• ٹیکسز کی بھر مار کا بجٹ، عوام سے محبت نہیں دشمنی کےمترادف ہے
  • مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مرکزی صدر جے ایس او پاکستان
  • امام خمینی کی برسی پر علامہ شبیر حسن میثمی کا پیغام
  • پاک ایران بارڈر پر پھنسے زائرین کا مسئلہ فوری حل کیا جائے شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری
  • ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت عالم اسلام کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے
  • ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اشتہار ناکافی ہے امن و امان کو تہہ و بالا کرنیوالوں کو نظراندازکردیاگیا
  • جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی کابینہ کا اعلان کردیا گیا
  • علامہ شبیر حسن میثمی کی ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت پر تعزیت
  • علامہ عارف حسین واحدی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی

تازه خبریں

انتہا پسند سویڈن نے امہ و مہذب دنیا کو ٹھکرایا ،اسے بھی مسترد کیا جائے قائد ملت علامہ ساجد نقوی

انتہا پسند سویڈن نے امہ و مہذب دنیا کو ٹھکرایا ،اسے بھی مسترد کیا جائے قائد ملت علامہ ساجد نقوی

انتہا پسند سویڈن نے امہ و مہذب دنیا کو ٹھکرایا ،اسے بھی مسترد کیا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
 مقدسات کی توہین آزادی اظہار نہیں انتہاء پسندی و عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
قائد ملت جعفریہ پاکستان کا اسلامیہ یونیورسٹی بہائولپور کے سیکنڈلز پر بھی گہری تشویش کا اظہار،شفاف و غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
راولپنڈی /اسلام آباد 25 جولائی 2023ء  ( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں امت مسلمہ سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے سویڈن کو ٹھکرادے، جس نے توہین آمیز اقدامات کے ذریعے امت مسلمہ سمیت متوازن مہذب ملکو ں کو ٹھکرایاا سے بھی مسترد کیا جائے ، مقدسات کی توہین آزادی اظہار رائے نہیں انتہا پسندی کی انتہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سویڈش حکومت کی طرف سے باربار توہین آمیز حرکات (قرآن پاک کی بے حرمتی کے اقدامات)کی اجازت دینے اور ان انتہا پسند وں کی پشت پناہی کرنے اورڈنمارک میں بھی مسلسل توہین آمیز حرکتوں پر اپنے رد عمل میں کہاکہ سویڈش حکومت کی اجازت سے واضح ہوجاتاہے کہ ان اقدامات سے اس نے نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ مہذب دنیا نے ٹھکرایا ،اسی طرح ڈنمارک بھی مسلسل ایسی جسارتوں کی حوصلہ افزائی کررہاہے، ایسا لگتاہے کہ نام نہاد آزادی اظہار کے نام پر دونوں ملک انتہا پسندوں کے نرغے میں آچکے ہیں، ایسے اقدامات سے نہ صرف امت مسلمہ میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ کئی غیر مسلم مہذب ممالک اور بڑی شخصیات نے بھی انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیاہے لیکن مسلسل توہین آمیز رویے واضح کررہے ہیں کہ انتہا پسند سویڈن و ڈنمارک امت مسلمہ ( مسلم ممالک)کیساتھ ان مہذب ممالک کو بھی توہین آمیز حرکت کو آزادی اظہار رائے کی بجائے توہین کے مترادف سمجھتے ہیں ٹھکرایا ہے ، ضرورت اب اس امر کی ہے کہ موضوع اسور مناسب اقدامات اٹھائے ہوئے انہیں بھی مسترد کردیا جائے ۔دوسری جانب قائد ملت جعفریہ پاکستان نے اسلامیہ یونیورسٹی بہائولپور سے متعلق منظر عام پر آنیوالی خبروں (سیکنڈلز )پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف و غیر جانبدار انہ تحقیقات کے ذریعے حقائق منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کردیا ، مزید کہاکہ ایک تعلیمی ادار ے سے نازیبا تصاویر و منشیات کے پھیلائو جیسی خبریں آنا انتہائی تشویشناک اورخطرناک ہے ، نئی نسل کو تباہی سے بچانے کیلئے اس معاملے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے۔