عالمی ادارے فقط تعلیم کو حملوں سے بچاؤ کے ایام نہ منائیں، خاتم النبیین کمپلیکس پر حملہ قابل تشویش، تحفظ کیلئے عملی اقدام بھی اٹھائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد، 09 ستمبر 2026 (جعفریہ پریس پاکستان): قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے پڑوسی ملک کے دارالحکومت میں خاتم النبیین کمپلیکس پر حملہ، دھاوا بول کر عمارت خالی کرانے اور درجن کے قریب اساتذہ و شخصیات سمیت بیسیوں افراد کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سوءِ تدبیر قرار دیا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہمسایہ ملک کے دارالحکومت میں ایک علمی و ثقافتی مرکز خاتم النبیین کمپلیکس اور اس کے ساتھ منسلک تمدن ٹی وی پر حملہ اور دھاوا، عمارت کو خالی کرانا اور درجنوں اساتذہ، شخصیات اور بیسیوں افراد کو گرفتار کرنا قابل تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ اداروں کا ہدف علم و ثقافت کی ترویج، دینی اقدار کا فروغ، مذاہب میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور عوام کو اتحاد کی لڑی میں پرونا ہے، جس کے لیے وہ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے، جبکہ سوءِ تدبیر سے مسئلہ مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی تعلیمی و انسانی حقوق کے اداروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ 9 ستمبر کو UNO کی جانب سے ’’تعلیم کو حملوں سے بچاؤ‘‘ کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد افراد، کمیونٹیز اور معاشروں میں تعلیم و خواندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ایسے موقع پر خاتم النبیین کمپلیکس جیسے علمی و ثقافتی مراکز پر حملہ اور اس نوعیت کے اقدامات عالمی تعلیمی و انسانی حقوق کے اداروں کے لیے قابل توجہ ہیں۔ صرف ایام منانے تک محدود رہنے کے بجائے ایسے علمی اور ثقافتی مراکز کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے جانے چاہئیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے آخر میں ادارے کے تمام ذمہ داران کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔