تازه خبریں

پریس کانفرس آئی ایس پی آر سانحہ عاشورراجہ بازار

پریس کانفرس آئی ایس پی آر سانحہ عاشورراجہ بازار
2 دہشتگردوں کا اقرار جرم ، بیان21 اگست 2017ئ
21 اگست بروزسوموار 2017ئ
پہلے دہشتگرد کا کہناتھا
”میرانام شاہ زیب ہے ،مَیں باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھتا ہوں ،2012میں اِدھر تشکیل ہوا۔ ہمارے ساتھ 8لو گ ہیں ایک عبد الرشید ہے وہ امیر ہے ، دوسرا بخش اللہ ہے ،ایک مَیں ہوں ،ایک عنایت اللہ خان ہے ، ایک سلطان زیب شیناہے ، دوسرا جمال ہے ، عبدالرزاق ہے ، لاوَنگ ہے، ہم آٹھ لوگ ہیں ۔زاہدگل نے ہم کو بولا 10محرم کوکالاکپڑے پہنو اور راجہ بازار مدرسے میں کارروائی کرو کہ حالات خراب ہو جائیں ،شیعہ سنی لڑے گا آپس میں ۔ چوہڑ چوک میں مشورہ کیا ، سب عبدالرزاق کے گھر میں اِکٹھا ہو گیا ، اِدھر عبدالرشید امیر تھا ۔اُس نے کہاشیناکو ، ہمیں رکشے میںلایا، دو چکر لگایا رکشے میں ،چکلہ پُل تک لایا۔ جب ہم کارروائی کے لئے پہنچ گیا راجہ بازارتو جمعے کا ٹائم تھا ، آٹھ لو گ ہم اِکٹھا ہو گیا، اُدھر مدرسے میں اِکٹھاہو ا، مشور ہ کیا ۔پھرمدرسے میںجو بھی اندرتھا، آدھا لوگ اُوپر منزل میں گیا اور آدھا نیچے منزل میں گیا ،ہم گیٹ میں کھڑا تھا، مَیں نے دو بندوں کو چھری مارا ، ۔۔۔، دو بندے شینا گیٹ پر کھڑا تھا، باقی لوگ اندر تھا۔ مدرسے کے اند رگیا پھر شینا تیل لایا اُدھر سے اور آگ لگایا،اُس وقت شیعوںکا جلوس فوارہ چوک کے قریب تھا ۔(ویڈیو میں جلوس دکھایا گیا)۔آگ لگایا اور فائرنگ شروع ہو گیا پھراُدھر سے ہم نکل گیا، چوہڑ چوک پرگیااور اپنا اپناکاموںمیں چلا گیا ۔کارروائی کیا پورا پھر 15/20دن کے بعد ہم گاﺅں چلا گیا باجوڑ ایجنسی ،پھرزاہدگل کو اِس کا پتہ لگ گیا لیکن مَیں نے اُس کو سب کچھ بتایاتفصیل سے کہ یہ کام ہوگیا۔“
21 اگست بروزسوموار 2017ئ
دوسرے دہشتگرد کا کہناتھا
”میرا نام اجمل خان ہے۔والد کا شا ہ احمد خان ہے۔مَیں باجوڑ ایجنسی ۔۔۔ کا رہنے والا ہوں۔تعلق تحریک طالبان باجوڑ سے ہے۔ 10محرم کے دن کارروائی ہم نے راجہ بازار میں کی۔ ہم لوگ کاکمانڈرتھا افغانستان میں ،اُس کا نام سید عمر تھا۔پنڈی میں جو کمانڈرتھا اُس کا نام شاہ زیب تھا۔ مدرسے پر حملے کیلئے چوہڑ پہنچے ،عبدالرزاق کے گھر میں۔پھر اُدھر سے شاہ زیب نے ہم سب کو آرڈر دیا تھاکہ اُدھر مسجد میں مدرسہ ہے راجہ بازار میں،اُس میں کارروائی کرنا ہے۔اُس نے ہم سب کو اُدھربلایا اور اُس نے بولا کہ کالا کپڑے پہنو۔پھر اُدھر سے ذمہ داری ملا،سلطان زیب نے رکشے میں، دودفعہ رکشے میں، راجہ بازارمیں،ہمارا ڈیوٹی تھا اُدھر پہلامنزل میں ۔اُدھر جو دوسرا لوگ بھی تھاشاہ زیب نے اپنااپناکام اُن کو بھی سونپ دیا تھا۔پہلی منزل میں گیا،ہمارے پاس پستول تھا۔ جس میں ایک میگزین تھا،اُس میں چھ سات گولی تھا۔ وہ ہم نے فائر کیا پانچ چھ بندے مارے۔سب الگ الگ میں گرگیا۔ پھر مَیںرش میں گھس گیا،کوئی اِدھراُدھر،جان چھڑانے بھاگ گیا اِدھر سے۔“