شیعہ علماء کونسل پنجاب کا وزیر اعلیٰ مریم نواز کو خط، عزاداری امام حسینؑ میں رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ
لاہور: شیعہ علماء کونسل پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے صوبے بھر میں عزاداری امام حسین علیہ السلام، مجالس، جلوس، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں مبینہ انتظامی و پولیس رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے آئینی، بنیادی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور عزاداری کے روایتی پروگراموں میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بعض اعلیٰ پولیس افسران سے لے کر تھانوں کی سطح تک خصوصی سکیورٹی برانچز کے اہلکار عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، جبکہ مخصوص ذہنیت رکھنے والے بعض افسران اس عمل میں پیش پیش ہیں۔
مکتوب کے مطابق عزاداری کے بانیان، متولیان اور منتظمین کو تھانوں، ڈی ایس پی اور ڈی پی او دفاتر میں طلب کرکے سخت لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، لاکھوں روپے کے شورٹی بانڈز اور مچلکے طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ نظر بندی، فورتھ شیڈول میں شامل کرنے اور مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں عزاداری کے سلسلے میں درج مقدمات میں عدالتوں سے باعزت بری ہونے کے باوجود متعلقہ افراد کو اب بھی اپنے روایتی مذہبی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب نے کہا کہ پولیس کے سکیورٹی کتابچے میں موجود غلطیوں کی متعدد مرتبہ نشاندہی کی جا چکی ہے اور متعلقہ حکام بھی ان خامیوں کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود کتابچے کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے عوام کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔
مکتوب میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عزاداری پروگراموں کی منظوری کے لیے منتظمین سے ڈپٹی کمشنرز کو درخواستیں دلوائی جاتی ہیں، جنہیں بعد ازاں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی (DIC) کو بھیج دیا جاتا ہے، جہاں اکثر اضلاع میں محرم الحرام سے متعلق پروگراموں کی منظوری نہیں دی جاتی، حالانکہ درخواست گزاروں کے پاس ان پروگراموں کے تاریخی اور مستند شواہد موجود ہوتے ہیں۔
خط کے مطابق پولیس کی جانب سے مجالس اور جلوسوں کے اوقات میں بار بار تبدیلی، دورانیہ کم کرنے اور مقررہ وقت ختم ہونے پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ بعض مقامات پر لاٹھی چارج، تبرکات اور مقدسات کی توہین اور خواتین کی مجالس میں بھی سخت رویہ اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آفیشل فیس بک دیکھیں جعفریہ پریس پاکستان
شیعہ علماء کونسل پنجاب نے مزید کہا کہ متعدد اضلاع میں بغیر تصدیق و تحقیق کے علماء، خطباء اور ذاکرین پر ضلع بندی اور زبان بندی کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے عزاداری کے پروگرام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف اضلاع میں امام بارگاہوں، گھروں کے اندر منعقد ہونے والی مجالس، نذر و نیاز، اذکار، سبیلوں، علم مبارک، تبرکات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ کئی دہائیوں سے جاری روایتی جلوسوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کے ان اقدامات سے عوام میں خوف، اضطراب، بے چینی اور شدید مایوسی کی فضا پیدا ہو چکی ہے، جس سے امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
تنظیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان شکایات کا نوٹس لیں، متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو آئین پاکستان کے مطابق شہریوں کے بنیادی اور مذہبی حقوق کے تحفظ، عزاداری امام حسین علیہ السلام کے روایتی پروگراموں کی بحالی، بلاجواز پابندیوں کے خاتمے، فورتھ شیڈول کے مبینہ غلط استعمال کی روک تھام اور عزاداری کے منتظمین کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کریں۔
بیان کے مطابق یہ مکتوب قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی خصوصی ہدایات اور رہنمائی پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کیا گیا ہے

