تازه خبریں

علامہ ساجد علی نقوی یوم عاشور کے موقع پر امام حسینؑ کی جدوجہد اور پیغام کربلا بیان کرتے ہوئے

یوم عاشور کا پیغام: امام حسینؑ نے جابرانہ نظام کو تسلیم نہیں کیا قائد ملت جعفریہ

روز عاشور، امام حسینؑ اور انکے اہلبیت و انصار پر مظالم کی قیامت ڈھائی گئی، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

محسن انسانیت نے بزور مسلط کی جانیوالی حکمرانی کوماننے سے انکار کردیا، اسلامی اصولوں اور شہری آزادیوں کی نفی پر مبنی جابرانہ نظام کو تسلیم نہ کیا، قائد ملت جعفریہ

معاشرے کی اصلاح کیلئے امر بالمعروف و نہی المنکر کے ذریعہ نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو مٹانے کی بھر پور جدوجہد کرنی چاہیے، پیغام یوم عاشور

راولپنڈی /اسلام آباد 25 جون 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم عاشور کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ نواسہ پیغمبر اکرمؐ، بشریت کے ہادی و پیشوا، امام عالی مقام حضرت امام حسینؑ نے انکارِ بیعت کے بعد مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے سفرِ عراق اختیار کیا۔

اس دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز میں اظہار کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازمِ سفر نہیں ہوئے ہیں بلکہ امت میں اصلاح کیلئے نکلے ہیں اور امر بالمعروف و نہی المنکر کرنا چاہتے ہیں۔ موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہ ہوئے اور صرف قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ محسنِ انسانیت نے بزور مسلط کی جانیوالی حکمرانی کو ماننے سے انکار کردیا، اسلامی اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی نفی پر مبنی جابرانہ نظام کو تسلیم نہ کیا، غیر اسلامی کلچر اور تہذیب کو ٹھکرا دیا اور اصلاحِ امت، معروف (نیکی) کو پھیلانے اور منکر (برائی) کو مٹانے کیلئے مدینہ سے ہجرت اختیار کی، مکہ کو بھی خیر باد کہا اور دو محرم کو کربلا میں خیمہ زن ہوئے۔

زمین جس کا رقبہ 44 میل تھا، نینوی اور غاضریہ کے باشندوں بنی اسد سے 60000 درہم کے عوض خرید لیا اور شبِ عاشور تک امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات اور نصیحتوں کا محور حق کی سربلندی اور صبر و رضائے الٰہی تھا۔ آپ نے ہر قدم پر ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو دینِ اسلام کی خاطر قربانی کیلئے تیار کیا۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ امامؑ کی اس جدوجہد سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس قسم کی صورتِ حال میں یہ پیغام و درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی شرائط کے مطابق معاشرے کی اصلاح کیلئے امر بالمعروف و نہی المنکر کے ذریعہ نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو مٹانے کی بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شبِ عاشور بھی اپنے اندر ایک الگ تاریخ کی حامل ہے جب امام عالی مقامؑ نے عاشورا کے حقائق سے اپنے ساتھیوں، جانثاروں اور بنو ہاشم کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ عاشورا برپا ہونے کی عملی شکل کیا ہوگی اور اس میں کیا قربانی دینا پڑے گی۔

آپ نے جب اپنے اصحاب و انصار کو عاشورا کی حقیقت یعنی اٹل موت سے باخبر کیا تو ساتھ ساتھ انہیں اپنے راستے کے انتخاب کی آزادی بھی فراہم کی اور کسی قسم کا حکم یا جبر نہیں کیا بلکہ انہیں اختیار دیا کہ وہ عاشورا کے راستے کا انتخاب کریں یا کربلا سے چلے جائیں۔

آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ شبِ عاشور جب چراغ گل کرایا گیا تو انسانوں کی تقسیم نہ ہوئی بلکہ ضمیروں کی شناخت ہوئی۔ امامؑ نے عمر سعد سے ملاقات میں کہا کہ بیعت تو ممکن نہیں، البتہ جنگ سے بچنے کیلئے دو میں سے ایک امر کو مان لیا جائے، مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے یا کسی سرحدی علاقے میں بھیج دیا جائے، مگر عمر سعد نے انکار کر دیا۔

روز عاشور خانوادۂ اہلبیتؑ اور اعوان و انصار پر مظالم کی قیامت ڈھائی گئی۔ اس سے یہ پیغام و سبق ملتا ہے کہ جب ایسی صورتحال ہو تو نظریہ، حق اور موقف کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔