راولپنڈی/اسلام آباد جعفریہ پریس پاکستان : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ بدنام زمانہ معاشی نظام مذموم مقاصد کے لیے دنیا کے وسائل پر قابض ہے۔ غزہ سمیت مختلف آزاد ریاستوں پر ہزاروں ٹن بمباری کرکے یا آزاد ریاستوں کو مقروض بنا کر انسانیت کو تاراج و غلام بنانے کے علاوہ نت نئی سازشوں کے ذریعے خوراک کے بحران پیدا کیے جا رہے ہیں تاکہ مظلوم و مقروض خطوں کے عوام زندہ درگور ہو جائیں یا دوسروں کے تابع ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی معاشی عدم انصاف کے باعث آج پوری دنیا میں انسانیت طبقاتی نظام کی نذر ہو گئی ہے۔ امیر دولت کے انبار کے ساتھ امیر ترین بن رہا ہے، جبکہ غریب ناموافق حالات اور مساوی مواقع نہ ہونے کے باعث نانِ شبینہ سے بھی محروم ہے۔ کمیونزم اور سوشل ازم دنیا کو معاشی انصاف کی فراہمی میں کامیاب نہ ہو سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے 16 اکتوبر عالمی یومِ تحفظِ خوراک اور 17 اکتوبر یومِ انسدادِ غربت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کا بظاہر متفق علیہ ادارہ ہے، جہاں مختلف موضوعات پر عوامی شعور و آگہی کے لیے ایام بھی مختص کیے گئے ہیں، البتہ اس بظاہر طاقتور ادارے کو عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ معاشی نظام نے پوری دنیا کو جکڑ رکھا ہے۔ کمیونزم اور سوشل ازم بظاہر خوشنما نعروں کے ساتھ آئے، مگر یہ انسانیت کو معاشی انصاف فراہم نہ کر سکے، بلکہ انسانیت پہلے سے بھی بدتر صورت حال سے دوچار ہو گئی۔ خود اقوام متحدہ کے سابقہ اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 20 فیصد سے زائد دنیا کی آبادی نانِ شبینہ کو ترستی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مسلط معاشی نظام اور ظالمانہ طرزِ حکمرانی ہے۔
عالمی ایام کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے توجہ دلائی کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو مساوی بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور عادلانہ طرزِ حکمرانی کا علمبردار ہے۔ ان کے مطابق عدلِ علیؑ کا نظام اس کی بہترین مثال ہے، جو عدل و انصاف کے حوالے سے رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہے۔