shia ulama council pakistan
shia ulama council pakistan

 راولپنڈی /اسلام آباد 28 مئی 2018ء (   جعفریہ پریس     ) شیعہ علماءکونسل پاکستان نے گلگت بلتستان آرڈر 2018ءکو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک گلگت بلتستان عوام کو بنیادی و آئینی حقوق نہیں دیئے جاتے اس وقت تک ان کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم سمیت وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فی الفور آرڈر2018ءکی بجائے عوامی امنگوں کے مطابق آئینی صوبے کا اعلان کریں ، گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی ملنی چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز وزیراعظم کی جانب سے گلگت بلتستان آرڈر 2018ءپر اپنے رد عمل اور عمائدین علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی واضح کہہ چکے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ءناکافی حل ہے ہم عوام کے حقوق اور گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ قرار دینے کا مطالبہ ایک عرصہ سے کررہے ہیں کیونکہ خطہ کی عوام کو باقاعدہ صوبائی شناخت دے کر ہی ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتاہے۔علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ جب تک گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی و آئینی حقوق نہیں دیئے جاتے اس وقت ان کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا، انہوںنے کہاکہ اس وقت پورے گلگت بلتستان کی عوام سراپا احتجاج ہے اور وہ مطالبہ کررہی ہے کہ انہیں ان کا آئینی حق دیا جائے،شیعہ علماءکونسل پاکستان متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے ، انہوںنے کہاکہ وفاق کو عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومت کا خاصا ہی عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرنا ہوتاہے ۔ انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی ملنی چاہیے، عوام کے ان کے بنیادی ، جائز حقوق کےلئے ہم پہلے بھی آواز بلند کرتے رہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here