(سکردو)گلگت بلتستان اسمبلی میں اسلامی تحریک پاکستان کی خاتون ممبر اسمبلی ریحانہ عبادی نے وفاقی وزیر برجیس طاہر کی غیر ذمہ دارانہ بیان کو انتہائی مضحکہ خیز اور گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کی توہین قراردیتے ہوئے اپنے رد عمل میں کہا کہ گلگت بلتستان تاریخ شاہد ہے یہ خطہ اپنی مسلّم جغرافیائی اور قانونی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ یہاں کے غیور عوام ہمشیہ آئینی حقوق کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس خطے کی مستقبل کا فیصلہ برجیس طاہر یا بیوروکریسی نہیں بلکہ یہاں کے لاکھوں عوام کرینگے۔ جو کہ اس خطے کے عوام کا قانونی اور جمہوری حق ہے۔ انتخابات میں کیے وعدوں اور اس خطے کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی بجائے حکمران الٹے سیدھے بیانات کے ذریعے عوام کی مسلسل دل آزاری کر رہی ۔
اور کسی اور کے لیے اس خطے کو طویل عرصے سے قربانی کا بکرا بنا رکھا ہے ۔ جو کہ ناانصافی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔ اسلامی تحریک پاکستان نے سب سے پہلے اس خطے کے عوام کو بنیادی حقوق کے بابت شعور دیا اور پانچواں صوبہ کا نعرہ دیا جو کہ اب اس خطے کی لاکھوں لوگوں کا مطالبہ ہے ۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے فیڈریشن کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مستحکم پاکستان کی خاطر اس خطے کی محرومیوں کا ازالہ کرے ۔ اور اس خطے کو آئینی دھارے میں شامل کرے ۔ کشمیر کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا اگر حکمران اس بابت سنجیدہ ہوتے ۔ کسی نے مسئلہ کشمیر کو اسکے عین تقاضوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ گلگت بلتستان کے غیور عوام نے بحیثیت مسلمان ہمیشہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت کی ہے اور جد و جہد آذادی کے ساتھ تعاون کیے۔ گلگت بلتستان کی اہمیت حکمرانوں اور اداروں پر ثابت ہے ۔ لیکن نا اہلی اور تعصب کی وجہ سے آج تک اس خطے کے عوام کو ان کا حق نہیں دیا جارہا ۔ ہم قانون پسند مہذب شہری ہے ۔ ہماری قانون پسندی کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے ۔ وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی حکومت غیر ذمہ دار وزیر برجیس طاہر کے بیان پر اپنے موقف کو عوام کے سامنے لائیں ۔
#gilgitbaltsitan #sajidnaqvi #shiasuni