الیکشن گلگت بلتستان2015 (تجزیاتی رپوٹ)۔
تحریر حیدر عباس
نوٹ: تحریر میں لکھی گئی ووٹوں کی تعداد میں کمی بیشی ھو سکتی کیوں غیر سرکاری ذریعہ جی۔بی ٹی وی سے اعدادوشمار لیئے گئے ھیں لیکن امیدوارں کی پوزیشن بلکل صیح ھے۔
الیکشن گلگت بلتستان جو کہ 8جون کو ھوئے۔جس میں دو شیعہ جماعتوں نے بھی حصہ لیا اور دونوں جماعتوں نے2،2 سیٹیں حاصل کیں۔کہاں کہاں ھم جیت سکتے لیکن نا اتفاقی کی وجہ سے ھارے آئیے حلقہ وار تجزیہ کرتے ھیں۔
حلقہ گلگت1:
اس حلقہ میں نواز لیگ کے جعفر اللّلہ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ،اسلامی تحریک کے حسن شاہ کاظمی اور مجلس وحدت کے الیاس صدیقی الیکشن لڑ رھے تھے۔لیکن جب تکفیریوں نے نواز لیگ کے جعفر اللّلہ کی حمایت تو اس وقت صورتحال یہ بنی کی تکفیریوں کا ایک امیدوارجب کہ تین شیعہ امیدوار میدان میں تھے۔ اس حلقے میں شیعہ امیدواروں میں سے ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ سب سے مضبوط تھے اسلامی تحریک نے حالات کی نزاکت کو سمھجتے ھوئے آغا راحت کی اپیل پر اپنا امیدوار ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ کے حق میں دستبردار کروا دیا اور آغا راحت صاحب نے مجلس وحدت سے بھی اپنا امیدوار ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ کے حق میں دستبردار کروانے کی اپیل کی لیکن مجلس وحدت نے انکار کر دیا۔
الیکشن نتائج۔
نواز لیگ کے جعفر اللّلہ:6529
،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ:5554
مجلس وحدت کے الیاس صدیقی :1100
اب اگر اس رزلٹ کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ ،نواز لیگ کے جعفر اللّلہ سے 975 سے ھارے،اگر مجلس وحدت کے الیاس صدیقی کے 1100 ووٹ بھی امجد کو ملتے تو پیپلز پارٹی کے شیعہ امیدوار امجد ایڈوکیٹ 150 ووٹ سے تکفیریوں کے حامی نواز لیگ کے جعفر اللّلہ کو ھارا دیتے۔
تو حلقہ 1 سے شیعہ کی نا کامی کی ذمہ داری مجلس وحدت پر جاتی ھے کیونکہ اگر وہ اپنی ضد چھوڑ دیتے تو آج اس حلقہ میں شیعہ امیدوار کامیاب ھوتا۔
حلقہ گلگت 2:
اس حلقہ میں نواز لیگ کے حفیظ الرحمن (جو کہ شیعہ دشمن ھے)،پیپلز پارٹی کے جمیل احمد (معتدل سنی) ،،اسلامی تحریک کے سخی احمد جان اور مجلس وحدت کے معطر عباس امیدوار تھے۔ اس حلقہ میں بھی تکفریوں نے نواز لیگ کے حفیظ الرحمن کی سپورٹ کیا یہ تک بھی کہا گیا کہ سنی وزیر اعلی چاہتے ھو تو حفیظ الرحمن کو ووٹ دو اس صورتحال کو دیکھتے ھوئے حفیظ الرحمن کو ھارانے کے لئیے اسلامی تحریک نے آغا راحت صاحب کی اپیل پر اپنا امیدوار سخی احمد جان کو پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے حق میں دستبردار کروا دیا۔ جب کہ آغا راحت صاحب کی اپیل پر مجلس وحدت نے بھی اپنا امیدوارمعطر عباس کو الیکشن سے ایک دن پہلے ،پیپلز پارٹی کے جمیل احمد د کے حق میں دستبردار کروا دیا۔
نتائج۔
نواز لیگ کے حفیظ الرحمن 3000 سے پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کو شکست دی۔
سکست کی ذمہ دار۔
میرے خیال میں ون ٹو ون مقابلہ کے باوجود نواز لیگ کے حفیظ الرحمن کی کامیابی ظاہر کرتی ھے کہ عوام کا اس حلقہ میں نواز لیگ کی طرف روجحان تھا۔ لیکن اگر اسلامی تحریک اور مجلس وحدت ٓاپنے اپنے امیدوار چار،پانچ دن پہلے پیپلز پارٹی کے جمیل احمد د کے حق میں دستبردار کروا لیتے اور جمیل احمد کی کمپئن میں حصہ لیتی تو شائد آج اس حلقہ کا نتیجہ مختلف ھوتا۔
حلقہ گلگت 3۔
اس حلقہ میں نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال، ،پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد، اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع اور مجلس وحدت کے مولانا آغا نیئر امیدوار تھے۔یہاں تمام جماعتوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا باوجود اس کے کہ آغا راحت صاحب مجلس وحدت سے مولانا آغا نیئر کو اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کے حق میں دستبردار کروانے کی اپیل کی کیونکہ کیپٹن محمد شفیع مضبوط امیدوار تھے لیکن مجلس وحدت نے آغا راحت صاحب کی بات نہ مانی۔
الیکشن نتائج۔
نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال: 7852
اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع: 4555
مجلس وحدت سے مولانا آغا نیئر:3656
،پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد:2971
شکست کی ذمہ داری۔
اس حلقہ میں نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال نے اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کو 3297 سے شکست دی اگر مجلس وحدت اپنا امیدوار اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کے حق میں دستبردار کروا لیتی تو مجلس وحدت کے 3548 بھی اسلامی تحریک کو ملتے اس طرح اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع 359ووٹ سے جیت جاتے۔اس حلقہ میں شکست کی ذمہ دار مجلس وحدت ھے۔
حلقہ 4 نگر 1
اس حلقہ میں اسلامی تحریک کے محمد علی شیخ، مجلس وحدت کے علی محمد،اور پیپلز پارٹی کے جاوید حسین نے الیکشن میں حصہ۔ اس حلقہ پر ذیادہ بات نہیں کروں گا کیوں کہ اس کا رزلٹ توقعات کے عین مطابق آیا۔
الیکشن نتائج۔
اس حلقہ سے اسلامی تحریک کے محمد علی شیخ تقریباَ 1000 ووٹ کی برتری سے جیتے جبکہ پیپلز پارٹی کے جاوید حسین دوسرے اور مجلس وحدت کے علی محمد تیسرے نمبر پر رھے۔
حلقہ5 نگر 2
اس حلقہ میں اسلامی تحریک کے علامہ شیخ مرزا علی صاحب،مجلس وحدت کے رضوان علی اور دوسری جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار پرنس قاسم نے حصہ لیا۔جب کہ اسلامی تحریک کے علامہ شیخ مرزا علی صاحب کی والدہ کی وفات ھو گی جس کی وجہ سے انہوں نے غیر جانبدار رھتے ھوئے دستبرداری کااعلان کیا۔اس حلقہ پر ذیادہ تبصرہ اسلیئے ںہیں کروّں گا کیوں کہ اس حلقہ سے شیعہ امیدوار جیتا۔
الیکشن نتائج۔
اس حلقہ سے مجلس وحدت کے رضوان علی تقریباَ 450 ووٹ کی برتری سے جیتے جبکہ آزاد امیدوار پرنس قاسم دوسرے نمبر پر رھے۔
یاد رھے اگر علامہ شیخ مرزا علی صاحب دستبرداری کااعلان نہ کرتے تو مجلس وحدت کے رضوان علی کی جیت مشکل تھی۔
حلقہ 6 نگر 3
اس حلقہ میں نواز لیگ کے میر غضنفر اور آزاد امیدوار بابا جان اور مجلس وحدت کے امیدوار نے حصہ لیا جبکہ اسلامی تحریک نے امیدوارکھڑا نہ کیااور غیر جانبدار رہی۔
الیکشن نتائج۔
اس حلقہ میں مقابلہ نواز لیگ کے میر غضنفر اور آزاد امیدوار بابا جان کے درمیان تھا جس میں نواز لیگ کے میر غضنفر کامیاب ھوئے۔
حلقہ 7سکردو 1
اس حلقہ میں نواز لیگ کے اکبر تابان،تحریک انصاف کے راجہ جلال، پیپلز پارٹی کے مھدی شاہ،اسلامی تحریک کے غلام شہزاد آغا،اور مجلس وحدت کے شیخ زاہد نے حصہ لیا اس حلقہ میں مقابلہ بہت سخت تھا۔
الیکشن نتائج۔
،تحریک انصاف کے راجہ جلال نے نواز لیگ کے اکبر تابان کو صرف ایک ووٹ سے مات دی ،راجہ جلال شیعہ ھیں، پیپلز پارٹی کے مھدی شاہ تیسرے،اسلامی تحریک کے غلام شہزاد آغا چوتھے اور مجلس وحدت کے شیخ زاہد پانچوایں نمبر پر رھے۔
اگر مجلس وحدت اسلامی تحریک کے غلام شہزاد آغا کی حمایت کرتی تو وہ مضبوط امیدوار تھے۔
حلقہ 8 سکردو 2
اس حلقہ میں نواز لیگ کے محمد علی شاہ، مجلس وحدت کے امتیاز کاچو خان اور اسلامی تحریک کے آغا عباس رضوی صاحب نے حصہ لیا۔یہ تینوں امیدوار شیعہ ھیں۔ اس حلقہ پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ جیتنے ھارنے والے سب شیعہ ھیں۔
الیکشن نتائج۔
مجلس وحدت کے امتیاز کاچو خان کامیاب ھوئے جبکہ نواز لیگ کے محمد علی شاہ دوسرے اور اسلامی تحریک کے آغا عباس رضوی صاحب تیسرے نمبر پر رھے۔
اس حلقہ میں مجھے ایک بات کا افسوس ھے کہ آغا عباس رضوی صاحب جیسا ایماندار اور درویش صفت انسان ھارے اورامریکہ کی این۔جی۔او (یو ایس ایڈ) کاممبرکامیاب ھوا۔
حلقہ 9 سکردو 3
اس حلقہ میں نواز لیگ کے فدا محمد ناشاد،مجلس وحدت کے وزیر سلیم،اسلامی تحریک کے علامہ اکبر شاہ رضوی صاحب امیدوار تھے، لیکن فدا محمد ناشاد کی ذاتی درخواست پر اسلامی تحریک نے اپنا امیدوار ان کے حق میں دستبردارکروادیا۔
الیکشن نتائج۔
اس حلقہ میں فدا محمد ناشاد صاحب کامیاب رھے جبکہ مجلس وحدت کے وزیر سلیم دوسرے نمبرپر رھے۔
فدا محمد ناشاد صاحب 6246
مجلس وحدت کے وزیر سلیم5554
نوٹ
یہ وہ حلقہ ھے جس کی وجہ سے مجلس وحدت کے لوگ اسلامی تحریک پر زیادہ تنقید کرتے کیونکہ اسلامی تحریک کی حمایت سے فدا محمد ناشاد صاحب جیت پائے اور وزیر سلیم کو شکست ھوئی۔اسلامی تحریک کا موقف یہ ھے کہ ھمارا کسی بھی جماعت سے اتحاد نہیں لیکن بعض امیدواروں نے حمایت کے لیئے انفرادی طور پر ھم سے رابطہ،لیکن وزیر سلیم نے حمایت کے لیئے ھم سے رابطہ نہیں کیا جبکہ انکے مدمقابل فدا محمد ناشاد صاحب جو کہ تحریک جعفریہ کا حصہ بھی رھے اور تحریک جعفریہ کی طرف سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو بھی رھے اور ایک مخلص اور باکردار شخص ھیں انہوں نے حمایت کے لیئے ھم سے رابطہ کیا جس کی وجہ سے حمایت کی،ایک اور خوشآئند بات کہ شائد فدا محمد ناشاد صاحب وزیر اعلی بھی بن جائیں۔
خیر دونوں امیدوار شیعہ ھیں۔
حلقہ10 رندوو 4
اس حلقہ میں اسلامی تحریک کے کیپٹن سکندر علی اور مجلس وحدت کے راجہ ناصر خان امیدوار تھے۔یہ دونوں شیعہ ھیں۔
الیکشن نتائج۔
اس حلقہ میں اسلامی تحریک کے کیپٹن سکندر علی کامیاب جبکہ مجلس وحدت کے راجہ ناصر خان دوسرے نمبرپر رھے۔
نوٹ:
اس حلقہ میں ھارنے والے امیدوار کے سپوٹرز مشتعل ھوئے اور اسلامی تحریک کا ایک کارکن اکبر شاہ شہید ھوئے لیکن اسلامی تحریک کے ذمہ داران نے ملت کی عزت کی خاطر اس الزام دوسری جماعت پر نہ ڈالا۔
حلقہ 11سکردو5
اس حلقہ میں اسلامی تحریک کے شیخ افضل صاحب، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم،مجلس وحدت کے شجاعت میثم اور نواز لیگ کے راجہ اعظم امیدوار تھے، لیکن پیپلز پارٹی کے عمران ندیم کی درخواست پراسلامی تحریک نے اپنا امیدوار انکے حق میں دستبردار کروا لیا۔
الیکشن نتائج۔
اسلامی تحریک کے حمایت یافتہ اور پیپلز پارٹی کے عمران ندیم کامیاب جبکہ نواز لیگ کے راجہ اعظم دوسرے نمبرپر رھے۔
عمران ندیم:10426
راجہ اعظم:9851
نوٹ۔
عمران ندیم وہ شخص ھیں جنہوں ںے سیاست کا آغاز تحریک جعفریہ سے کیا تھا لیکن پابندی لگنے پر پیپلز پارٹی میں گئے آج بھی قیادت سے مخلص ھیں۔ پیپلز پارٹی یہ واحد سیٹ حاصل کر سکی وہ بھی اسلامی تحریک کی مدد سے۔جس کا اعتراف مھدی شاہ کر چکے ھیں۔
حلقہ 12 سکردو 6
س حلقہ میں اسلامی تحریک کے علامہ شمس الدین صاحب، ،مجلس وحدت کے فدا شگری ، نواز لیگ کے اقبال حسن اور تحریک انصاف کے امجد زیدی امیدوار تھے،
الیکشن نتائج۔
س حلقہ میں اسلامی تحریک کے حمایت یافتہ اقبال حسن کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے امجد زیدی دوسرے نمبرپر رھے۔
اقبال حسن:5564
امجد زیدی 4592
نوٹ۔
اس حلقہ میں تمام امیدوار شیعہ تھے۔
اختتامیہ:
تمام حلقوں کی رپورٹ آپ کے سامنے ھے اگر بغور جائزہ لیا جا تو دیکھا جا سکتا ھے کہ اسلامی تحریک کی وجہ سے صرف ایک حلقہ میں مجلس وحدت کو نقصان ھوا وہ ھے حلقہ 10 سکردو 3 لیکن اس سے ملت جعفریہ کا نقصان نہیں ھوا کیونکہ جو جیتا وہ بھی شیعہ تھا۔
لیکن مجلس وحدت ک کی وجہ سے کم از کم تین حلقے دشمن کے ھاتھ میں گئےاور ان حلقوں سے متعصب لوگ منتخب ھوئے یعنی گلگت حلقہ 1گلگت حلقہ 2 گلگت حلقہ3،جوکہ ملت کا نقصان ھوا