تازه خبریں

اتحاد و وحدت کی عملی تصویر کو سبو تاژ کس نے کیا ؟ القدس کی ریلی ایک کیوں نہ ہوسکی حقیقت جانیں :عبد اللہ رضا

اتحاد و وحدت کی عملی تصویر کو سبو تاژ کس نے کیا ؟
کچھ عرصہ پہلے ایک موبائل میں میسج ملا کہ جس کو سیکٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ کی طرف منسوب کیا گیا تھا کہ اس دفعہ القدس کی ریلی ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام نکالی جائے گی جس میں تمام جماعتیں شرکت کریں گی۔
میسج پڑھتے ہی خوشگوار حیرت ہوئی ۔ فوراً سیکٹری جنرل شیعہ علماء کونسل اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل جناب علامہ واحدی صاحب سے رابطہ کر کہ تصدیق چاہی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بالکل ایسا ہی ایک پروگرام بنایا جا رہا ہے۔
دل تھا کہ ایک جگہ ٹکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور نہایت خوشی کا عالم تھا کہ آخر قوم کے بزرگان اس طرف آ رہے ہیں کہ جس اتحاد و وحدت کی بنیاد ہمارے بزرگوں نے رکھی تھی آج وہ اتحاد یوم القدس والے دن ہمیں سڑکوں پر عوام کے درمیان نظر آئے گا کہ جب تمام جماعتیں مل کر ایک مسلمان ریاست فلسطین کے حق میں اسرائیل کے خلاف نکلیں گے۔
پھر مجھے ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں جے ایس او پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز ہوا۔ یہ میٹنگ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی آفس میں بلائی گئی تھی۔ جس میں تمام جماعتوں کے نمائندگان شریک تھے۔میٹنگ بلانے کا مقصد یہ تھا کہ ریلی کے حوالے سے تمام انتظامی معاملات کو ایک ختمی شکل دے دی جائے۔ یہاں جہاں سارے معاملات انتہاءی خوش اسلوبی سے طے پائے وہیں آئی ایس او نے تمام جماعتوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ایک موقف پر کہ ریلی ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام نہیں بلکہ تحریک آزادی القدس کے زیر اہتمام نکالی جائے جس پر تمام جماعتوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کے موقف کو نادرست قرار دیا۔اس کے بعد کیا ہوا اور کس طرح ہوا اس پر میرا لکھنے کا کچھ ارادہ تو نہیں تھا مگر ابھی کچھ دیر پہلے ایک تحریر نظر سے گزری جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیاتھا ۔ لہٰذا کچھ باتوں کو نکات کی صورت میں پیش کر رہا ہوں:
اولا:آئی ایس او کے جوانوں کا کہنا تھا کہ آئی ایس او اس ریلی کی بنیادی اسٹیک ہولڈر ہے، جہاں تک اس بات کا تعلق ہےکہ یوم القدس کی اصل اسٹیک ہولڈر جماعت آئی ایس ہو ہے تو یہ بالکل غلط ہے بلکہ یوم القدس کو پاکستان میں متعارف کروانے میں جس جماعت کا بنیادی کردار رہا ہے وہ تحریک جعفریہ تھی۔ ہاں اس وقت تحریک جعفریہ کی ذیلی جماعت آئی ایس او نے اپنی مدر ونگ کا بھرپور ساتھ ضرور دیا تھا۔
ثانیا: میتنگ جو ایم ڈبلیو ایم کے آفس میں ہوئی میں بھی اس میٹنگ میں شریک تھا۔اور جے ایس او پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا۔ اس میٹنگ میں تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر موجود تھیں کہ یہ ریلی ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے پونی چاہیئے۔ مگر آئی ایس او کے جوشیلے جوانوں(جس میں ان کے سابق مرکزی صدر برادرعلی مہدی بھی شریک تھی اور خاموشی سے سب دیکھ رہے تھے جب کہ مقامی ڈویژن کے افراد اور ڈویژنل نظارت کے ارکان باری باری بول رہے تھے) کا یہ موقف تھا کہ ہم چونکہ ملی یکجہتی کونسل میں شریک نہیں اس لیے ہمیں کیا فائدہ ہو گا اپنا سب کچھ چھوڑ کر ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ریلی کرنے کا(یہ الفاظ من و عن وہی ہیں جو آئی ایس او کے جوانوں نے استعمال کیے)ان کا موقف یہ تھا کہ یہ ریلی تحریک آزادی القدس( جو آئی ایس او استعمال کرتی ہے) کے عنوان سے ہونی چاہئے جب کہ باقی سب جماعتیں اس موقف سے راضی نہیںں تھیں۔ باقی سب کا موقف تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کے زیر اتہمام ہونی چاہئیے۔ اور ہر جگہ پر ملی یکجہتی کونسل کا ہی نام آنا چاہئے۔ جب بات نے طول پکڑا اور ایک آئی ایس او کے برادر نے ثاقب اکبر صاحب کو کہا کہ آپ غلط کر رہے ہیں۔ تو اس پر ثاقب اکبر صاحب بہت آبدیدہ ہوئے اور ان کی آنکھون سے اشک جاری ہوئے اور روتے ہوئے کہنے لگے کہ یہی ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم ابھی تک ناموں میں الجھے ہوئے ہیں اور استعمال ہمیں کاتنے کے درپے ہیں۔جب یہ سلسلہ بڑھا تو آخر کار جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ بزرگ رہنما نے فرمایا کہ آپ آئی ایس او کے برادران میں سے کوئی ایک شخص بولے سب بول کر میٹنگ کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔ آٓئی ایس او کے ایک برادر کو بولنے کی اجازت ہے، سب کو نہیں (جب کہ وہاں آئی ایس او کے ۴،۵ افراد موجود تھے)۔ مجبورا وہاں آئی ایس او کے جوان تو خاموش ہو گئے مگر ان کے چہروں سے ناگواری صاف نظر آرہی تھی۔
ثالثا: شیعہ علماء کونسل کا موقف پہلے دن سے واضح تھا کہ اگر اتنظامیہ اجازت دیتی ہے تو ہی ہم اس نئے روٹ پر جائیں گے ورنہ بغیر اجازت کے ہم کبھی بھی نئے روٹ کا انتخاب نہیں کریں گے۔ اگر انتظامیہ اجازت نہیں دیتی تو پھر چونکہ القدس ریلی کا ایک ہی روت منظور ہے جو کہ شیعہ علماء کونسل کا ہے لہٰذا سب جماعتوں کو اسی روٹ پر آنا ہو گا اور یہ ہی سب سے پرانا روٹ بھی ہے(یاد رہے کہ آئی ایس او اور یم ڈبلیو ایم جس روٹ پر جاتے ہیں اس کی اجازت نہیں لی جاتی انتظامیہ سے اور یہ الفاظ راجہ ناصر صاحب کے اپنے ہیں کہ ہم اجازت کبھی بھی نہیں لیتے)
رابعاً: سب سے اہم اور حساس مسئلہ یہاں روٹ کاتھا کہ اسلام آباد میں گذشتہ کچھ عرصہ سے دو ریلیاں نکالی جا رہی تھیں جن کے روٹ الگ الگ ہوتے تھے اگرچہ ایک ہی امام بارگاہ سے دونوں نکلتی تھیں۔ ایک ریلی شیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام نکالی جاتی تھی جو کہ گذشتہ 32 سالوں سے نکالی جا رہی ہے۔ اور دوسری ریلی آئی ایس او کے برادران نکالتے تھے جو گذشتہ چند سالوں سے نکالی جا رہی ہے۔
اس اہم مسئلہ کا حل یہ نکالا گیا کہ روٹ دونوں ختم ہوں گے اور ایک نیا روٹ لیا جائے گا۔ کیونکہ ملی یکجہتی کونسل کے اکابرین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ریلی کے اختتام پر UN کے آفس میں ایک یادداشت پیش کی جائے گی۔ یہاں شیعہ علماء کونسل کی طرف سے دو آراء دی گئیں:
۱)آبپارہ سے سرینہ ہوٹل تک ریلی نکالی جائے۔ یعنی تمام جماعتیں اکٹھی ہوں آبپارہ پر اور یہاں سے سرینہ ہوتل تک ریلی نکالی جائے۔
۲) نادرا آفس ساری جماعتیں اکٹھی ہوں اور وہاں سے سرینہ ہوٹل تک چلا جائے۔
جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم صاحب نے بھی ان دونوں آراء کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ بہترین روٹ ہے کیونکہ یہ مختصر بھی ہے اور روزہ داروں کو روزہ کی حالت میں زیادہ چلنا بھی نہیں پڑے گا۔ مگر یہاں بھی آئی ایس او کے برادران نے اختلاف کیا کہ جس کا تفصیلی ذکر ذیل کی سطروں میں موجود ہے۔
جہاں تک مسئلہ ہے آخری میٹنگ کا اس میں آئی ایس او نے دو پوائنٹ اٹھائے کہ جن پر وہ کسی صورت بھی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتے تھے:
۱) روٹ آٓئی ایس او والا ہو گا یعنی مرکزی امام بارگاہ سے آئی ایس او اپنی ریلی لے کر چائنہ چوک تک آئے گی اور وہاں پر باقی تمام جماعتیں بھی اکٹھی ہوں گی اور یہاں سے پھر سرینہ ہوٹل کی طرف جا کر UN کے آفس ایک یادداشت پیش کی جائے گی۔ اور آئی ایس او اپنے روٹ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ سب جماعتیں اسی روٹ پر ملیں گی آئی ایس کو۔(یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ ایک انتہائی لمبا روٹ بنتا ہے کہ روزہ داروں کے لیے سفر کرنا روزہ کی حالت میں مشکل ترین ہے۔)
۲) القدس ریلی یا تو تحریک آزادی القدس( آئی ایس او جس نام سے ریلی نکالتی ہے) اور یا پھر القدس کمیٹی ( اس نام سے شیعہ علماء کونسل نکالتی ہے) کے نام سے نکالی جائے۔ ہمیں ملی یکجہتی کونسل کا نام منظور نہیں ہے۔ اور عارف واحدی صاحب کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ ہمیں اعتراض نہیں ہے اگر القدس کمیٹی کے نام سے نکالتے ہیں تو۔ جس پرڈپٹی جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل و مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی صاحب نے موقف اختیار کیا کہ : ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔ملی یکجہتی کونسل کے بزرگان نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ القدس کی ریلی ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ہوگی تو ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ہی ہو گی۔ ہم اپنا نام استعمال نہیں کریں گے۔
اس پر آئی ایس او نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔اور اتحاد و وحدت کی اس تاریخی ریلی کو کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا گیا۔
یہاں ایک بات جو قابل ذکر ہے کہ جب ایک بزرگ شخصیت نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا فیصلہ ہے کہ ریلی ملی یکجہتی کونسل کے نام سے نکالی جائے گی۔ اور اس میں سب تنظیموں کی مدر جماعتیں موجود ہیں آپ کی مدر جماعت ایم ڈبلیو ایم بھی وہاں موجود ہے تو آئی ایس او نے فوراً برملا کہا کہ ایم ڈبلیو ایم ہماری مدر جماعت نہیں ہے۔ ہم الگ اور خود مختار جماعت ہیں۔ القدس ریلی سے ایم ڈبلیو ایم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ریلی ہم لوگ نکالتے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم صرف ہمارے ساتھ شریک ہوتی ہے۔
اتحاد ووحدت کے اس تاریخی لمحے کو کہ جب اتحاد کی عملی تصویر راہنماؤں سے نکل کر نیچے عوام الناس تک پہنچ رہی تھی اس لمحے کو چکنا چور کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور کس کا نہیں۔ یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ مگر ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملت کے کچھ شر پسند عناصر نے مل کر کچھ عرصہ پہلے جو ملت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا تھا وہ نہیں چاہتے کہ ملت میں دوبارہ اتحاد ہو۔
اگر یہ ریلی نکالی جاتی تو شاید ہزاروں کا اجتماع ہوتا اور اتحاد و وحدت کی ایک عملی مثال دیکھنے کو ملتی۔
تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ :
ابھی گزشتہ روز ۲۱ رمضان کے دن علامہ امین شہیدی نے مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ایک ریلی نکالنے کے لیے حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کا کہا جس پرمرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی صاحب نے علامہ امین شہیدی کو فری ہینڈ دیا ہے کہ ہم ابھی بھی متحدہ ریلی نکالنے کے حق میں ہیں اور اس کے لیے اپنے 32 سالہ پرانے روٹ کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن ہماری ابھی بھی وہی بات ہے جو پہلے دن تھی کہ:
۱) دونوں روٹ کینسل ہوں گے اور کوئی تیسرا روٹ اختیار کیا جائے گا جو سرینہ ہوٹل کے نزدیک ہو۔ اور نہ شیعہ علماءکونسل اپنا روٹ استعمال کرے گی اور نہ ہی آئی ایس او اپنا روٹ استعمال کرے گی۔
۲) کوئی پارٹی اپنے جھنڈے یا تشہیری مواد نہیں لے کر آئے گی۔ ریلی خالصتاً ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ہی ہو گی۔ اور ہر جگہ ملی یکجہتی کونسل کا نام ہی استعمال ہو گا جیسا کہ بزرگان نے فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی صاحب کے بقول ہمارے دروازے ابھی بھی کھلے ہیں ہم ابھی بھی ایک ریلی لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ مگر کسی کے ہاتھوں میں یرغمال نہیں بن سکتے۔ بلکہ ملی یکجہتی کونسل کے بزرگان نے جو فیصلہ کیاتھا اس فیصلہ پر آج بھی کاربند ہیں۔ آئیں ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ایک ریلی نکالنے کے لیے متحد ہو جائیں (اس بات کی تصدیق ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل و مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی صاحب اور علامہ امین شہیدی صاحب دونوں سے کی جا سکتی ہے)
(نوٹ: ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں یہ حقائق بہت پہلے لکھنا چاہتا تھا مگر مرکز کی طرف سے سختی سے ہدایت تھی کہ اس سے تفرقہ پھیلے گا لہٰذا ان باتوں کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔ مگر جیسا مین نے اوپر ذکر کیا کہ جب میں نے دیکھا کہ نام نہاد روزہ دار روزہ کی حالت میں بھی اتہام بازی اور غلط بیان سے باز نہیں آ رہے اور حقائق کو توڑ موڑ کر بیان کررہے ہیں اور سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں تو مجھے مجبوراً مرکز سے اجازت لے کر یہ تحریر لکھنی پڑی)
میں امید کرتا ہوں کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں گزری اور آئی ایس او کے دوست اپنی سابقہ روش سے بغاوت کرتے ہوئے اور ایک دفعہ پھر علماء کی زیر سرپرستی آ کر اس سنہری موقع کا فائدہ اٹھائیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ آج وہی غلطی دوبارہ نہیں دہرا رہے اور ملت کو مزید تقسیم نہیں کریں گے بلکہ اتحاد کا جو پرچم ان کے بڑوں نے اٹھایا تھا آج ہم نوجوان اس پرچم کو اٹھا کر سڑکوں پر یک زبان ہو کر نکل آئے ہیں۔ ہم نوجوانان جے ایس او پاکستان آج بھی علماء کے حکم پر اپنی جان کی بازی لگانے کو تیار ہیں اور علماء کو اپنا سرپرست اور مربی جانتے ہیں۔ اور میں یہی امید اپنے آئی ایس کے دوستوں سے بھی کرتا ہوں کہ وہ بھی اب گزشتہ کدورتوں اور نفرتوں کو مٹا کر ہم پیالہ و ہم نوالہ ہو جائیں۔
عبداللہ رضا
ڈویژنل صدر
جے ایس او پاکستان (راولپنڈی)