جبری گمشدگی بین الاقوامی چارٹرزکی سنگین خلاف ورزی ہے،قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی
جبری گمشدگی بین الاقوامی چارٹرزکی سنگین خلاف ورزی ہے، ساجد نقوی
 
کسی مذہب کی تعلیمات یا کسی بھی ریاست کا کوئی آئین و قانون جبری گمشدگی کی اجازت نہیں دیتا،قائد ملت جعفریہ پاکستان
 
 کسی پر شبہ ہو تو شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ کیس بنا کر عدالت میں پیش کر کے اس کے ذریعے سزا دی جائے،بین الاقومی دن پر پیغام
 
  راولپنڈی /اسلام آباد 30 اگست 2021ء( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ جبری گمشدگی انسانی عزت و تکریم کی توہین کیساتھ غیر آئینی و غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین و انسانی حقوق کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے ، بنی آدمؑ جسے آزادی اس کے خالق نے دی ، مخلوق یہ نعمت اس سے کسی صورت سلب نہیں کرسکتی، کسی شخص پر شبہ ہو تو فیئر ٹرائل کے ذریعے سزا دی جائے۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے لاپتہ افراد (جبری گمشدگی)سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ قرآن پاک نے بنی آدم کو شرف و مقام، عزت و تکریم عطا فرمائی ہے جبری گمشدگی یابغیر کسی وجہ کے قید میں رکھنا توہین انسانیت کے زمرے میں آتاہے ، کسی شخص کو کسی بھی ملک میں بغیر کسی وجہ کے لاپتہ کرنا، پابند کردینا ریاستوں کے داخلی آئین و قوانین کے ساتھ بین الاقوامی قوانین، ضوابط اور انسانی حقوق کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ سنگین ترین جرم ہے اسی لئے کسی انسان یا ادارے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ بلا وجہ کسی انسان کی آزادی کو سلب کرے کیونکہ یہ تمام مذاہب کی تعلیمات کے ساتھ متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی چارٹرز کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ اگر کسی شخص پر کسی جرم کے ارتکاب کا الزام ہے تو اس شخص کےخلاف منصفانہ و غیر جانبدارانہ تحقیقاتی عمل مکمل کرکے اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے اور پھرانصاف کے تمام تقاضوں کو پورے کرتے ہوئے عدالت کا اختیار ہے کہ اسے سزا دے ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے آئے روز لاپتہ افراد کی خبروں بارے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ افراد کا معاملہ اب ملکوں سے بین الاقوامی سطح تک پہنچ گیاہے جو انتہائی تشویشناک ہے ، اس حوالے سے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کو صرف یادداشتیں ، قراردادیں یا دن مختص کرنے سے بڑھ کر اقدامات اٹھانا چاہئیں تاکہ بنی آدم کو درپیش اس سنگین خطرے اور اس کی اس طرح سے ہوتی بے توقیری کی روک تھام کی جاسکے۔