گلگت بلتستان کا سب سے بنیادی اور اہم مسئلہ آئینی حقوق کا ہے
قومی تشخص اور حیثیت کے بغیر ہر قسم کی ترقی کا وعدہ طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں۔
سیاسی رہنمائوں کی اس علاقے سے مخلص ہونے یا نہ ہونے کا معیار واضح ہے ۔
(ریحانہ عبادی ممبر گلگت بلتستان اسمبلی اسلامی تحریک پاکستان)
سکردو (پ۔ر) گلگت بلتستان اسمبلی میں اسلامی تحریک پاکستان کی خاتون ممبر اسمبلی ریحانہ عبادی نے گلگت بلتستان کے موجودہ حالات پر اپنے بیان میں کہا کہ سرزمین گلگت بلتستان ملک کا وہ واحد محروم خطہ ہے جس کی جغرافیائی ، سیاسی، سیاحتی، تجارتی ، اور سیاحتی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ اپنی زور بازو پر آزادی حاصل کی نظریہ اسلام و ایمان کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بلا شرط و شروط الحاق کیا ۔ آزادی سے لیکر آج تک ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ یہاں کے سپوتوں نے ملکی دفاع میں وفا کی داستان خون سے رقم کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر قوم وملک کی سربلندی کا باعث بنا۔ لیکن ارباب اقتدار نے ہمیشہ اس خطے کو تعصب اور حقارت کی نگاہ سے نہ صرف دیکھا بلکہ جا بجا اپنی احسان فراموشی ، اور ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں کے غیور عوام کے ذخموں پر نمک پاشی بھی کرتے رہے۔ یہاںکی سیاست مداروں اور سیاست دانوں یا قومی رہنمائوں کی دانائی سمیت طرز سیاست میں عوام کے ساتھ اخلاص کا معیار واضح ہے۔ اب یہ عوام کی بصیرت پر منحصر ہے کہ مستقبل قریب و بعید میں کیا سنجیدگی دکھاتی ہے!! گلگت بلتستان کاسب سے بڑا مسئلہ اس خطے کی آئینی حیثیت کا تعین ہے ۔ وفاق کے سیاسی شعبدہ بازوں کی جانب سے ترقی دینے کے تمام دعوے بغیر آئینی سیٹ اپ کے طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں ۔ ہم مختلف حکومتوں کے طرز حکومت اور انداز سیاست دیکھ چکے۔ سوائے بے بسی کے اور کچھ نظر نہیں آتی۔ ہم سٹیٹ کے مقتدر اداروں سے تقاضہ کرتے ہیں کہ وہ دفاع پاکستان کے مضبوط بازو یعنی گلگت بلتستان کو وہ اہمیت دے جو کہ اسکا حق ہے ساتھ ملکی ترقی اور دفاع کے تقاضوں میں سے اہم ترین تقاضہ ہے۔