تازه خبریں

بطل ِ جلیل علامہ سید عبدالجلیل نقوی

بطل ِ جلیل
علامہ سید عبدالجلیل نقوی   طاہر عبداللہ : دِن ڈھل رہا تھا جب اُسے دَفنا کے آئے تھے سورج بھی تھا ملُول زمیں پر جھُکا ہوا

موت ایک اٹل حقیقت ہے،اِس سے فرار ممکن نہیں اور کل نفس ذائقتہ الموت (ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھناہے)کے الہٰی اورقرانی فرمان کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے اِس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ہراِنسان نے اِس دُنیاسے ایک دن طے شدہ وقت پراپنے پیاروں کو چھوڑکراکیلے ہی رخصت ہونا ہے کیونکہ جب انبیا ؑنہ رہے جب آئمہ ؑنہ رہے تو پھر کس نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے۔
ڈاکٹر عون ساجد نقوی نے جب فون پر علامہ سید عبدالجلیل نقوی کی تشویشناک حالت کی اطلاع دی اورسید کی صحت یابی کی دُعاکی درخواست کی تومحترم غلام حیدرحیدری ،برادر قاسم ضیاء اورمشتاق حسین کے ہمراہ فوراً ہی احمد کمپلیکس پہنچے۔ آپ آئی سی یو وارڈ میں وینٹی لیٹر پر تھے۔ڈاکٹر صاحب مع اپنے میڈیکل سٹاف کے آپ پر جھکے ہوئے تھے ،باربارنبض چیک کررہے تھے اورکمپیوٹرسکرین کی طرف دیکھ رہے تھے ۔آپ کی طبیعت بارے پوچھنے پر ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ایک گھنٹہ پہلے برین ڈیتھ ہوچکی ہے ، پھر بھی سانس کی بحالی کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔دُعاکریں اللہ تعالی سیدپر کرم فرمائے۔آپ کی سانس عارضی طورپربحال تھی اورآنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ہم بارباراندرجاکرآپ کودیکھ کرآتے اورپھر باہر غمگین اورملول دِل سے آپ کی صحت یابی کی دُعاکرتے۔ ایک گھنٹہ بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنی ہرممکن کوشش کرنے کے بعدآپ کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا اور نقوی مرحوم کی رِحلت کی خبر سناکرعزیزواقارب ،لواحقین اورہم سب کو سوگوارکردیا۔نہیں معلوم تھا کہ جس سیدکی عیادت کو جارہے ہیں وہ ہمیشہ کیلئے ہمارے سامنے ہی ہم سے ہمیشہ کیلئے جداہوجائیں گے۔
آپ مرحوم نے 1965ء میں ملہو والی میں سید شیر علی شاہ نقوی کے معززعلمی سادات گھرانے میں آنکھ کھولی۔یہ آپ کی خوش قسمتی اورخوش نصیبی تھی کہ آپ نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی اُس گھرانے اورخاندان کے سربراہ اور دادا (والد کے چچا)کے رُوپ میں زین الاتقیاء حضرت آیت اللہ سید گلاب علی شاہ نقوی کی سرپرستی نصیب ہوئی اورچچاکی شکل میں قائد ملت جعفریہ پاکستان ،نمائندہ ولی ء ِفقیہہ اوربانی اتحادبین المسلمین حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی جیسی قدآورشخصیت موجودتھی ۔ آپ کا نام سید عبدالجلیل حسین رضا رکھاگیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم شیعہ میانی ملتان میں اپنے داد اقبلہ سید گلاب علی شاہ نقوی ، والد گرامی سید شیرعلی شاہ نقوی(جوعربی ادب پرگرفت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اورعلماء کے بقول وہ خلا ابھی تک باقی ہے) اورچچا سید ساجد علی نقوی ،چچازاد سید محمد تقی نقوی اوردیگر اکابرین علماء شیعہ سے حاصل کی۔پھر راولپنڈی میں قائد ملت جعفریہ کے مدرسہ آیت اللہ الحکیم میں سطوحات کی تعلیم کیلئے اپنے چچا کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر اعلی دینی تعلیم کیلئے قم ، ایران تشریف لے گئے۔ جہاں شب وروز کی محنت ِشاقہ سے اعلیٰ دینی تعلیم کے مراحل طے کئے۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت آیت اللہ االعظمی فاضل لنکرانی ، حضرت آیت اللہ پایانی ، حضرت آیت اللہ اعتمادی شامل ہیں۔قم ایران سے مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے 1991ء میں اپنی ملی اورسیاسی فعالیت کا آغازکیا۔ تحریک جعفریہ کی ضلعی صدارت سے ڈویژنل ،پھر پنجاب کی صوبائی صدارت سے مرکزی نائب صدارت تک کاسفرقائد محترم کی زیرسرپرستی، زیرسایہ اوردوراندیشانہ رہنمائی میںاور اپنی شب وروز کی انتھک مخلصانہ کوششوں سے بہت جلد طے کرلیا۔ انتہائی ملنسار اورمحبت آمیز مزاج کی بدولت وہ ہر پیروجواں کے محبوب بنتے چلے گئے۔ مرحوم میں لوگوں کی خدمت کا بے لوث جذبہ بے مثال اورلاجواب تھااوراپنے چچااورسسرکے نقش ِقدم پرچلتے ہوئے اتحادبین المسلمین کے لئے ہرفورم پر پیش پیش رہے ۔ حتی کہ دیگرمسالک کے اکابرین سے بھی اُن کے محترمانہ اوردوستانہ گہرے مراسم تھے ۔اپنوں اورغیروں سب میں آپ کا یکساں احترام کیا جاتا تھا۔آپ نے ملی خدمات کی غرض سے اچھی سواری اورپروٹوکول کو اپنی مجبوری کبھی بھی نہیں بنایا۔جومیسرآیا جو بھی ملا فوراً ہی نکل پڑے اورپہنچ گئے۔دن تو دن بلکہ رات کو بھی اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا،اُس کی چارہ جوئی اوردادرسی کیلئے آپ کو اُن کے دروازے پر پایا گیا۔یہ وہ کٹھن دورتھا جب جنرل مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے تحریک جعفریہ پر پابندی لگادی تھی۔پھر بھی آپ نے جبری پابندی اورعارضی رکاوٹوں کو ملی خدمات میں آڑے نہ آنے دیااورملت کو فعال اورمتحرک رکھنے کی خاطرشب وروز پنجاب کے دورہ جات کئے اورتحصیل لیول تک ملت کے ساتھ مربوط رہے۔ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ قائد ِملت کے بیباک ترجمان ، مضبوط آوازاورطاقتور بازو بنتے جارہے ہیں۔
لیکن قدرت کو کچھ اورمنظور تھا۔ آپ 26ستمبر 2010ء کوایک ریٹائرڈ ڈی آئی جی پولیس کی قل خوانی میں شرکت کی غرض سے بھکرجارہے تھے کہ بلکسر اورتلہ گنگ کے درمیان آپ کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا ۔اِس حادثے میں آپ کا جوان فرزند حمزہ نقوی توسلامت رہا جوگاڑی ڈرائیو کررہا تھا لیکن بدقسمتی سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ہرجگہ ،ہرممکن اوراچھے سے اچھا علاج کرایا گیا لیکن آپ بستر ِعلالت سے نہ اُٹھ سکے۔ قائد ِملت نے ملی اورتنظیمی خلا کوتو بہت جلد پرُکرلیالیکن عبدالجلیل نقوی جیسا بے لوث اورموقوف خدمتگار تنظیم کو میسر نہ آسکا۔ہرزبان اورہرآنکھ ہرجگہ آپ کی ہی آمد کی منتظر رہتی تھی۔ سات سال تین ماہ بستر ِعلالت پر اِنتہائی صبر آزمااورآزمائشی دور گزار کر 8جنوری 2018ء کو9بج کر 40منٹ پر اپنے خالق ِ حقیقی سے جاملے ۔کیا معلوم تھا کہ
بحرغم سے پار ہونے کیلئے موت کو ساحل بنایا جائے گا
آپ اپنے پیچھے ایک بیوہ ، تین بیٹے اوردوبیٹیاں سوگوارچھوڑ گئے ۔ آپ کے اسی کرداراورشخصیت کی وجہ سے دوسری تنظیموں کے اکابرین اوراپنی ملی تنظیم کے ناقدین اورجداہونے والے اوراختلاف رکھنے والے احباب بھی آپ کی خدمات کونہ بھلاسکے اورآپ کے جنازے میں کاندھادینے کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے۔ بہرحال آپ کی شخصیت میں کچھ ایساتھا کہ جومقناطیسی اورجادوئی اثررکھتاتھااورہرکوئی آپ کی طرف کھنچاچلاآتاتھا۔
ڈاکٹر عون ساجد نقوی نے اپنے چچازاد بھائی اوربہنوئی کے بارے میں واقعی درست فرمایا کہ سید عبدالجلیل نقوی، حضرت امیرعلیہ السلام کی درج ذیل وصیت کے سچے پیروکار تھے ـ’’حضرت امیر المومنین ؑنے اپنے فرزند ان کو وصیت کی تھی کہ اے بیٹے !لوگوں میں اِس طرح زندگی گزارنا کہ اگر تم (کچھ دیر کے لیے ) لوگوں کی نگاہ سے دور ہو تووہ تمہاری محبت میں تجھ سے ملنے کے لیے تڑپیں اور اگر تجھے کھو بیٹھیں تو بے قرار ہو کر تمہارے لئے آہ و بکا کریں۔‘‘
آپ کی بے لوث ملی اورتنظیمی خدمات کو یقینافراموش نہیں کیاجاسکتا۔آپ بہت ہی متواضع ،ہنس مکھ، بااخلاق اورفعال ومتحرک شخصیت کے مالک تھے اورآپ نے خود کوبالخصوص ملت ِجعفریہ اوربالعموم انسانی خدمت کیلئے باقاعدہ وقف کردیا تھا ۔ ملی پلیٹ فارم ایک متحرک،مخلص، صابر اورزمینی حقائق سے آشنا رہنما سے محروم ہوگیا۔آپ جیسی مخلص شخصیت کو آپ کی خدادادصلاحیتوں اورنیکیوں سے تادیریادرکھا جائے گااورآپ سید کی ملنساری اورمٹھاس کو ہمیشہ محسوس کیاجاتارہے گا۔یہی کچھ وہ ڈاکٹربھی کہنے پر مجبورہواکہ جب مَیں نے پوچھا کہ ڈاکٹرصاحب ہم تو موت کے لمحے کو بڑااذیت ناک سنتے ہیں لیکن یہاں پر تو ہمیں نہ تو موت کی تلخی محسوس ہوئی اورنہ ہی موت کی زردی طاری ہوئی ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تو نیک انسان تھے اورنیک روح تھی جو جنت کی طرف پروازکرگئی اور سید مرحوم نے جوتکلیف گزاری وہ اُن کے درجات کی بلندی اورسرفرازی کیلئے تھی۔