قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سامراجی صدر کے امریکی عوام سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خطاب نام نہاد سپرپاور کی شکست کا چھپا احساس نمایاں کرتا ہے، مزاحمت نے عصر حاضر کے ابرہہ کو اوندھے منہ گرا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ واقعی مضبوط اور نام نہاد سپرپاور تھا تو پھر اس دعوے کو دہرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ واضح ہوگیا کہ جس ملک کو وہ کمزور سمجھتا تھا اور جس پر دہائیوں سے پابندیاں عائد تھیں، اسی کے مقابلے میں 32 روز بعد اس طرح کا ردعمل دینا دراصل احساسِ شکست کی علامت ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ عصر حاضر کے ابرہہ کا یہی احساس کمتری اور شکست چھپانے کے لیے بیانات اور خطابات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف امریکی دفاعی نظام بلکہ صہیونی قابض ریاست کی بالادستی کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مزاحمت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے جبکہ جارح قوتیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل جارح اور دہشتگرد قوت امریکی سامراج اور اس کا اتحادی صہیونی اسرائیل ہے، جس کے ہاتھوں غزہ، لبنان، شام، عراق، افغانستان اور ایران کے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا گیا۔ انہوں نے ماضی میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے واقعات کو بھی امریکی پالیسیوں کی واضح مثال قرار دیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے خطاب میں اہداف کی ناکامی اور جنگی شکست کا اعتراف نمایاں ہے، جس پر عالمی ماہرین بھی حیران ہیں اور یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔