شیعہ علما کونسل کی کربلا جانے والے ہزاروں زائرین کوتفتان بارڈر، کوئٹہ میں روکنے کی مذمت
سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے ،حکومت عقیدت مندوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرے
دس ہزار سے زائد افراد کی موجودگی کے باعث کو ئی حادثہ ہوگیا تو ذمہ دار حکومت ہوگی، علامہ سبطین سبزواری
لاہور (جعفریہ پریس ) شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے تفتان بارڈر اور کوئٹہ میں کربلا جانے والے ہزاروں زائرین کو روکنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے ، ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرے ، تاکہ 20۔ صفر کو چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام میں شرکت کرسکیں۔دونوں مقامات پر دس ہزار سے زائد افراد موجود ہیں، امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگیا یا کو ئی حادثہ ہوگیا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔چند ماہ سے رکاوٹیں کھڑی کرنا حکومت کی عادت میں شامل ہوگیا ہے۔کارکنوں سے گفتگو میں انہوںنے کہا کہ بلوچستان حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے پنجاب، خیبر پختونخواہ، سندھ، آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر علاقوں سے چہلم کے موقع پر روضہ حضرت امام حسین علیہ السلام پر حاضری دینے کا عزم کئے زائرین کو روک کر غیر آئینی اقدام اٹھا رہی ہے۔کوئی بھی شہری آزادی کے ساتھ کسی بھی ملک جاسکتا ہے، سکیورٹی کے نام پر زائرین کے لئے رکاوٹیں قابل مذمت ہیں، انہیں فی الفور ہٹایا جائے۔محرم الحرام اورصفر سمیت سال کے12 مہینوںکے تمام ایام کے لئے بارڈر کے راستوں کو کھولا جائے، سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چہلم شہدا ءکربلا میں شرکت کے لئے اگر زائرین وقت پر نہ پہنچ سکے تو حالات خراب ہونے کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔ ہم متنبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور رکاوٹیں ختم کرے۔ اہل بیت عظام علیہم السلام کے مزارات مقدسہ پر حاضری ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کرنے والے اپنے لئے عذاب الٰہی کو دعوت نہ دیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو علم ہے کہ چہلم پرپاکستان سے لاکھوں لو گ ایران کے راستے کربلا جاتے ہیں۔ بارڈر پر جانے کے لئے مخصوص ایام اور تاریخوں کی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ورنہ ہم احتجاج کریں گے۔علامہ سبطین سبزواری نے کہاکہ دنیا بھر سے کروڑوں فرزندان توحید ہرسال کربلا پہنچ کر امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور یزیدیت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔