تازه خبریں

اداریہ: سوشل میڈیا اور تفکر کا زوال

اداریہ: سوشل میڈیا اور تفکر کا زوال

دنیا بھر میں انسانیت کی فکری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ غور و فکر ہی وہ اصل قوت ہے جس نے تہذیبوں کو جنم دیا، علوم کو وسعت بخشی اور انسان کو کائنات کے رازوں تک رسائی عطا کی۔ قرآنِ حکیم نے بھی انسان کو بارہا اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ وہ “یَتَفَکَّرُونَ” — یعنی غور و فکر کرے، اور “یَتَدَبَّرُونَ” — یعنی تدبر سے نتائج اخذ کرے۔ یہی دو صلاحیتیں انسان کو حیوان سے ممتاز بناتی ہیں۔

مگر المیہ یہ ہے کہ آج کے دورِ جدید میں جہاں معلومات کے ذرائع بے پناہ بڑھ گئے ہیں، وہیں تفکر و تدبر کی صلاحیت تیزی سے زوال پذیر ہے۔ سوشل میڈیا، جو علم و آگہی کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا تھا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے انسان کو تدبر سے زیادہ تکرار، تفکر سے زیادہ تقلید کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ہر شخص کے ہاتھ میں خبر ہے مگر شعور نہیں، تجزیہ ہے مگر توازن نہیں، اور رائے ہے مگر مطالعہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر اکثریت سنجیدہ تفکر کے بجائے جذباتی ردعمل کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ فضا ایسی بن چکی ہے جہاں سوچنا، سوال اٹھانا اور دلیل دینا اکثر ’’مخالفت‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً اجتماعی فہم کا معیار گرتا جا رہا ہے، اور قومیں سطحیت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتی جا رہی ہیں۔

قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کریں، لیکن آج کا انسان اپنی انگلی کے لمس سے آگے نہیں سوچتا۔ تفکر کی بجائے “اسکرولنگ” نے جگہ لے لی ہے۔ یہی وہ فکری انجماد ہے جو قوموں کے زوال کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کے بے پناہ فوائد اپنی جگہ مسلم ہیں — اس نے اظہار کو آزادی دی، معلومات کو عام کیا، فاصلے سمیٹے — مگر اس کے بے مہار استعمال نے ایک ایسی نسل پیدا کر دی ہے جو علم کی گہرائی سے زیادہ لائکس اور ویوز کی گنتی پر مطمئن ہے۔ یہ رجحان نہ صرف فکری بانجھ پن کو جنم دیتا ہے بلکہ سماجی سطح پر عدم برداشت، سطحی رائے سازی اور فکری تقسیم کو بھی فروغ دیتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو محض تفریح یا پروپیگنڈے کے آلے کے طور پر نہیں بلکہ فکر و آگہی کے فروغ کے ذریعہ کے طور پر استعمال کریں۔ تعلیمی ادارے، دینی مراکز، اور فکری حلقے اس سمت میں رہنمائی کا کردار ادا کریں تاکہ نئی نسل دوبارہ سوچنے، سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی روایت کو زندہ کر سکے۔

کیونکہ جب قومیں سوچنا چھوڑ دیتی ہیں —
تو دوسروں کے خیالات ان پر حکومت کرنے لگتے ہیں۔