تازه خبریں

یکم اکتوبر بزرگوں کے عالمی دن پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

یکم اکتوبر بزرگوں کے عالمی دن پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

بزرگوں کی تکریم، عدم تشدد اور اساتذہ کا احترام بین الاقوامی اصول، جنہیں تاراج کردیا گیا،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی

راولپنڈی/اسلام آباد، یکم اکتوبر 2026ء: جعفریہ پریس پاکستان : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یکے بعد دیگرے بزرگوں، عدم تشدد اور اساتذہ کے عالمی ایام پر اپنے پیغامات اور مختلف شخصیات سے گفتگو میں کہا کہ قومیں بزرگ شہریوں کی تکریم، عدم تشدد اور اساتذہ کے احترام سے کامیاب ہوتی ہیں۔

مذکورہ تینوں بین الاقوامی اصول جنہیں تاراج کردیا گیا، پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے حوالے سے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرتے ہوئے عدم تشدد پر عمل کیا جائے، عدم برداشت ہی انتہاء پسندی کو دوام بخشتی ہے۔

ایران، فلسطین، لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں استکبار و صہیون نے بزرگوں، اساتذہ، تعلیمی اداروں کے تقدس کا بھی خیال نہ رکھا، اسلام سلامتی، امن و آشتی اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یکم اکتوبر بزرگوں کے عالمی دن پر کہا کہ بزرگ شہری ہر معاشرے میں قابل احترام افراد ہیں، اسلام میں اس کی تاکید کی گئی ہے، جبکہ دو اکتوبر عدم تشدد بارے عالمی دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ آج دنیا جس بے ہنگم اور بے امنی کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کی غرض سے طاقت کا بے جا استعمال، شہروں سے ریاستوں تک کو یرغمال بنانے کے سبب ہے۔

دوسری طرف اپنے نظریات پر دلائل کی بجائے گالی سے گولی کے کلچر نے تشدد اور عدم برداشت کو فروغ دیا ہے۔ یہی عدم برداشت پہلے انتہاء پسندی اور پھر شدت پسندی کی راہ ہموار کرتی ہے، لہٰذا ریاستوں، حکومتوں اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ برداشت، عدم تشدد اور صبر و تحمل کی تلقین کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ایسی فضا کیلئے صرف ایام کی بجائے عملی اقدامات بھی اٹھائیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ پانچ اکتوبر اساتذہ کا عالمی دن نہایت احترام و جذبہ کے ساتھ منایا جائے، اس لئے کہ اساتذہ قوموں اور معاشروں کی تعمیر و ترقی میں نہ صرف بنیادی کردار ادا کرتے ہیں بلکہ وہ تربیت اور رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔

دنیا میں تمام ترقی یافتہ تہذیبوں، معاشروں اور ریاستوں میں سب سے کلیدی کردار اساتذہ کا ہی رہا ہے، جو شبانہ روز محنت کے ساتھ نئی نسل کی علم کے ذریعے آبیاری اور تربیت کرتے ہیں۔ اساتذہ کا احترام ہر معاشرے اور مذہب میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، البتہ قرآن کے آفاقی پیغام نے اسے نہ صرف غیر معمولی اہمیت دی بلکہ مشرقی معاشرے کی روایات میں بھی اساتذہ کرام کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے آخر میں خطے خصوصاً ایران، فلسطین و لبنان اور غزہ کے مظلوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے ہوں، اساتذہ ہوں، طلباء ہوں، کم سن بچے یا شیر خوار، حتیٰ کہ بزرگ شہریوں تک کو استکبار و صہیونی ناجائز دہشت گرد ریاست آج تک تشدد، ظلم کا نشانہ بنا رہی ہے اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہیں۔