اعلامیہ علماء و ذاکرین کانفرنس،اسلام آباد،مورخہ23ستمبر2021ء تحفظِ حقوق مکتبِ تشیع و تحفظِ عزاداری

اعلامیہ
علماء و ذاکرین کانفرنس،اسلام آباد،مورخہ23ستمبر2021ء تحفظِ حقوق مکتبِ تشیع و تحفظِ عزاداری
مملکت خداداد پاکستان بابائے قوم ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت اور مسلمانان برصغیر کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی اور اس کے قیام و استحکام کے لیے مکتبِ تشیع کی بے انتہا قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ ہمارے وطن عزیز کا آئین تمام مسالک و مذاہب کے ماننے والوں کو آزدانہ طورپر اپنی عبادات و مذہبی رسومات کی بجا آوری کی اجازت دیتا ہے اور مکتب تشیع کی عبادات و مذہبی رسومات کی بجا آوری ان کا بنیادی، آئینی و شہری حق ہے جبکہ ولایتِ امیر المومنین علیہ السلام اس مکتب کی بنیادی اساس ہے اور عزاداریٔ سید الشہدء علیہ السلام اس مکتب کا کھلا مظہر ہے۔
ہمارے پیارے وطن کی بنیاد دینِ اسلام ہے اور اسلام ہی کو آئین پاکستان میں سپریم لاء قرار دیا گیا ہے تاہم ایک عرصے سے سرکاری اہلکار مخصوص ایجنڈے کے تحت مکتب تشیع کی عبادات و مذہبی رسومات میں بے جا غیر ضروری و غیر آئینی رکاوٹیں ڈال کر اس وطن عزیز کو کمزور کرنے پر کاربند ہیں اور اپنے مذمومانہ اقدامات کے ذریعے مکتب تشیع کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں اور وطن عزیز کے فدا کار، محب وطن وابستگان مکتب تشیع کو دیوار سے لگانے اور انہیں ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کرنے کی سازشوں میں تیزی لا رہے ہیں۔
مکتب تشیع کے خلاف ان مذموم سرگرمیوں کو تیز تر کرنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامیہ بھی شریک کار نظر آتی ہے اور اس طرح ادارے اپنے متعصبانہ طرز عمل کے ذریعے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہے ہیں۔ چنانچہ دیگر حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ ملت تشیع کے خلاف تازہ ترین اقدامات نہایت قابل مذمت ہیں۔
i. متنازعہ قانون سازی کی کوششیں۔
ii. عزاداریٔ سید الشہداء پر غیر قانونی و بلاجواز پابندیاں۔
iii. شیڈول فور کا بلا جواز اور غیر قانونی استعمال اور سنجیدہ علماء و ذاکرین پر ناروا پابندیاں۔
iv. یکساں قومی نصاب تعلیم کے نام پر متنازعہ نصاب کی ترتیب۔
v. مکتب تشیع کے خلاف سرگرم عمل تکفیری عناصر کی فعالیت کی حوصلہ افزائی ۔
vi. زائرین کے لیے مشکلات کی حامل پالیسی وغیرہ۔
ہم حکومتِ وقت اور ارباب بست و کشاد پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکتب تشیع قیام پاکستان کے وقت سے اب تک وطن عزیز میں جذبۂ حب الوطنی کے فروغ اور اتحاد بین المسلمین کے لیے سرگرم عمل رہی ہے اور ہمارا موجودہ اجتماع واضح کرنا چاہتا ہے کہ مکتب تشیع داخلی وحدت اور اپنے آئینی حقوق کی پاسداری کے لیے پوری طرح سے متحد ہے۔
ہم بحیثیت مکتب موجودہ آئین شکن اقدامات پر شدید تحفظات رکھتے ہیں اور ان اقدامات کو وطن عزیز پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک گہری سازش تصور کرتے ہوئے ارباب اختیار پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکتب تشیع کے خلاف ہونے والی ہر سازش اور اس کی عبادات و مذہبی رسومات بالخصوص ولایت حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور عزاداریٔ سید الشہداء کی بجا آوری سے متصادم کسی بھی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کو کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
علماء و ذاکرین کانفرنس،اسلام آباد
مورخہ23ستمبر2021ء
تحفظ حقوق مکتب تشیع و تحفظ عزاداری
پیش کردہ و منظور کردہ قرار دادیں
آج مورخہ 23 ستمبر 2021 کو وطن عزیز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں علماء و ذاکرین کانفرنس برائے تحفظ حقوق مکتب تشیع و تحفظ عزاداری میں شرکت کرنے کے لیے ملک کے طول و عرض سے تشریف لانے والے جید علمائے کرام، نامور خطباء و ذاکرین عظام اور مکتب تشیع کی تمام ملک گیر ملی و قومی جماعتوں و تنظیموں کے سربراہان و ذمہ داران کا یہ فقید المثال اجتماع وطن عزیز پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا عہد کرتے ہوئے حکومتِ وقت اور ملکی اداروں کی جانب سے جاری شیعہ دشمن پالیسیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور واضح کر دینا چاہتا ہے کہ:۔
1) عزاداری ہماری شہ رگِ حیات ہے اور عزاداری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں اور سازشیں ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں اورہم ان رکاوٹوں اور سازشوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
2) مکتبِ اہلبیت کی تکفیر اور اس کے مقدسات کی توہین کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف فوری طور پر سخت کار روائی کی جائے اور اس ملک دشمن منافرت آمیز مہم کو چلانے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے نیز حکومتی و غیر حکومتی سطح پر منعقد ہونے والے پروگراموں میں ان کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔
3) وطن عزیز میں جاری متعصبانہ پالیسی کی بنیاد پر عزاداروں کے خلاف فورتھ شیڈول سمیت دیگر تمام اقدامات و جھوٹے مقدمات فی الفور واپس لیے جائیں۔
4) ملک کے طول و عرض میں حالیہ ماہ محرم الحرام کے دوران سینکڑوں شیعہ افراد پر تعصب پر مبنی جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج
Shia victimization کی بد ترین مثال اور ظلم و زیادتی کی انتہاء ہے لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ان ایف آئی آرز کو فی الفور خارج کیا جائے۔
5) چار دیواری کے اندر عبادات و مذہبی رسومات پر پابندی آئین پاکستان اور بنیادی شہری حقوق کی پامالی ہے جو کہ مکتب تشیع کے لیے ناقابل برداشت ہے لہٰذآج کی اس عظیم الشان ملک گیر کانفرنس کا یہ اجتماع ذمہ داروں سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ان غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات سے گریز کیا جائے۔
6) ہم سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کو اگرچہ ایک مثبت اور ضروری اقدام سمجھتے ہیں تاہم اس کی آڑ میں مسلکی تعلیمات کو مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اس سلسلے میں مکتب تشیع کایہ ملک گیر نمائندہ اجتماع ارباب اختیار سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ
i. اسلامی نصاب تعلیم میں متنازعہ مواد کو شامل کرنے کی ہرگز کوشش نہ کی جائے۔
ii. نصاب مرتب کرتے ہوئے اس کے تمام مراحل کو تمام اسلامی مکاتب فکر کی متفقہ رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
iii. نصاب میں ’’صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ سے ’’ آلہ‘‘ اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے اسمائے گرامی کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ کو حذف کیا جانا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل پاک کی توہین کا مظہر ہے لہٰذا تمام نصابی کتب میں اس حوالے سے درستگی کی جائے۔
7) ہم نصاب تعلیم میں سے تمام اسلامی مکاتب فکر کے نزدیک مشترکہ درود ابراہیمی کو نکالنے کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک آئے وہاں ’’صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ پورا لکھا جائے ۔
8) آج کا یہ عظیم الشان ملک گیر اجتماع مکتب تشیع کے علماء کرام خطباء و ذاکرین پر لگائی گئی بلا جواز پابندیوں اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج کی پر زور مذمت کرتا ہے اور ان پر سے پابندیاں اٹھانے اور ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کے اخراج کا مطالبہ کرتا ہے۔
9) ہمارا مطالبہ ہے کہ توہین صحابہ کےالزام میں غلط ایف آئی آرز درج کرانے والے شرپسند عناصر کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔
10) ہم حکومت کی جانب سے وضع کردہ موجودہ زائرین پالیسی کو رد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ زائرین پالیسی کو علماء مکتب تشیع کی تجاویز و آراء کی روشنی میں نئے سرے سے مرتب کیا جائے۔ نیز NCOC کے تحت جاری کردہ اربعین پالیسی کو بھی ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔
11) ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے اربعین کے جلوسوں اور عزاداروں کو ملک بھر میں ہر سطح پر مکمل سکیورٹی اس انداز سے فراہم کی جائے کہ عزاداروں کی آزادی متاثر نہ ہو۔
12) اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز پاکستان کا ہر محب وطن اور اسلام دوست شہری نواسہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام سے محبت کرتا ہے اور شہداء کربلا کا عشق تمام امت مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ لہٰذا ہم قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر عزاداری حضرت امام حسین علیہ السلام پر پابندی یا رکاوٹ جیسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مراسم عزاداری کو میڈیا پر بھر پور کوریج دی جائے۔ تاکہ وحدت امت کو تقویت حاصل ہو سکے۔
13) علماء و ذاکرین کانفرنس برائے تحفظ حقوق مکتب تشیع و تحفظ عزاداری میں شریک جید علماء کرام و خطباء عظام اور ملک گیر تنظیموں کے سرکردہ افراد کا یہ عظیم الشان اجتماع حکومت وقت اور اس کے قانون ساز اداروں کے ذمہ داران پر یہ واضح کردینا چاہتا ہے کہ وطن عزیز کے قانون ساز اداروں میں مذہبی معاملات کے حوالے سے کی گئی کوئی بھی قانون سازی اس وقت تک ہمیں ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی جب تک اس پر تمام اسلامی مکاتب فکر کی متفقہ رائے نہ لے لی جائے۔
14) علماء و ذاکرین کانفرنس کا یہ عظیم الشان اجتماع حکومتِ وقت پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ مکتب تشیع کے خلاف جاری سازشوں اور سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ہم بھر پور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔