تازه خبریں

استحکام پاکستان کیلئے جی بی کی آئینی حیثیت کا تعین قومی فریضہ ہے شیخ مرزا علی

گلگت بلتستان تاریخ کے اہم ترین اور نازک دور سے گذر رہا ہے اور سی پیک جی بی کے مرہون منت ہے اگر سی پیک کی کامیابی ملک کیلئے ضروری ہے تو گلگت بلتستان بھی سی پیک کیلئے ضروری ہے لذا استحکام پاکستان کیلئے جی بی کی آئینی حیثیت کا تعین قومی فریضہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور سی پیک کی کامیابی کی بنیادی سیڑھی گلگت بلتستان کو آئین میں شامل کر کے آئینی صوبہ قرار دینے میں ہے جس کی طرف نامعلوم وجوہات کے سبب توجہ نہیں دی جارہی ہے .گذشتہ سالوں کے دوران وفاق کی جانب سے سامنے آنیوالے موقف سے محسوس ہوتا ہے کہ جی بی آج بھی بہت سے محکموں کیلئے نا قابل فہم ہے جو مسئلہ کو پیچیدہ بنارہا ہے جس کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے ایک پیج پر ہوں ان خیالات کا اظہار شیخ مرزا علی نے اپنے ایک بیان میں کیا اور مزید کہا کہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ جب بھی جی بی میں آئینی حیثیت کے متعلق بیداری آتی ہے تو مختلف شکوک و شبھات پیدا کئے جاتے ہیں جب ۱۹۷۲ میں جموں کشمیر لاء کو جی بی سے ختم کر دیا گیاتب کشمیر کے سیاستدان کیوں خاموش تھے ؟ جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ جی بی کا کشمیر کاز سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے اب جی بی کی عوام سمجھتی ہے کہ جی بی کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنا سی پیک کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہے اور گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام تعجب کرتی ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ آئین کو چھیڑے بغیر جی بی کوپیکیج دیا جائے گا اور عوام سوال کرتی ہے کہ یکم نومبر ۱۹۴۷ کو گلگت کو آزاد کرانے کے بعد اسلامی جمہوریہ گلگت کے نام سے آزاد حکومت بھی قائم کی اور ۱۶ نومبر کو گلگت بلتستان نے الحاق پاکستان کا اعلان کیا تھا اس علاقہ کی آئینی حیثیت تلاش کرنے کا نہیں کہا تھا اور تعجب اس بات پر ہے کہ ۶۹ سال گذرنے کا باوجود بھی جی بی کوالحاق کا جواب نہیں ملا اور ہماری حکومتیں کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتی ہیں جو قومی مفاد کے پیش نظر ہے مگر جی بی جس نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا کے متعلق نا معلوم خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔