بحر ہند کا خطہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت اختیار کر چکاہے
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بحر ہند کا خطہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت اختیار کر چکاہے ۔ یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ ،جنوبی ایشیا ء ،افریقہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا میں تیل وگیس کے 30فیصد ذخائر اس خطے میں موجود ہیں۔ عالمی تجارت کا بڑا حصہ بحر ہند کے سمندری راستوں سے ہوتا ہے ۔
کراچی میں 7ویں بین الاقوامی 3روزہ میری ٹائم کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تجارت کا بڑا حصہ بحر ہند سے جاتا ہے۔ علاقے میں اقتصادی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں ہم یہاں کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے اور ہر طرح کے میری ٹائم سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سےپاکستان کی سمندری حدود خطے کیلئے اہمیت اختیار کر گئی ہے اورپاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر تجارت کا انحصار سمندر پر ہے مضبوط میری ٹائم سکیورٹی پاکستان کو عالمی تجارت میں نمایاں مقا م دلائے گی ۔ صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی تعمیر کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ ہو گیا ہے بھارت نے بحر ہند میں نئے آبدوز اور میزائلوں کے تجربے کیے ہیں علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت امن کیلئے چیلنج ہے۔
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاءاللہ نےمیری ٹائم کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ تجارت کے فروغ کیلئے دنیا کی نظریں سمندر ی راستوں کی سکیورٹی پر مرکوز ہیں ان راستوں کو محفوظ بنا کر ہی معیشت مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔ایڈمرل ذکا اللہ نے کہا کہ سمندری حدود کی حفاظت کیلئے دوسرے ملکوں کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔
پاک بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ پاک بحریہ میری ٹائم سکیورٹی اور اس حوالے آگاہی پیدا کرنے کیلئے پر عزم ہے توقع ہے کہ میری ٹائم کانفرنس عالمی سطح پر رابطوں کے فروغ کا ذریعہ ہو گی