پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں مولائے کائنات کی شب شہادت کا غم
جعفریہ پریس : پاکستان سمیت پوری دنیا میں امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطالب علیہ الصلوات والسلام کے سوگ میں مجالس اور عزاداری کا سلسلہ شب انیس رمضان سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ یہ سلسلہ روزے دار مسلمانوں نے بیس رمضان المبارک کو بھی جاری رکھا اور شب اکیس رمضان المبارک آنے کے ساتھ ہی مجالس عزا میں وسعت آگئی اور ماتمی دستوں کے برآمد ہونے کے سلسلہ شروع ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطالب علیہ الصلوات والسلام کا روضہ مبارک آپ کے زائرین اور سوگواروں سے مملو ہے۔ نجف اشرف میں روضہ امیرالمومنین علیہ الصلوات والسلام میں عراقی زائرین اور عزاداروں کے ساتھ ہی دوسرے ملکوں کے زائرین بھی شب اکیس رمضان کی عزاداری اور دوسری شب قدر کے مخصوص اعمال انجادم دینے کے لئے موجود ہیں۔
نجف اشرف کے ساتھ ہی کوفے، کربلائے معلی، کاظمین، سامرا کے روضوں میں بھی سوگواران امیرالمومنین عزاداری اور سینہ زنی میں مصروف ہیں۔
پاکستان کے بھی سبھی چھوٹے بڑے شہروں اور قریوں میں مولائے کائنات کی شب شہادت کی مناسبت سے عزاداری کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے دارلحکومت سمیت پورے ملک میں یوم علی ؑ کے جلوس برآمد ہونگے مختلف مقامات پر مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے لاکھوں کی تعداد میں افراد مجلاس عزا میں شریک ہیں
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم شہادت 21رمضان المبارک کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ رسول خدا سے براہ راست رشتے، تعلق‘ تربیت‘ سرپرستی اور بچپن سے لیکر زندگی کے تمام مراحل تک جلوت و خلوت میں قرابت کا سبب ہے کہ امیرالمومنین ؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنین ؑ کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ اگرچہ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اور حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے امیر المومنین ؑ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو چھپانے کی بہت کوششیںکی گئےں لیکن تاریخ کے جھروکوں سے وہ تمام کامیابیاں اور اصلاحات آج بھی نظر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین ؑکی ذات کا ایک منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ اسی عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دور حکومت میں مثبت اور تعمیری سیاست کی داغ بیل ڈالی۔ حزب مخالف کی سازشوں اور منفی حربوں کا حکمت عملی ، دانش مندی اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو دیکھتے ہوئے مقابلہ کیا حکمرانی کا خدمت کا ذریعہ اور خداکی طرف سے عطا کردہ امانت قرار دیا اور اس کی ایسے ہی حفاظت کی جس طرح خدا کی امانتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔انکے اقوال و فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔