امام رضاؑ کے علم و حکمت سے لبریز ارشادات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
امام علی رضا انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں منصب امامت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کیلئے کوشاں رہے، قائد ملت جعفریہ
امام رضاؑ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرکے ان کے اقوال و افعال کی تقلید کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں، پیغام
راولپنڈی/اسلام آباد، 31 جولائی 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام علی رضاؑ کے یوم شہادت (17 صفر المظفر 148ھ) کے موقع پر کہا ہے کہ امامؑ نے اپنے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی شہادت کے بعد انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں منصب امامت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کیلئے کوشاں رہے۔
انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ اپنے زمانہ میں سب سے اعلم اور افضل تھے۔ علم و حکمت سے لبریز ارشادات، سماجیات، سیاست، حکمرانی اور انسانی فلاح و ترقی کے ہر میدان میں آپؑ کے سنہری اقوال، نیز ادیانِ عالم پر دین اسلام کی برتری جیسے موضوعات پر رہنما اصول، متلاشیانِ حق کیلئے مشعل راہ ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ معروف اسلامی مورخ الذہبی نے امام رضاؑ کی مدح و ثنا کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ”وہ امام ابوالحسن ہیں اور اپنے دور کے ہاشمیوں کے آقا و سردار ہیں، وہ ان میں سے سب سے زیادہ شگفتہ اور متقی و پرہیزگار ہیں، مامون نے ان کے اس احترام کے سبب انہیں جانشین مقرر کیا۔”
انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ کے مقام و مرتبے اور عظمت کے پیش نظر اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ حکمران امامؑ کو امورِ مملکت میں شامل کرکے ان سے مشاورت و رہنمائی حاصل کریں۔ چنانچہ امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اس منصب کو قبول کرکے عالم اسلام اور انسانیت کی رہبری و ہدایت کی۔ امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کا مزارِ مقدس مشہد میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے زور دے کر کہا کہ ائمہ اطہارؑ کی سیرت و کردار کو اپنا کر دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ امام رضاؑ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کرکے اور ان کے اقوال و افعال کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔