قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کی میر علی مراد خان تالپور کی وفات پر اظہار تعزیت
مرحوم کی وفات ہمارے لئے انتہائی دکھ کا باعث بنی، دکھ بھرے لمحات میں غم میں شریک ہیں، قائد ملت جعفریہ
پاکستان سے الحاق پر ریاست خیرپور کے وزیرِاعلیٰ غلام حسین خان تالپور اور بانی پاکستان گورنر جنرل محمد علی جناح نے دستخط کیے تھے
راولپنڈی / اسلام آباد 07 اکتوبر 2026ء ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے پرنس میر مہدی رضا تالپور سے ان کے والد محترم ہز ہائینس میر علی مراد خان تالپور کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی وفات ہمارے لئے انتہائی دکھ کا باعث بنی، ان دکھ بھرے لمحات میں آپ کے غم میں شریک ہیں۔
بلاشبہ یہ ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن رضائے خداوندی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی تقاضائے بشریت ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان پر تالپور خاندان کے احسانات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ میر جارج علی مراد خان دوم تالپور، جو برطانوی ہندوستان کی کسی بھی سابق شاہی ریاست کے آخری زندہ حکمران مانے جاتے تھے، میر سہراب خان تالپور کی بنائی ریاستِ خیرپور کو برطانوی حکومت نے سنہ 1832ء میں تسلیم کیا تھا اور سنہ 1843ء میں سندھ پر اپنے قبضے کے بعد بھی اس ریاست کو اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
میر جارج علی مراد خان دوم کی شاہی ریاست خیرپور نے پاکستان کے ساتھ سنہ 1947ء میں الحاق کیا۔ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہو گیا تو دستاویز پر ریاست میر آف خیرپور کی جانب سے وزیرِاعلیٰ غلام حسین خان تالپور نے 3 اکتوبر 1947ء کو، جبکہ پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل محمد علی جناح نے 9 اکتوبر 1947ء کو دستخط کیے، جس کے بعد باضابطہ طور پر ریاست خیرپور پاکستان کا حصہ بنی۔
آخر میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں جوارِ رسول اکرمؐ و اہل بیت اطہارؑ میں جگہ عنایت فرمائے، تمام سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔