ) کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے.”
(سورہ آل عمران، آیت 164)

آپؐ کی ذات پر تو خدا وند متعال اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور خدا نے اہل ایمان کو بھی حکم دیا کہ میرے نبی پر درود بھیجو. آپؐ نے پھر حکم دیا کہ مجھ پر دُم کٹی صلوات نہ بھیجو. صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دُم کٹی صلوات کا کیا مطلب؟ تو فرمایا کہ ایسی صلوات جو مجھ پر تو بھیجی جائے لیکن میری آل کو اس میں شامل نہ کیا جائے تو آپؐ کی آل کو بھی صلوات میں شامل کرنا آپؐ کا حکم ہے اور آپؐ  اُس وقت تک بولتے نہیں جب تک خدا کی وحی نہ ہو، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ

“وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا.”
(سورہ نجم، آیت 3)

آپؐ کی عظمت کے سامنے تو مولا علیؑ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ

“أنا عبد من عبيد محمد”
(میں تو محمدؐ کے غلاموں میں سے ایک ادنٰی غلام ہوں).

آپؐ کی زندگی کا ایک ایک پہلو اپنے مقام پر غور طلب ہے. آپؐ کے میلادِ مسعود کے پُر مسرت موقع پر ہمیں چاہئے کہ آپؐ کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپؐ کی سیرتِ طیبہ پر بھی غور کریں اور اپنی طرف سے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں. خداوندِ متعال ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے اور روزِ محشر، اپنے حبیبؐ  کی شفاعت نصیب فرمائے.
(آمین یا رب العالمین)

“مصطفٰی! جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام”