تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا آپریشن بنیان مرصوص پر پیغام

حضرت ابوذر غفاریؓ پختہ نظریات و افکار کے حامل عظیم صحابی تھے: قائد ملت جعفریہ پاکستان

حضرت ابوذرغفاریؓ کا شمار عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے جو پختہ نظریات و افکار کے حامل تھے، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی

ختمی مرتبتؐ کا دفاع و تحفظ اور رحلت رسولؐ کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاریؓ پیش پیش رہے، یوم وفات (5 ذی الحجہ) پر پیغام

جعفریہ پریس پاکستان : قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے صحابی رسول اکرمؐ حضرت جندب ابن جنادہ ابوذر غفاریؓ کے یوم وفات (5 ذی الحجہ) پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جناب ابوذر غفاریؓ کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے، وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابوذر غفاریؓ کی عظمت یہ ہے کہ سردارانِ جنت حضرات حسنین کریمینؑ آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حضرت ابوذر غفاریؓ دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر خود خدمتِ پیغمبر اکرمؐ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ انہوں نے رسول خداؐ کی قدر و منزلت، فضیلت اور مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا۔ اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں برداشت کیں لیکن پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلانِ رسالتؐ کے ابتدائی ایام میں مسلمان جن مصائب و مشکلات سے دوچار رہے، ان کا جرات، بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاریؓ نمایاں تھے۔ ختمی مرتبتؐ کا دفاع و تحفظ اور رحلتِ رسولؐ کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں بھی حضرت ابوذر غفاریؓ پیش پیش رہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ حضرت ابوذر غفاریؓ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبویؐ کے راوی قرار پائے۔ حق و سچ کے اظہار میں ان کی بے باکی اور بے خوفی کی وجہ سے انہیں یہ سندِ امتیاز عطا ہوئی کہ:
“زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پر سایہ نہیں کیا جو ابوذرؓ سے زیادہ سچا ہو۔”

انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرمؐ کی قربت کی وجہ سے حضرت ابوذر غفاریؓ پختہ نظریات کے حامل تھے، خاص طور پر معاشی و سیاسی حوالے سے ان کا ایک واضح نقطۂ نگاہ تھا۔ وہ محلات کے گرد چکر لگایا کرتے تھے اور آیہ کریمہ تلاوت فرماتے رہتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے:

“اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روز وہ مال آتشِ جہنم میں تپایا جائے گا، اسی سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہ مال ہے جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھا تھا، لہٰذا اب اسے چکھو جسے تم جمع کیا کرتے تھے۔”
(سورۃ التوبہ، آیات 34-35)

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ حضرت ابوذر غفاریؓ کے نظریات پر اسلامی اسکالرز نے متعدد کتابیں تحریر کیں جن میں “الاشتراکی الزاہد” (سوشلسٹ پرہیزگار) بھی شامل ہے۔ ان کے نظریات کے مطالعہ کیلئے ان کتب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت ابوذر غفاریؓ کو حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سماجی بائیکاٹ اور کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب بھی شامل ہیں۔ اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ مدینہ سے فاصلے پر مقامِ ربذہ میں عالمِ مسافرت میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ان کی نماز جنازہ مشہور صحابی مالک اشترؓ نے ادا کی، جو ایک قافلے کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اس عظیم المرتبت صحابی رسولؐ کو جس خطے میں جلاوطن کیا گیا وہاں کے لوگ آج بھی سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔