حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔
کوئٹہ میں پولیس ٹرنینگ کالج پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
سانحہ ہونے سے قبل تدارک کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
(اسلامی تحریک پاکستان بلتستان ڈویژن)
(سکردو) اسلامی تحریک پاکستان بلتستان کے صدر حجتہ الاسلام علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے سانحہ کوئٹہ پر شدید غم غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا
حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ارباب اقتدار جب اپنے سکیورٹی فورسز کو تحفظ نہیں دے سکتے تو غریب عوام کو سکیورٹی کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں وقفے وقفے سے دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں بے گناہوں کا خون بہنا یہ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے حکمت عملیوں میں نقص کی جانب اشارہ ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا اور خطے کا ایک طاقت ور ملک ہے اس کے پاس وسائل ،فوجیں،پولیس، ایف سی ، ٹیکنالوجی،وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق امریکہ کے بعد سب سے زیادہ انٹلیجنس ایجنسیزہیں ان سب سے بڑھ کر ان سب کو بروقت استعمال کرنے کا اختیار ہے ۔لیکن سانحات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو کہ قوم کے ہر فرد کے زبان پر ہے۔ ارباب اقتدار بتائیں کہ کسی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ذمہ داری کا قبول کرنے کی خبر قوم کے دکھوں کا مداوا ہے؟ یا ارباب اقتدار کی جانب سے مذمتی بیانات؟ یا کچھ دن بعد ممکنہ بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کی منظر عام پر نہ آنے والی رپورٹ؟ دہشت گردی ایک لعنت ہے ۔دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دہشت گردی نے پاکستان کے عزت و آبرو کو پامال کیا ہوا ہے
دہشت چاہیے جو بھی ہو، جہاں بھی ہو، جس رنگ ونسل سے تعلق رکھتی ہو، جس ظاہری شیٹ کے سایے تلے ہوں۔ان کا سفایا جب تک نہیں کرتے ملک و قوم کو سکون نہیں مل سکتا۔سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے پولیس جوانوں کے غم کو ہم اپنا غم سمجھتے ہیں۔ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ کوئٹہ سمیت ماضی میں ہونے والے تمام سانحات کے حقائق منظر عام پر لائی جائے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔