• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

20 جون کوجعفری طلباء ملتان میں اکٹھے ہو کر اپنی ملی بیداری کا ثبوت دیں گے ; ایاز حسین سیال،مرکزی نائب صدر

جعفریہ پریس-  جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر ایاز حسین سیال نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہم بلوچستان کے طلباء شدت سے 20 جون کا انتظار کرے ہیں اور انشاء اللہ دنیا دیکھے گی کہ انتہائی گرم موسم ہونے کے باوجود بھی 20 جون کو جعفری طلباء اپنے قائد محبوب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملتان کی طرف رواں دواں ہو ں گے اور ملتان میں ایک عظیم الشان اجتماع طلباء کی ملی بیداری کا ثبوت ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن بھی یہ بات جانتا ہے کہ جس قوم کا نوجوان طبقہ متحرک ہو اور قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتا ہو تو اس قوم کو کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا۔ 20 جون کو ہم دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم اپنے قائدکی آواز پر لبیک کرنا جانتے ہیں اور دنیا دیکھے گی کہ کیسے ہوتے ہیں قائد کے ایک حکم پر لبیک کہنے والے۔
مرکزی نائب صدر نے کہا کہ اس وقت ملک جس بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک غیر اہم مسئلے کو انتہائی اہم مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور چھوٹی جماعتیں اس مسئلے پر اپنی سیاست چمکانا شروع کر دیتی ہیں۔ ملک پاکستان میں اس وقت بے شمار ایسی جماعتیں موجود ہیں جو اس انتظار میں رہتی ہیں کہ کس وقت کوئی چھوٹی سے چنگاری اٹھے اور وہ اس چنگاری کو آگ بنا کر اپنی سیاست چمکائیں۔
اس وقت ملک عزیز میں اور بہت سے مسائل ہیں جن کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں کیونکہ ان مسائل کی طرف توجہ دینے سے سیاست نہیں چمکتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملک عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یکساں نظام تعلیم کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہو رہا ہے اور ایک طبقہ دوسرے طبقے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام جگہوں پر یکساں تعلیمی نظام رائج کرے تاکہ طبقاتی نظام کی بیخ کنی کی جاسکے۔