امام خمینی ؒ کی شخصیت تحریر علامہ محمد رمضان توقیر

اگر رہبر انقلاب اسلامی حضرت روح اللہ الموسوی امام خمینیؒ کی شخصیت کا عمیق تجزیہ کیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں معاشی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر بنیادوں پر آنے والے انقلابات اکثر مواقع پر انقلاب کے رہبر کے منظر سے ہٹنے کے بعد تدریجاً زوال کا شکار ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس انقلاب کی قیادت نے انقلاب تو برپا کردیا ہو لیکن اس کے ذریعہ عوام کیلئے کوئی مستقل نظام نہ چھوڑا ہو یا پھر متبادل قیادت فراہم نہ کی ہو جس کی وجہ سے وہ انقلاب اس شخصیت کے ساتھ ہی زوال پذیر ہوگئے۔ شاید ہی کسی انقلابی جدوجہد میں کوئی ایسی شخصیت سامنے آئی ہو جو خود بھی اپنی ذات میں ہر پہلو سے مکمل ہو، اس نے ایک مستقل نظام بھی دیا ہو اور پھر متبادل قیادت بھی فراہم کی ہو۔ یہی تین خوبیاں امام خمینیؒ کی ذات اور ان کی قیادت کا محور تھیں، جو انہیں دنیا میں ممتاز و منفرد کر چکی ہیں۔ ان کی ذات کا ہر پہلو جامع اور روشن ہے، ان کا علم دیکھیں تو وہ ایک مرجع اعلیٰ اور مجتہد اعظم نظر آتے ہیں۔ علمی میدان میں ان کی گرانقدر تصنیفات اسرارالصلوٰۃ، مصباح الہدایہ، المرسل، تہذیب الاصول، الحکومتہ الاسلامیہ، شرح اصول کافی“اس مرتبے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ زہد و تقویٰ اور اصلاح نفس کی منزل پر جس طرح امام خمینیؒ فائز نظر آتے ہیں اس طرح کوئی قائد اور رہبر نظر نہیں آتا۔

عابد شب زندہ داری کے ساتھ ساتھ معاشرتی قدروں کی اصلاح پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھنا آپ کی صفت تھی، اسلام پر گہری ریسرچ اور اسلام کی تاریخ، فقہ کے تمام موضوعات پر انتہائی دسترس حاصل تھی اور اسلام کی صحیح تشریح و تعبیر کے ساتھ ساتھ ایک اور منفرد چیز آپ نے متعارف کروائی وہ اسلامی نظریات کو جدید دور کے مطابق معاشرے میں نافذ کرنا اور حکومت اسلامی کے قیام کیلئے اسلامی اصولوں اور نظریات سے مکمل استفادہ تھا۔ جس سے وہ پروپیگنڈہ ختم ہوا کہ اسلام کے پاس مملکت چلانے یا عصر جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ آپ نے انقلاب سے پہلے ہی نظریہ ولایت فقیہ اور حکومت اسلامی کا ڈھانچہ پیش کرکے دنیا پر ثابت کر دیا کہ دامن اسلام میں جامع ضابطہ حیات موجود ہے۔ امام خمینیؒ فقط ایک اعلیٰ فقیہ، عظیم مجتہد، جیّد مذہبی رہنما، مرجع تقلید اور مذہبی شخصیت نہیں ہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد، مثبت اور اعلیٰ تعمیری سیاست کے بانی، عالمی استعمار کی سازشوں کو بے نقاب کرنے والے، مسلمانوں کو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے، عالم اسلام کو ان کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے، امت مسلمہ کو اس کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے چہرے شناخت کرانے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر میدان میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان ہیں. یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینیؒ نے 15 سالہ جلا وطنی کے باوجود اپنے ملک کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز سے کی کہ بالآخر عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

رہبر انقلاب ِاسلامی حضرت امام خمینی ؒ کی سچی قیادت، اسلام سے والہانہ اور مخلصانہ وابستگی اور خالی دعوؤں کے بغیر حقیقی عملی جدوجہد کی وجہ سے ایران کے کروڑوں عوام ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود آپ کی قیادت میں متحد رہے۔ شاہ ایران اور اس کی افواج نے ایک ہی دن میں اکثر اوقات سینکڑوں عوام کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور ہر قسم کے مظالم ڈھائے لیکن امام خمینیؒ کے دیئے ہوئے نظریات اور لائحہ عمل کو تھامے عوام مسلسل آگے بڑھتے رہے اور بالآخر شاہ ایران کو اپنی بادشاہت اور تسلط سمیت ایران سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ یہ امام خمینیؒ کی لافانی اور سحر انگیز قیادت ہی کا اثر تھا کہ انقلاب نے اسلامی دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ ایک بوریا نشین، عمامہ پوش عالم دین نے وطن سے دور رہ کر عوام کو باطل نظام کے خلاف اس طرح متحد کیا کہ ہزاروں سالوں سے مسلط بادشاہت کا نظام اس طرح زمین بوس ہوا کہ آج اس کی مٹی تک نہیں ملتی۔

انقلاب اسلامی ایران کے بعد امام خمینیؒ کی ذات عالم اسلام کیلئے ایک نئے تعارف کے ساتھ سامنے آئی، آپ بطور سربراہ ملک و ریاست اور سربراہ حکومت و نظام دنیا کیلئے ایک انفرادیت رکھتے تھے۔ ان دنوں جب انقلاب برپا ہو چکا تھا بعض طبقات اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والا انقلاب جذباتی اور عارضی ہے جو کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے اور دوسرا یہ کہ امام خمینیؒ ایک دینی عالم ہیں اور علماء کے پاس حکومتیں چلانے، نظام کو بحال رکھنے، امور مملکت انجام دینے اور دنیا کے ساتھ ساتھ چلنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں حکومت راس نہیں آئے گی اور بالآخر سابقہ قوتیں دوبارہ ایران کی مالک بن جائیں گی لیکن امام خمینیؒ نے داخلی حوالے سے ولایت فقیہ کے نظام کے تحت اور خارجی حوالے سے وحدت امت کے پیغام کے تحت اس انداز میں ایران کی ترقی اور انقلاب کے تحفظ کا آغاز کیا کہ ان کی زندگی میں انقلاب اسلامی ایک مضبوط اور مستحکم انقلاب بن چکا تھا۔

آج کی دنیا انقلاب کی دنیا ہے، جس طرح گذشتہ چودہ صدیوں سے دنیا بھر کے حریت پسند اور حق پرست کربلا سے الہام لیتے آرہے ہیں، اسی طرح 1979ء کے بعد سے آج تک دنیا میں جہاں جہاں انقلاب کیلئے جدوجہد شروع ہوئی یا جن قوتوں نے اپنے آپ کو انقلاب کا محرک یا علامت کہا انہیں انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینیؒ کی ذات سے ضرور استفادہ کرنا پڑا۔ یہاں ایک افسوس ناک امر بھی سامنے آیا کہ امام خمینیؒ کی ذات کو بعض عناصر اور بعض عالمی طاقتوں اور ان کے پروردوں نے منفی انداز میں پیش کیا اور انقلاب اسلامی کا تعارف بھی غلط انداز میں کرایا۔ امام خمینیؒ کو ایک ظالم، جابر، ضدی اور محدود فکر کا حامل رہنما اور انقلاب اسلامی کو کسی خاص فرقے کا انقلاب قرار دیا۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد جہاں مسلمانوں کو داخلی حوالے سے لڑانا تھا وہاں خارجی قوتوں کو موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ انقلاب اسلامی کی بنیادوں پر حملہ کریں۔ ایک اور غلط فہمی بھی پھیلائی گئی کہ امام خمینیؒ اپنا انقلاب دوسرے مسلم و غیر مسلم ممالک میں پروموٹ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تاثر اس وقت پھیلایا گیا جب انقلاب اسلامی سے متاثر ہو کر دنیا کے مختلف ممالک کے باشعور اور حریت پسند مسلمانوں نے انقلاب اسلامی کی حمایت کی اور امام خمینیؒ کی ذات کو اپنے لئے رہبر اور رہنما تصور کیا۔

اس کی ایک جھلک پاکستان مین بھی نظر آئی کہ جہاں مسلمانوں نے امام خمینیؒ کے ساتھ اپنی روحانی وابستگی اور انقلاب اسلامی کے ساتھ قلبی لگاؤ کا اظہار کیا ظاہر ہے یہ ان کی اسلامی فکر اور ترقی پسندانہ سوچ کا مظہر تھا لیکن ان مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ یہ ایرانی انقلاب یہاں پاکستان میں پروموٹ کررہے ہیں۔ اس الزام کے اثرات تاحال قائم ہیں اور ان کی سزا ابھی تک مسلمانوں کا وہ طبقہ بھگت رہا ہے۔ امام خمینیؒ کی قیادت کا ایک عظیم پہلو یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے امت مسلمہ کے داخلی اتحاد پر زور دیا اس طرح کسی مسلمان لیڈر نے کوشش نہیں کی، اکثر مسلم قائدین اپنے مسلک یا اپنے خطے تک محدود رہے اور عالم اسلام کے داخلی مسائل، داخلی و حدت اور اجتماعی مشکلات کی طرف عملی طور پر کام نہیں کر سکے لیکن امام خمینیؒ نے مسلمانوں کو فروعی نوعیت کے اختلافات ترک کرکے مشترکات پر جمع ہونے کا سبق دیا اور انقلاب اسلامی کے بعد جہاں ایران نے اپنے سفارت خانے، قونصل خانے اور ثقافتی مراکز بنائے وہاں وحدت و اتحاد کیلئے شبانہ روز کام ہوا اور ثابت ہوا کہ امام خمینیؒ وحدت کے معاملے میں فقط نعروں کے قائل نہیں بلکہ عمل کے قائل ہیں۔

آج دنیا بھر کے باشعور اور جدت پسند مسلمانوں کے درمیان موجود اتحاد کی فضاء امام خمینیؒ کے اس سبق کا نتیجہ ہے، امام خمینیؒ کی عطا کردہ اسلامی جمہوریت، روشن فکری، بہترین نظام حکومت عوام کی اعلیٰ اخلاقی، مذہبی، سیاسی اور فکری تربیت کا نتیجہ ہے کہ تبدیلیوں کے طوفانوں میں بھی انقلاب اسلامی قائم و دائم ہے۔ ایک عشرے کی طویل جنگ، عالمی استعمار کی مسلسل سازشیں دشمنان اسلام کی عالمی سطح پر کاروائیاں، ایران پر اقتصادی پابندیاں، دہشت گردی کے الزامات اور متعدد منفی و انتقامی کارروائیاں انقلاب اسلامی کی ترقی اور پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بن سکیں اور انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کے افکار کی بدولت روز بروز ارتقاء کا سفر طے کررہا ہے۔ امام خمینی ؒ اسلامی معاشروں میں فکری و عملی بیداری کا اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ایک جامع اور کامل تصور رکھتے تھے۔ ہم ان کے خطابات میں اور ان کے تحریری شہ پاروں میں ان کے انقلابی منصوبوں کا بخوبی مطالعہ کرسکتے ہیں، جس میں انسان ایک طرف مشکلات کی گہرائیوں میں اترنے، انفرادی اور معاشرتی طور پر انسان کی تعمیر کرنے پر تاکید اور دوسری طرف ان مشکلات کے حل کی راہوں کو محسوس کرتا ہے۔

امام خمینی ؒ نے اپنے سیاسی تجربے کی روشنی میں ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن سے ایک طرف ایرانی عوام کے افکار و نظریات اور عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوتے تھے تو دوسری طرف شہنشاہی اور استبدادی نظام بھی ان پالیسیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ پالیسیوں کا یہ تسلسل انقلاب کے بعد بھی جاری رہا کہ جب بھی آپ کسی پالیسی کا اعلان فرماتے یا اجراء فرماتے تو اس کے اثرات جہاں ایران کے داخلی حالات پر پڑتے وہاں عالمی سطح پر بھی ایران کی عزت، مقام اور طاقت میں اضافے کا باعث بنتے۔ امام خمینیؒ کی شخصیت فقط اسلام کے ایک جید عالم دین، مجتہد یا مذہبی و روحانی قائد کی نہیں اور نہ ہی آپ کی نظر یا مشاہدہ و مطالعہ علوم اسلامی تک محدود تھا بلکہ آپ اپنے وقت کے تمام سیاسی نظاموں، نظام ہائے حکومت و مملکت اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے انقلابات اور تبدیلیوں سے آگاہ و باخبر تھے۔ حتیٰ کہ ان میں موجود نقائص و نقصانات اور انداز نفاذ پر گہری نظر رکھ کر اس کی نشاندہی فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے سوشلزم، کمیونزم، بادشاہت، آمریت اور نام نہاد جمہوریت کو متعدد بار چیلنج کیا اور ان نظاموں کی ناکامیوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اسلام کے اعلیٰ سیاسی و دینی نظام حکومت و نظام زندگی کی برتری اور فضیلت و اہمیت کو ثابت کیا۔

روس کے صدر کے نام آپ کا معروف زمانہ خط تاریخ کا ایک یادگار حصہ بن چکا ہے، جس میں آپ نے کمیونزم کی دیوار گرنے کی سچی پیش گوئی فرمائی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ روس کی شکست و ریخت اسی نظام کی وجہ سے ہوئی۔ عراق کی آمر قیادت کے بارے میں بھی امام خمینیؒ کے ارشادات سماعتوں میں ابھی تک گونج رہے ہیں۔ اس آمریت کا حشر بھی آج سب کے سامنے ہے۔ امام خمینی ؒ کو ایک اور امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اقتدار اعلیٰ کا محور و مرکز صرف خدا تعالیٰ کی ذات کو قرار دینے کا نظریہ متعارف کرایا اور دنیا بھر میں سپر پاورز کی دعویدار طاقتوں اور ملکوں کے نظریے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ”سپر طاقت ہے خدا……لاالہ الا اللہ“ کا ایسا نظریہ عطا کیا جو اس سے قبل عالمی سطح پر کسی مسلمان لیڈر نے نہیں دیا تھا۔ امام کی رحلت کے بعد بھی نام نہاد سپر طاقتوں کے مقابل صف آراء ہونے والی تمام مسلمان طاقتوں نے اس نظریے اور نعرے سے حوصلے لے کر اپنی جدوجہد کی۔ امام خمینی کے ساتھ عقیدت اور وابستگی کا حقیقی اور عملی تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کی عظیم اور آفاقی تعلیمات پر خصوصی توجہ دیں۔

اپنی ذات سے لے کر اپنے معاشرے تک انقلاب برپا کرنے کے لئے امام خمینی کی ذات سے استفادہ کریں، اگرچہ امام خمینی کی ذات سے عملی استفادہ کرنا پوری امت مسلمہ کی بلا تفریق فرقہ و مسلک ذمہ داری بنتی ہے لیکن ایرانی اور پاکستانی عوام پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کے تسلسل اور اسلامی معاشروں میں امام خمینیؒ کی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ متعارف کرانے کے لئے کوششیں کریں اور رہبر انقلاب سے وابستگی کا عملی اظہار کرتے ہوئے تمام معاشروں میں امام اور انقلاب اسلامی کے مثبت اثرات پہنچائیں۔ امام خمینی کی خدمات کا بہترین صلہ یہی ہوگا کہ ان کی علمی تالیفات و تصنیفات کے ترویج کے ساتھ ان کے سب سے بڑے اثاثے یعنی ”اسلامی انقلاب“ کو اصل حالت میں محفوظ رکھ کر آگے بڑھایا جائے۔ ہمارا المیہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران اپنی داخلی خودمختاری اور اسلامی تشخص کے دفاع کے لیے متحد و منظم نہیں ہیں بلکہ جہاں وہ اغیار اور استعمار کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں وہاں اسلامی مکاتب فکر اور مسالک کے اختلافات اور تعصبات میں بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔

جس کی وجہ سے وہ امام خمینی اور انقلاب اسلامی سے صحیح معنوں میں استفادہ نہیں کر سکے اور مغرب کے منفی پروپیگنڈے اور شدت پسند ملاؤں کے منفی فتوؤں کی زد میں آگئے جس سے عالم اسلام کی مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ افغانستا ن،عراق، فلسطین اور کشمیر سمیت مسلم امہ کے متعدد مسائل کے بعد اب اگرچہ اجتماعی طور پر باہمی اتحادووحدت اور اخوت کو اہمیت حاصل ہورہی ہے اور علماء و عوام اپنے فروعی اختلافات کو پس پشت ڈالنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن اس جذبے میں بہت اضافے اور بلندی اور سچائی کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک کے حکمران اور عوام جب تک امام خمینیؒ کی ذات کے تمام پہلوؤں کا مطالعہ نہیں کریں گے.جب تک ان کے نظریات سے صحیح استفادہ نہیں کریں گے جب ان کے پیغام وحدت واخوت کی ترویج نہیں کریں گے۔جب تک امام خمینیؒ کے عطا کردہ ذاتی واجتماعی نظام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے اور اسلام ہی کو ضابطہ حیات اور اصل لائحہ عمل کے طور پر نہیں لے لیں گے تب تک مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کاکام کم ازکم ہم سے نہیں لیا جاسکتا اور ہم امام خمینیؒ جیسی قیادت پیدا کر سکتے ہیں نہ انقلاب اسلامی ایران جیسا انقلاب لاسکتے ہیں۔