پیام شہداء کانفرنس نگر گگلت شہدائے ملت جعفریہ پاکستان بالخصوص سرزمین پاکستان کے دفاع کے دوران پاک آرمی کے شہداء جن کا تعلق وادی شہدائے نگر سے تھا ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے (ساس) وارثانِ شہداء کی جانب سے عظیم الشان پیام شہداء کانفرنس ویلی اسقرداس میں منعقد کی گئی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کو اس کانفرنس میں خصوصی شرکت کرنی تھی مگر فلائٹ کی عدم دستیابی کے باعث تشریف نہ لاسکے جس کی وجہ سے کانفرنس کی صدرات مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان ،شیعہ علماء کونسل شیخ مرزا علی نے کی جبکہ دیگر مقررین نے میں شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کے صدر علامہ شیخ منیر حسین منوری،علامہ شیخ اعجاز حسین،شیعہ علماء کونسل گلگت کے رہنما شیخ اںصار حسین ،شیخ عبد الحسین،شیخ محمد عباس وزیری،رہنما مجلس وحدت مسلمین شیخ موسی کریمی اور علامہ شیخ عابدین نائب خطیب جامعہ امامیہ کھارادر کراچی اسلامی تحریک کے منتخب رکن اسمبلی محمد علی شیخ، اسلامی تحریک بلتستان کے منتخب رکن اسمبلی و چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کیپٹین ریٹائرڈ اسکندر علی، مجلس وحدت المسلمین کے منتخب رکن اسمبلی حاجی رضوان علیعلامہ شیخ محمد اقبال توسلی علامہ شیخ شبیر حسین حکیمی نے بھی خطاب کیا علامہ شیخ مرزا علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہی پاکستان بنایا، ہم نے ہی پاکستان پر اپنا سرمایہ لگایا ہم نے ہی پاک آرمی کے جھنڈے تلے کئی جنگوں میں پاکستان کی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں،وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کو ڈوگرہ سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، ہم نے ہی ریاست پاکستان کے اندر مختلف مسالک اور فرقوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا نعرہ لگایا اور دنیا بھر کے لیئے وحدت امت کی مثال قائم کی۔ مگر افسوس کہ ہم پر ہی کفر کے فتوے لگ رہے ہیں، ہمیں ہی بسوں سے اتار کر اور شناخت کر کے قتل کیا جاتا ہے، ہم پر ہی عذاداری کے حوالے سے دباو ڈالا جاتا ہے۔ ہمارے ہی بے گناہ شیعہ جوانوں کو توازن کی ظالمانا پالیسی کے تحت نانگا پربت جیسے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھ موازنہ کروا کر مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ کہا ں ہے ریاست پاکستان، کہاں ہے ریاست کے وہ مقتدر ادارے جو عدل و انصاف کے ذمہ دار ہیں۔ ہم آج میں پر امید ہیں کہ انصاف کرنے والے ادارے اور افراد اس ریاست میں موجود ہیں اور وہ انصاف کرینگے، اور اگر ایسا نا ہوا تو یہ عدل و انصاف کا قتل ہوگا۔