جمہوری حکومت کا کام مالیاتی اداروں کی ایماءپر چلنا نہیں عوامی ریلیف کی فراہمی ہوتاہے ، ساجد نقوی

جمہوری حکومت کا کام مالیاتی اداروں کی ایماءپر چلنا نہیں عوامی ریلیف کی فراہمی ہوتاہے ، علامہ ساجد علی  نقوی
ایک سال میں دوسری بار بجٹ آنا باعث پریشانی، سطح غربت میں مزید اضافہ ہوگا،قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی /اسلام آباد31 دسمبر2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیںکہ جمہوری حکومت کا بنیادی کام عوام کو ریلیف فراہم کرناہے، ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں،چھ سے سات ماہ کے دوران ایک اور بجٹ آنا باعث پریشانی ہے،نمک، کتابوں سمیت زرعی بیج بھی مہنگے کرنے سے سطح غربت میں مزید اضافہ ہوگا، معاشی تحفظ کےلئے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھنے کی بجائے خود انحصاری کی پالیسی اپنائی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کئے جانے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ عالمی مالیاتی اداروں کی ایماءپر ان کی مشکلا ت میں اضافہ کرنا نہیں ،جمہوری حکومت کا بنیادی کام عوامی مفاد کو مد نظر رکھنا اور انہیں ریلیف فراہم کرنا ہوتاہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہر دور میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے اسے عالمی مالیاتی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھایاگیا، حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب ملک میں مڈل کلاس تقریباً ختم ہوچکی ہے جس نے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام انجام دینا ہوتاہے اور اسی باعث امیر و غریب کے درمیان فرق مزید واضح ہونے کے ساتھ ساتھ سطح غربت میں مزید اضافہ ہورہاہے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ہم نے سالانہ بجٹ پر کہا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ایسی ہیں کہ شائد کچھ عرصہ بعد پھر منی بجٹ کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا جائےگا اور ایسا ہی کیاگیا، پہلے جواز تراشا جاتا تھا کہ مہنگائی بیرونی اشیاءکی درآمد سے ہوتی ہے مگر منی بجٹ میں گوشت، نمک، بچوں کے دودھ ، کتابوں اور سلائی مشینوں سمیت کپاس و دیگر اجناس پر ٹیکس لگایا جارہاہے جنہیں درآمد نہیں کیا جاتا بلکہ انہیںبرآمد کیا جاتاہے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کبھی بھی عالمی مالیاتی اداروں کے اشاروں پر چل کر ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ اس سے ایک طرف ملک مزید عالمی مالیاتی اداروں کی دلدل میں دھنسے گا تو دوسری جانب عوام کا جینا محال ہوجائےگا اس لئے ضروری ہے کہ ان مالیاتی اداروںکی بجائے ملکی مفاد میں مشکل ترین فیصلے کئے جائیں مگر عوام کے ساتھ سچ بولا جائے اور خود انحصاری کی پالیسی اپنائی جائے ۔