• علامہ رمضان توقیر سے علامہ آصف حسینی کی ملاقات
  • علامہ عارف حسین واحدی سے علماء کے وفد کی ملاقات
  • حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس

تازه خبریں

ارض پاک کو آزاد ہوئے 67 برس ہوچکے ہیں لیکن اس طویل عرصے کا حساب اور احتساب نہیں کیا گیا کہ کس نے ملک کو کتنا فائدہ پہنچایا اور کس نے ملک کو کتنا نقصان پہنچایا ؟ )قائد ملت جعفریہ

جعفریہ پریس  قائد ملت جعفریہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان مرکزی سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ان حالات میں تحریک پاکستان کا وہ جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے جو تشکیل پاکستان کے وقت تھا جب پرجوش عوامی جدوجہد سے تکمیل پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور اسوقت اس کی بقاء ‘ استحکام اور تعمیر و ترقی کے لئے ملک کے تمام طبقات کو مل کر سخت محنت اور جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ خارجی محاذ پر مسائل و مشکلات سے زیادہ اہم داخلی بحران اور مسائل ہیں جن پر سرفہرست امن و امان کا مسئلہ ہے ۔ خا ص منصوبہ بندی کے تحت ملک کو دہشت گردی اور لاقانونیت کی آگ میں جھونکا جارہا ہے اور سوچی سمجھی سازش کے تحت مظلوم عوام کا قتل عام بھی جاری ہے۔
یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ارض پاک کو آزاد ہوئے 67 برس ہوچکے ہیں لیکن اس طویل عرصے کا حساب اور احتساب نہیں کیا گیا کہ کس نے ملک کو کتنا فائدہ پہنچایا اور کس نے ملک کو کتنا نقصان پہنچایا ؟ ہمیں یوم آزادی کے موقع پر ان مسائل اور تلخ ماضی سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے بلکہ مسائل کے حل اور مشکلات کے خاتمے اور درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے نئے عزم کے ساتھ جدوجہد کاآغاز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی، استحکام اور مضبوطی تب حاصل ہوسکتی ہے جب ملک میں عادلانہ نظام کا نفاذ کیا جائے ، عدل و انصاف اور جرم و سزا کاقانون رائج کیا جائے، ظلم، ناانصافی، تجاوز ، زیادتی اور طبقاتی تفریق کو ختم کیا جائے ، توازن کی ظالمانہ پالیسیوں کو ختم کرکے فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، موثر، پائیدار اورمستقل اقدامات کئے جائیں، ہزاروں عوام کے قاتلوں، مجرموں، دہشت گردوں اور فرقہ پرست جنونیوں کر سرعام تختہ دار پر لٹکایا جائے، ملک میں پارلیمنٹ کو بالادستی اور جمہوری وعوامی اداروں کو تمام اختیارات دئیے جائیں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کوآزاد اور خود مختار بنایا جائے، آئین کا احترام اور قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جائے ، ملک سے بے روزگاری، رشوت ستانی، جہالت، فحاشی، عریانی، ناانصافی اور بے عدلی کا خاتمہ کیا جائے، اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تمام طبقات کے درمیان قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، دور جدید کے تمام سائنسی ، علمی ،ثقافتی اور ارتقائی تقاضوں کو اسلام اور اسلامی قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے۔
ملک کی موجودہ صورتھال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اندر مختلف پلیٹ فارم اورمختلف جماعتیں ہیں ہر جماعت کے اپنے اہداف ،اپنا ایجنڈا، اپنا موقف اور فیصلے ہیں اور اپنی سرگرمیاں ہیں ہم تمام کے فیصلوں ، موقف اورسرگرمیوں کو ان کا جمہوری حق سمجھتے ہیں ۔ ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرگرمیاں جاری رکھی جائیں اور حکومت کو بھی ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئیے جو آئین اور قانون کے مطابق ہو اور حکومت کو تحمل،بُرد باری ،سنجیدگی اور متانت کا مظاہر ہ کرنا چاہیے ایسی بات سے گریز کرنا چاہیے جس سے کشیدگی بڑھے ۔ اس کا واحد حل آئین و قانون کی روشنی میں مفاہمت، اصلاحات اور تبدیلی ہے اگر مفاہمت نہ ہوئی اور اصلاحات نہ ہوئیں یا گریز کیا گیا تو قوم بڑی مشکل میں مبتلا ہوسکتی ہے ۔ احتجاج کرنا کسی بھی جماعت کا جمہوری حق ہے البتہ ملک میں امن قائم کرنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔