تازه خبریں

علامہ مفتی جعفر حسین کی 43ویں برسی پر علامہ ساجد نقوی کا پیغام

علامہ مفتی جعفر حسین کی اعتدال پسندی اور یکجہتی مشعلِ راہ ہیں، قائد ملت علامہ ساجد نقوی

علامہ مفتی جعفر حسین کی اعتدال پسندی اور یکجہتی کی کاوشیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی

دورِ آمریت میں پیرانہ سالی کے باوجود عوام کے جائز اور دستوری حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا علامہ مفتی جعفر حسین کا خاصا تھا، قائد ملت جعفریہ

راولپنڈی/اسلام آباد، 28 اگست 2026ء جعفریہ پریس پاکستان: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے قائدِ مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین کی 43ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ علامہ مفتی جعفر حسین نہ صرف بلند پایہ خطیب، مصنف، مترجم اور شاعر تھے بلکہ لکھنؤ اور نجف اشرف سے فارغ التحصیل جید عالمِ دین اور برجستہ علمی شخصیت کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ وہ نڈر، بیباک، راست گو اور سادہ انسان تھے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین دستور کے تحت قائم ہونے والے اسلامی قوانین کے پہلے ادارے تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ کے رکن تھے۔ وہ ان 31 علماء میں بھی شامل تھے جنہوں نے اسلامی قوانین کے حوالے سے 22 نکات مرتب کیے۔ وہ نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے، تاہم اسلامائزیشن کے معاملے پر اختلاف کی وجہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین نے عوام کے حقوق کے لیے جو جدوجہد کی، وہ اپنی مثال آپ تھی۔ انہوں نے شدت پسندی اور شرپسندی کی نفی کرتے ہوئے اعتدال اور اتحاد کو ہمیشہ مدنظر رکھا، ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل پر آواز بلند کی اور عوام کے جذبات کی ترجمانی اپنے اصولی موقف کے ذریعے کی۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین ملک میں سیاسی عدم استحکام اور حقیقی جمہوریت کی عدم دستیابی پر ہمیشہ متفکر رہتے تھے، کیونکہ وہ سیاسی عدم استحکام کو ملک کی بقا کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں علامہ مفتی جعفر حسین، قائدِ اول علامہ سید محمد دہلوی کی طرف سے شروع کی گئی ملی جدوجہد کا حصہ رہے اور ان کے ہمرکاب ہو کر اس جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حکمرانوں سے مایوس ہو کر ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) میں شمولیت اختیار کی، جس میں ہماری بھی نمائندگی رہی اور ہم نے اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین ایک حقیقت پسند رہنما تھے۔ انہوں نے اعتدال پسندی، اتحاد و یکجہتی اور صاف ستھری سیاست کے گہرے نقوش چھوڑے جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے پر زور دیتے رہے اور اس بات پر متفکر تھے کہ اگر آئین و قانون کو بالادستی حاصل نہ ہوسکی تو ملک شرپسندوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں تباہی کی طرف چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین کی دوراندیشی اور وسیع سوچ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ دورِ آمریت میں پیرانہ سالی کے باوجود اپنے جائز اور دستوری حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھنا علامہ مرحوم کا خاصا تھا۔ انہوں نے تمام طبقات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی اور سب پر واضح کیا کہ جبر و ظلم کے ذریعے کسی کے جائز حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین کی سربراہی میں حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے تاریخی احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے حکمرانوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہر شہری کے حقوق کا پورا پورا احترام کیا جائے گا اور کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جائے گی۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے، جن کے اندر مختلف صلاحیتیں اور مہارتیں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے علمی اور عملی دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔

انہوں نے کہا کہ تصنیف، تراجم اور تبلیغ کے میدان میں علامہ مفتی جعفر حسین کا منفرد مقام تھا، اسی طرح ملی جدوجہد میں بھی وہ اعلیٰ مرتبے کے حامل تھے۔ پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے قومی درد کو محسوس کرتے ہوئے بھرپور اور انتھک جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی اور ملت کو ان کی قیادت کی صورت میں ملی حصار نصیب ہوا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ایسی نابغۂ روزگار شخصیت کی جدوجہد یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ قوم کے ہر فرد کو چاہیے کہ علامہ مفتی جعفر حسین کی علمی، ملی، سیاسی اور قومی خدمات و جدوجہد کو آئندہ نسلوں تک پہنچائے تاکہ ان کی اعتدال پسندی، اتحاد و یکجہتی اور آئین و قانون کی بالادستی کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کی جاسکے۔