تازه خبریں

6  جولائی یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی اور وحدت کا یوم ہے،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

6  جولائی یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی اور وحدت کا یوم ہے،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

6  جولائی یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی اور وحدت کا یوم ہے،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

مسالک و مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا، تمام مکاتب فکر کو ان کے مذہبی،شہری ،آئینی اور بنیادی حقوق نہیں دئیے جا رہے، قائد ملت جعفریہ   علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی فکر و جدوجہدسے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے آئینی حقوق کے دفاع اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی تاریخ کو دہرایا جاسکتا ہے۔راولپنڈی / اسلام آباد 5جولائی2018 ء(   جعفریہ پریس )    قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ 6 جولائی یوم نفاذ فقہ جعفریہ مسلم سکالروں/محققوں، مجتہدوں اور فقیہوں کی علمی اور تحقیقی کاوشوں سے استفادہ اور تجدید عہد کا دن ہے، آئین پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیںجس کا اعادہ اس معاہدے مےں کےا گےا جو 80کے کنونشن کے نتےجہ مےں ہوامگر ایک عرصہ سے آئین کی دفعہ 227کی توجیہ کے تقاضے مسلسل نظر انداز کئے جارہے ہیں، مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا، تمام مکاتب فکر کو ان کے مذہبی،شہری ،آئینی اور بنیادی حقوق نہیں دئیے جا رہے بلکہ ان کی مذہبی، شہری اور بنیادی انسانی آزادیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائدکرنے کی کوششیںکی جارہی ہیں اور ان کی صدائے احتجاج کو روکنے کے لیے ظالمانہ انداز اختیار کئے جا رہے ہیں۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی اور وحدت کا یوم ہے، افسوس 80کی خالصتاًعوامی ملی جدوجہد کےخلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے یوم نفاذ فقہ جعفریہ کے موقع پراپنے خصوصی پیغام میں کیا ۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ 6 جولائی 1980 کے اسلا م آباد کنونشن میںعوام نے جائز‘ اصولی اور منطقی مطالبہ کیا کہ اسلامائزیشن کے عمل میںتمام مکاتب فکر کے عقائد ونظریات کا احترام اور ان کے شہری و مذہبی حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں مذہبی و شہری آزادیاں دی جائیں۔ انہوں نے متوجہ کےا کہ قائد بزرگوار علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی فکر و جدوجہدسے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے آئینی حقوق کے دفاع اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی تاریخ کو دہرایا جاسکتا ہے۔ یہی رویہ اس سے قبل قائد مرحوم علامہ سیدمحمد دہلوی کارہااور یہی انداز اس کے بعد قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کا تھا ۔ انہو ں نے کہا کہ 6 جولائی کادن عوام کے ان جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئین نے تمام مکاتب فکر کو دئیے ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہاکہ تمام مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا، تمام مکاتب فکر کو ان کے مذہبی،شہری ،آئینی اور بنیادی حقوق نہیں دئیے جا رہے بلکہ ان کی مذہبی، شہری اور بنیادی انسانی آزادیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائدکرنے کی کوششیںکی جارہی ہیں اور ان کی صدائے احتجاج کو روکنے کے لیے ظالمانہ انداز اختیار کئے جا رہے ہیں۔ لہذا6 جولائی کے دن ہمیں تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ہم ایک بار پھر نئے حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے حقوق کی جد وجہدتیز کریں گے۔پاکستان اور پاکستانی عوام کو درپیش سنگین خطرات کے ازالے اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے میدان عمل میں آئیں گے اور ملک و عوام کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔