استکباریت، سامراجیت اور صہیونیت کے مظالم کو کھلی چھوٹ، پرامن ممالک پر پابندیاں عالمی دہرے معیار کا عکاس ہیں، علامہ ساجد نقوی
جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا بنیادی حق ہے، خطرناک ہتھیار استعمال کرنے والوں کو پابند کیا جانا چاہیے تھا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
سمندری حدود کو جنگی جنون اور تسلط پسندی سے شدید خطرات لاحق، یہی ظالمانہ روش دنیا کو نہ ختم ہونے والی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے، علامہ ساجد نقوی
راولپنڈی/اسلام آباد، 24 ستمبر 2026ء: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ استکباریت، سامراجیت اور صہیونیت کے مظالم کو کھلی چھوٹ جبکہ پرامن ممالک پر پابندیاں عالمی دہرے معیار کی عکاس ہیں۔ جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا بنیادی حق ہے، خطرناک ہتھیار استعمال کرنے والوں کو پابند کیا جانا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ پرامن جوہری پروگرام رکھنے والے ممالک آج طرح طرح کی ظالمانہ پابندیوں اور حملوں کی زد میں ہیں۔ سمندری حدود کو جنگی جنون اور تسلط پسندی سے شدید خطرات لاحق ہیں، یہی ظالمانہ روش دنیا کو نہ ختم ہونے والی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عالمی بحری دن (World Maritime Day) اور جوہری تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ عالمی بحری دن 2026ء کے لیے بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) نے ’’From Policy to Practice: Powering Maritime Excellence‘‘ کا موضوع مقرر کیا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ عموماً عالمی بحری دن کے موقع پر اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی سمندری حدود کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ پرامن عالمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے لیے نہ صرف سمندری راستے محفوظ رہ سکیں بلکہ پسماندہ ممالک بھی اپنی اقتصادیات بہتر بنا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے جس جنگی جنون کا زمین کے ساتھ سمندر بھی سامنا کر رہا ہے، اس نے عالمی اقتصادیات پر نہ صرف مضر اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ یہ جنگی جنون اور تسلط پسندی دنیا کے لیے خطرناک ترین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم نے بھی 2026ء کے عالمی بحری دن کے موقع پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تنازعات کے باعث سمندری تجارت اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ دوسری جانب جوہری تخفیفِ اسلحہ کا عالمی دن بھی ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب ماضی میں خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے استکباری و سامراجی ممالک نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملے کیے اور آج ایک پرامن ملک کے پرامن جوہری مقاصد میں نہ صرف حائل ہیں بلکہ بغل بچے صہیونی قابض ریاست کے ساتھ مل کر حملہ آور ہوچکے ہیں اور ایک اور تہذیب کی تباہی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں، اسے کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس سے عالمی دہرے معیار اور طاقت کے اندھا دھند استعمال کی ذہنیت واضح ہوچکی ہے اور یہی صورتحال دنیا کو نہ ختم ہونے والی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ عالمِ انسانیت، خصوصاً اقوام متحدہ، تخصیصی ایام منانے کے ساتھ ساتھ ہوش کے ناخن لے اور دنیا کو نگلتی اس تباہی کے سامنے اپنے اثر و رسوخ کا بند باندھے۔