بڑھتی آبادی سے بڑا خطرہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ،قائد ملت علامہ ساجد نقوی

بڑھتی آبادی سے بڑا خطرہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ،دنیا کیوں اس جانب متوجہ نہیں، علامہ ساجد نقوی
 اسلام نے خاندانی نظام سے ریاستی نظام تک ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی/ اسلام آباد 10 جولائی 2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کو بڑھتی آبادی کے خوفناک خطرے کے گھیر رکھا ہے اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں آبادی کنٹرول پروگرامز بھی چل رہے ہیں مگر افسوس اس خطرے کی بنیادی وجوہ کو ہی نظر انداز کیا جارہاہے ،بڑھتی آبادی کو ہی غربت کی بڑی وجہ قرار دیا جاتاہے حالانکہ سب سے بڑی وجہ طبقاتی ، استحصالی اور غیرعادلانہ نظام ہے ، معاشی و معاشرتی نظام کو عادلانہ رکھنے کےلئے ہی قرآن کریم رہنمائی فرماتاہے کہ ” مال تمہارے دولت مندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے “، مگر ان واضح احکامات کے باوجود عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ہرگزرتے منٹ میں 11افراد غذاتی قلت و غربت کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے عالمی یوم آبادی پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پوری دنیا میں اس وقت بڑھتی آبادی کے خطرے کی مہم زورں پر ہے اس حوالے سے مختلف پروگرامز اور پراجیکٹس پر بھی کام کیا جارہاہے حالانکہ اصل وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ، غیر منصفانہ فیصلے ، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی کے ہیں لیکن اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ؟ ۔
قرآن پاک میں واضح الفاظ میں کہاگیا کہ ” اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرومفلسی کے ڈر سے،ہم تمہیں بھی اور انہیں بھی روزی دینگے بے شک ان کا قتل بڑا گناہ ہے “ (سورة الاسراءآیت 31) ، سورة نور آیت 32 میں انسان کو متوجہ کیا جاتاہے کہ ”اور تم میں جو لوگ بے نکاح ہوں اور تمہارے غلاموں اور کنیزو ں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کردو، اگر وہ نادارہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا اور اللہ بڑی وسعت والا، علم والا ہے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے خاندانی نظام سے ریاستی نظام تک ہر معاملے میں میانہ روی پر زور دیا ہے لیکن افسوس آبادی کنٹرول پر زور تو بہت زیادہ دیا جاتاہے اور بڑھتی آبادی کو غربت کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتاہے حقیقت میں بڑا مسئلہ تو طبقاتی تفریق کا ہے جو معاشروںمیں پروان چڑھ رہاہے اور یہ کلچر سوشل ازم اور کیپٹل ازم جیسے بظاہر خوشنما نعروں اور سٹیٹس کے ساتھ پروان چڑھا مگر یہ انسانیت کو معاشی انصاف کی فراہمی کیا یقینی بناتا بلکہ انسانیت پہلے سے بھی بدترصورتحال سے دوچار ہوگئی خود اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 15فیصد تک دنیا کی آبادی نان شبینہ کو ترستی ہے جبکہ غربت خاتمے بارے کام کرنیوالے ادارے اوکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ہر منٹ میں11 افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں،تو ایسے میں غور کیا جائے کہ اس کی بنیادی وجہ کیا یہ غاصبانہ طرز حکومت و غاصب معاشی نظام نہیں ؟اسلام جومکمل ضابطہ حیات ہے جومساوی بنیادی حقوق و معاشی مساوات کاعلمبردار ہے قرآن پاک کی سورة الحشر ”مال تمہارے دولت مندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے “ کیا آج صورتحال ایسی نہیں ہے کہ چند خاندان، چند ممالک دنیا کے 80فیصد وسائل پر کسی نہ کسی شکل میں قابض ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی پالیسیز میں نظر انداز کیا جاتاہے اور جو معاشرے خود انحصاری و خود مختاری کی بنیاد پر ترقی کی طرف بڑھتے ہیں انہیں بھی مختلف حیلوں سے ظالمانہ پابندیوں کے ذریعے دبایا جاتاہے، عالمی معیشت کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک جیسے اداروں نے جکڑ رکھا ہے جب تک یہ استحصالی ، غیر منصفانہ نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا، دنیا میں امن، مساوی حقوق کی فراہمی صرف نعروں تک ہی محدود رہے گی ۔