• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

اکرام الحق عرف لاہوری کوآج صبح ساڑھے چھ بجے تختہ دارپرلٹکا دیا گیا

جعفریہ پریس – کالعدم تنظیم کے رکن اکرام الحق عرف لاہوری کو آج صبح ساڑھے چھ بجے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، اکرام الحق لاہوری کو یہ پھانسی لاہور کی معروف جیل کوٹ لکھپت میں دی گئی۔ اکرام الحق کو 8 جنوری بروز جمعرات کو تحتہ دار پر لٹکایا جانا تھا مگر مقتول کے لواحقین کی جانب سے راضی نامہ پیش کئے جانے کی وجہ سے عین وقت پر اس کی پھانسی ٹل گئی تھی جب اسے تختہ دار پر چڑھایا جا رہا تھا۔ راضی نامہ موصول ہونے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ بھجوا دیا تھا۔ مجرم اکرام الحق لاہوری نے 2001ء میں شورکوٹ کے علاقے میں فرقہ ورانہ واردات کے دوران ایک شخص نیئر عباس کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جس پر 2004ء میں فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے اپیلیں خارج ہونے کے بعد صدر مملکت نے بھی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی جس پر اس کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے لیکن مقتول کے لواحقین کے ساتھ صلح ہونے پر وہ تختہ دار پر لٹکنے سے بچ گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقتول کے تمام لواحقین کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے کے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر راضی نامے کو مسترد کرتے ہوئے منگل کو اکرام الحق کے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئیے تھے جس پر آج عمل درآمد کر دیا گیا۔ پھانسی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی جو اسے لے کر شورکوٹ روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ یہ صلح نامہ قاتل و مقتول کے بعض ورثاء کے مابین انجام پایا تھا اور ملت جعفریہ کے قومی پلیٹ فارم کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا تاہم بعض میڈیائی ذرائع غلط انداز سے اسے دو جماعتوں کے مابین صلح نامہ قرار دے رہے تھے جو سراسر بہتان تھا جس کی قومی پلیٹ فارم  نے بروقت تردید کی تھی جبکہ اکرام الحق لاہوری کوبھی اکرم لاہوری گردانا گیا تھا جوکہ سکھر جیل میں ہے