کو ئٹہ مستونگ میں مولانا عبد الغفور پر حملے کی پُر زور مزمت کرتے ہیں اوراس واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والوں افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں(علامہ ناظر عباس تقوی)
دہشت گرد ملک میں اس طرح کی کاروائیاں کر کے ملک کے امن کو سبوثار کرنا چاہتے ہیں حکومت کو چائیے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کرے (یعقوب شہباز)
دہشت گردوکی یہ کاروائی قومی ایکشن پلان بنانے والوں کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کئی ماہ قبل بھی دہشت گردو نے کو ئٹہ میں شناخت کے بعدہزارہ برادری کی خواتیں کو شہید کیا تھا(یعقوب شہباز)
کراچی(اسٹاف رپورٹر) شیعہ علماء کو نسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی اور صوبہ سندھ کے نائب صدر و پولیٹیکل سیکر ٹری محمد یعقوب شہباز کامشترکہ بیان میں کہنا ہے کہ کو ئٹہ مستونگ میں مولانا عبد الغفور پر حملے کی پُر زور مزمت کرتے ہیں اوراس واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والوں افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں دہشت گرد ملک میں اس طرح کی کاروائیاں کر کے ملک کے امن کو سبوثار کرنا چاہتے ہیں حکومت کو چائیے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو عبرتناک سزا نہیں دی گی تو یہ بزدل دہشت گرد اس ملک کو دیمک کی طرح ختم کردیں گے دہشت گردوکی یہ کاروائی قومی ایکشن پلان بنانے والوں کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کئی ماہ قبل بھی دہشت گردو نے کو ئٹہ میں شناخت کے بعدہزارہ برادری کی خواتیں کو شہید کیا تھا جس ملک میں دن ڈیہارے دہشت گرد خواتیں کو نشانہ بنا رہے ہوں اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر کر نے کے دعوے کر رہے ہو ں تو یہ کاروائیاں اُن کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے مکتب تشیع نے اس ملک میں اپنے پیاروں کے ہزاروں جنازے اٹھائے اور دوسری طرف قا تلوں نے اس ملک کی فضاء کو پُر تشدد بنایا اور پا کستان کی سالمیت پر حملہ کیا آج اُن دہشت گردو اور پُر امن محب وطن شہریوں کو بیلنسنگ پالیسی پر نہ رواں سلوک کا سامنا ہے قاتل قاتل ہوتا ہے اُس کو سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور مقتول کے جان ومال کا دفاع کر نا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا آئین اور قانون پر عملدرآمد کیا جائے اور اس بیلنس کی پا لیسی کو ختم کیا جائے