کرپشن دیمک کی طرح سرائیت کرچکی ہے۔ آئی ایم ایف اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ غزہ پر ظلم کی سیاہ رات آج بھی طاری ہے اور ایسی نسل کشی انسانیت نے نہ کبھی دیکھی اور نہ کبھی سنی۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان کے مطابق جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور او آئی سی سمیت عالمی ادارے مکمل بے بس نظر آئے ہیں۔ اقوام متحدہ ناکام ہوچکا ہے، علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے۔
اسلام آباد، 09 دسمبر 2025ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ فلسطین 1948ء سے ہی لہو لہو ہے لیکن گزشتہ دو سال سے غزہ پر ظلم کی وہ سیاہ رات نہ صرف طاری ہے بلکہ ایسی نسل کشی جاری ہے جو 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے آج تک رُکی نہیں۔ جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، او آئی سی سمیت تمام عالمی ادارے بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔ مسلط کردہ نام نہاد امن معاہدے کی قلعی غزہ میں نئی قابض اسرائیلی حد بندی نے کھول دی ہے۔ اعلان کردیا جائے کہ اقوام متحدہ ناکام ہوچکا ہے کیونکہ عالمی سامراج اور صہیونیت کے سامنے سب بے بس ہوچکے ہیں، انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں اور پاکستانی نظام میں کرپشن دیمک کی طرح پھیل چکی ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ اور تازہ ترین ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا سروے اس کا واضح ثبوت ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کرپشن کے عالمی دن، انسانی حقوق کے عالمی دن اور نسل کشی و انسانی وقار کے عالمی ایام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف دن منائے جاتے ہیں جبکہ نچلی سطح سے بالائی سطح تک، لوکل سے بین الاقوامی سطح تک کرپشن کی بھرمار ہے۔ اس کا خاتمہ صرف عادلانہ نظام سے ممکن ہے۔ پاکستانی معیشت میں کرپشن دیمک کی طرح سرائیت کرچکی ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ، سوالنامہ اور تازہ ترین ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل سروے واضح کرتے ہیں کہ ملک معاشی چیلنجز کا شکار ہے اور نظام انصاف سے لے کر صوبائی حکومتوں تک کرپشن کی داستانیں موجود ہیں۔ اگر زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے انسانی حقوق، نسل کشی اور انسانی وقار کے عالمی دن پر اقوام عالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی فراہمی کے اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔ بڑی ریاستوں اور جارح ممالک کے سامنے دنیا کا سب سے بڑا ادارہ بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قراردادوں اور بیانات کے بعد مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور دیگر مظلوم اقوام کی داد رسی ہوچکی ہوتی۔ آج بھی کشمیری مظلومیت کی زندہ تصویر ہیں جبکہ فلسطینی اپنے ہی خطے میں بے یارو مددگار کھڑے ہیں۔ فلسطین 1948ء سے لہولہو ہے مگر گزشتہ دو سال غزہ کے لئے ظلم کی بدترین رات ثابت ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نام نہاد امن معاہدے کا جشن منایا گیا مگر غزہ میں نئی قابض اسرائیلی حد بندی نے اس معاہدے کی حقیقت کھول دی۔ زرد لائن کو سرحد ڈیکلیئر کرنا عالمی سامراج کی پشت پناہی اور مسلم حکمرانوں کی کمزوری کی سب سے بڑی مثال ہے۔