شیعہ علماکونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے محرم الحرام کی آمد سے قبل کارکنوں کی گرفتاریوں اور علما پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فورتھ شیڈول کے ظالمانہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے راولپنڈی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔جس میں صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ مشتا ق حسین ہمدانی، اظہار بخاری،مولانا غلام قاسم جعفری،،سیدجعفر نقوی،مولانا نصیر موسوی ، نزاکت نقو ی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ ملت جعفریہ پرامن اور ذمہ دارہے مگر ہم احتجاج اور مذمت کرتے ہیں کہ محرم الحرام کی آمد سے پہلے ہی پرامن علما پر مختلف شہروں میں مجالس پڑھنے والوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس دنیا میں نہیں رہے، فوت ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی اور علامہ شیخ محمد شفا ءنجفی کے نام پابندی والے علما میں شامل کرنے کا شرمنا ک اقدام محض بیلنس پالیسی کے تحت افسوسناک اور ظالمانہ اقدام ہے، ان کے نام پابندی کی فہرست سے نکالے جائیں۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ عزاداری صدیوں سے جاری ہے، دہشت گردی حکومت اور ریاستی اداروںکی ناکامی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے عزاداری رک سکتی ہے اور نہ ہی ہم قربانیوں سے گھبرانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کے پرامن اور ذمہ دارشہریوں کو فورتھ شیڈول کے ذریعے تنگ کیا جارہا ہے۔ اس ظالمانہ قانون کے تحت پولیس بے گناہوں کو نظر بند کررہی ہے۔کچھ سرکاری اہلکاروںنے بانیان مجالس اور تنظیمی عہدیداران کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔کچھ ہیں کہ بانیان مجالس کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، ان سے شورٹی بانڈ ز پر کروارہے ہیں۔ جس کے نتائج کسی کے لئے اچھے نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے بے بنیاد مقدمات میں بری قراردیے جانے والے کارکنوں کو بلاوجہ سے فورتھ شیڈول میں ڈال کر تنگ کیا جارہا ہے، تھانے بلوا کر بلاوجہ مطالبات اور وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ایسے اقدامات توہین عدالت ہے، سپریم کورٹ از خود نوٹس لے ۔کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے فی الفور رہائی اورتفتان بارڈر پر زائرین کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میںشعائر تشیع کومحدود کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ہم بھاگنے والے نہیں، شہادتوں کے راہی اور قربانیوں کے عادی ہیں۔شیعہ علما کونسل کے رہنما نےمقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے اقوام متحدہ میں بھارتی مظالم بے نقاب کرنے پر جو شرمندگی عالمی سطح پر مودی حکومت کو اٹھانی پڑی ہے۔ اس کا مداوا وزیر خارجہ سشما سوراج کی بے بنیاد اور جھوٹے دعووں پر مبنی تقریر بھی نہیں کرسکی۔ بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف قوم پاکستانی فوج کے ساتھ ہے۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن کے طور پر مشہور درندہ صفت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی باتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عالمی معاہدوںسے انحراف ہے۔ حکومت کو عالمی ثالثی کونسل سے رجو ع کرنا چاہیے اور بھارتی حرکتوں کا سد باب بھی کرنا چاہیے۔