یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے بے سر و سامانی کے عالم میں ڈوگرہ فوج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور 28 ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرایا۔ پندرہ دن تک یہ خطہ ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود رہا، جس کے بعد یہاں کے عوام نے اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا۔
آج کے دن گلگت بلتستان کے عوام جہاں اپنی آزادی کی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ علاقے کو آئینی صوبے کا درجہ دیا جائے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دی جائے تاکہ احساسِ محرومی ختم ہوسکے۔
یومِ آزادی کے موقع پر آزادی کے غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ 1948 کی جنگ کے غازی علی مدد نے یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کی کئی چوکیاں فتح کیں اور پچاس بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن سے چھینے گئے ہتھیاروں سے ہی ہم نے مزید محاذوں پر قبضہ کیا، حتیٰ کہ کارگل، نگر اور استور جیسے مشکل علاقوں میں بھی بھارتی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
غازی علی مدد کے مطابق، ”ہم پر دشمن نے تین دن تک فضائی حملے کیے، مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر فتح ہماری ہوئی۔“
گلگت بلتستان کے عوام اس دن کو نہ صرف آزادی کی خوشی کے طور پر مناتے ہیں بلکہ اسے قربانی، عزم اور حب الوطنی کی یادگار کے طور پر بھی زندہ رکھتے ہیں — ایک ایسا دن جب بہادر غازیوں نے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر پاکستان کا پرچم اس حسین و جری سرزمین پر لہرا دیا۔