تازه خبریں

معاشرے کے مسائل اور معاملات سے بے طرفی اور لاتعلقی غیر منطقی روش ہےصدر محمد شبیر حافظی

سکردو(پ۔ر) گلگت بلتستان کے موجودہ صورت حال اور خواص و عوام کی ذمہ داری کے عنوان پر منعقدہ ایک تربیتی نشست میں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان بلتستان ڈویژن کے صدر محمد شبیر حافظی نے کہا کہ انسانی فطرت میں زندہ دلی ، غیرت اور حمیت پائے جاتے ہیں ۔ لیکن غیر شعوری ، غیر علمی ، اور نامناسب ماحول اور خارجی عوامل ان انسانی اخلاقی اوصاف پر غالب آکر ایک انسان معاشرہ انسانی میں ہونے والی نا انصافیوں اور مظالم پر خاموش رہتا ہے۔ یہ روش و رفتار ہدایت انسانی کی خاطر مبعوث ہونے والی انبیاء کرام ؑ کی سیرت طیبہ کے عین منافی ہیں ۔ گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل اور عوامی مشکلات وغیرہ انہی غیر عاقلانہ طرز تفکر اور انداز غیر منطق کا ہی نتیجہ ہے۔ سماج میں بعض اوقات ایک خاص مرحلہ آتا ہے جہاں خواص وعوام کو ایک خاص نوعیت کی بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ معاملات سے مربوط رہنا ہوتا ہے ۔ وہی بصیرت او رسنجیدگی اعلی اہداف کی نشان دہی اور آنے والے وقتوں میں حالات کے درست سمت چلنے کی بنیادی بنا ہوتا ہے ۔ اس خاص مرحلے پر خواص بے طرف ہوجائیں اور عوام جذباتیت کی بھینٹ چڑھ جائے تو آنے والا وقت صرف چیخ و پکار اور الجھن جیسے ماحول بن جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی تربیت علمی انداز میں انتہائی ضروری ہے ۔ جب تک علمی شعور کے ساتھ سماجی مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاتا اور منطقی طرز سیاست کو اختیار نہیں کیا جاتا یہ مسائل رہیں گے۔ الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں اور مملکت خداداد پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اسلام ہی وہ نسخہ کیما ہیں جو ہر درد کا علاج ہیں ۔ اسلام ہی تمام مسائل اور مشکلات کا حل پیش کرتا ہے اسلام ہی میں تمام اقدار انسانی محفوظ ہیں۔ لیکن اسلام کی تعبیر و تشریح اور توجیہ اس انداز سے کرنے کی ضرورت ہے جس کا اسلام ہی تقاضہ کرتی ہے۔معاشرے میں عام آدمی تو درکنار بعض پڑھے لکھے لوگ بھی کہتے سنائی دیتا ہے کہ اسلام کا سیاست سے کیا تعلق ؟؟ علما ء کا سیاست سے کیا رشتہ وغیرہ ۔ یہ نعرہ لاعلمی کی بنیاد پر یا مغرب زدہ ازہان کی ایجاد ہے ۔ جو عوام کو بنیادی اصولوں سے دور رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ ، نعرہ سبب تخلیق پاکستان ، پاکستان کے آئین میں اسلامی دفعات اور ادارے وغیرہ اور ان سب حقائق کے باوجود اسلام کا سیاست سے کیا تعلق ؟ یہ سوال انتہائی جاہلانہ اور مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں۔ جب خواص علمی انداز سے الہی سیاست اور اسلام کا فلسفہ حکومت اور عوام کی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر نہیں کرینگے عوام ہر دلفریب نعروں پر پھول نچھاور کرتے رہیں گے۔ اسلام میں الحمد اللہ ایسے نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے مغرب کے ایسے عوام فریب نعروں کو اپنے عمل وکردار سے پاؤں تلے روند کے رکھ دیا۔ اور عملی طور پر معاشرے انسانی کے مسائل کے حل پیش کیے ۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے ایک خاص مائنڈ سیٹ اسلام کے خلاف ایک گہرے سازش کو تقویت فراہم کر رہے ہیں ۔ اور یہ ہوا گلگت بلتستان کو بھی چھو رہی ہے لیکن ہم پر امید ہیں یہاں اسلام کی بنیادیں باقی علاقوں کی نسبت سینکڑوں علماء کرام کی ہدایات اور تبلیغ کی بدولت مضبوط ہیں اور معاشرے میں اکثریت اسلام پسند فکر رکھنے والے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ اسلام پسند طبقہ کی قدر کی جائے اور بابصیرت علمائے اعلام کی روش و رفتار سے استفادہ کرئے اور انکی حکمت آمیز رائے کا احترام کیا جائے ۔ اسی میں معاشرے کی بقا پوشیدہ ہے۔ اور معاشرے کی سب سے زیادہ ضرورت یعنی قیام امن ہمیشہ یقینی رہے گی۔