امام حسن علیہ السلام کی ولادت با سعادت ۱۵/رمضان المبارک تین ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ؛ آپ کی کنیت ابو محمدہے۔(الارشاد،ص۲۳۴) آپ کی پرورش سایہٴ نبوت، موضع رسالت، مختلف الملائکہ اور معدنِ علم میں ہوئی آپ امام ہدیٰ، سید شباب اہل الجنۃ ہیں، آپ ہی کی ذات ان دو میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ ذریت رسول اعظمﷺ باقی ہے آپ ہی ان چار حضرات میں سے ایک ہیں جن کے ذریعہ رسولِ اعظم ﷺنے نصاریٰ نجران سے مباہلہ کیا اور آپ بھی پنجتن پاک علیہم السلام کی ایک فرد ہیں جن کی شان میں آیہٴ تطہیر نازل ہوئی۔
پیغمبرِ اعظم ﷺنے حسنؑ وحسینؑ کے بارے میں بار بار تاکید کی ہے کیونکہ انہیں مستقبل میں امت کی رہبری جیسے فریضے کو نبھانے کے لئے اہم کردار ادا کرنا تھا،اور ان دونوں کو بہت بڑی ذمہ داری نبھانےکے لئے تیار کر رکھا تھا آپ نے صراحت کےساتھ فرمایا:
«الحسن والحسین إمامان قاما أو قعدا»
حسنؑ وحسینؑ دونوں امام و پیشوا ہیں،انہیں امت کی رہبری کےلئے شرائط مہیا ہوں یا شرائط مہیا نہ ہوں۔(قیام یا صلح) (الاشاد،ص۲۴۹؛ حیاۃ الحسن،ج۱،ص۸۸)
اسی طرح دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا:
«انتما الامامان ولامکما الشفاعة»
تم دونوں امام ہو اور تمہاری والدہ کو شفاعت کرنے کا حق ہے۔ (نزہۃ المجالس،ج۲،ص۱۶۵)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
«احب اهل بیتی الی الحسن والحسین»
مجھے اپنے اہل بیت ؑ میں سب سے زیادہ محبوب حسن ؑاور حسینؑ ہے۔ (الصواعق المحرقہ،ص۱۹۲)
آنحضرتؐ نے حسنؑ وحسینؑ کے بارے میں فرمایا:
«هما ریحانتای من الدنیا»
دنیا میں یہ دونوں میرے پھول ہیں۔ (صحیح بخاری،ج۴،ص۱۸۵۲)
اور آنحضرت ﷺکی یہ حدیث تو زبان زد خاص وعام ہے:
«الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنة»
حسنؑ وحسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں۔ (سنن ترمذی،ص۹۸۸؛ تاریخ الخلفا،ص۱۸۴)
آپؑ سات سال تک پیغمبراعظمﷺ کے زیر تربیت رہے آنحضرتﷺ کو یہ گوارا نہیں تھا کہ امام حسن ؑ اور امام حسینؑ آپ سےجداہوں وہ دونوں بھائی اس طرح آپؐ کے ساتھ رہتے تھے جیسے روشنی سورج کے ساتھ ہوتی ہے۔ (الشیعۃ والحاکمون،ص۱۰۲)
امام حسن علیہ السلام بہت بڑے دل کے مالک اور کریم تھے؛ آپ کسی مسئلے کو جذباتی انداز میں نہیں سوچتے تھے۔آپ کی دوراندیش نظریں ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل پر ہوتی تھیں۔ اس لئے جب آپ نے حکومت پر حاکم شام سے صلح کی تومسلمانوں کے عظیم تر مفادات آپ کے پیش نظر تھے۔واضح رہے کہ آپ نے امامت و خلافت کے حوالے سے حاکم شام کے ساتھ صلح نہیں کی تھی کیونکہ امامت اور خلافت ایک الٰہی عہدہ ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا البتہ آپ نے حکومت اور اقتدار کے حوالے سے حاکم شام کے ساتھ جنگ میں صلح کی تھی جیسا کہ اس سے پہلے آپ کے بابا نے جنگ صفین میں حاکم شام کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود بعض افراد نے آپ کے اس اقدام پر اعتراضات کئے ہیں۔
امام حسن علیہ السلام کے صلح کرنے پر جن افراد (قیس بن سعد بن عبادہ، حجر بن عدی، عدی بن حاتم، مسیب بن نجبہ، سلیمان بن صرد، سفیان بن ابی لیلی)نے اعتراض کیا ہے وہ محبان اہل بیتؑ ہی تھے۔ انقلابی جوشیلے مزاج کے حامل شیعہ جو کسی صورت پیچھے ہٹنے کے قائل نہ تھے اور صلح کے مخالف تھے اور گاہے بگاہے اس عمل سے دل برداشتہ ہو کر امامؑ سےیوں مخاطب ہوتے تھے:”السلام علیک یا مذلّ المومنین” یعنی آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے لئے ذلت کا باعث بننے والے؛ یہ افراد خلافت کو صرف آل علیؑ ہی کا حق مانتے تھے۔ اس کے باوجود اسلام سے امویوں کی دشمنی سے واقفیت اور اپنے انقلابی مزاج کی وجہ سے ان کی خواہش تھی کہ ہر صورت میں ان کے مقابل کھڑا ہونا چاہئے۔لیکن جن چیزوں کو امام حسن علیہ السلام دیکھ رہے تھے وہ ان پر مخفی تھیں؛ امام کا نقطۂ نظر انتہائی مضبوط اور منطقی تھا؛ آپ ایک ہوشیار اور وقت شناس حاکم تھے۔ یہ لوگ امام کی دوراندیشی کو سمجھ نہیں پا رہے تھے کیونکہ امام حسنؑ پوری صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہے تھے کہ جنگ اگر شروع ہوئی تو اس کے خاتمے تک سارے مخلص مسلمان شہید کر دیئے جائیں گے اور بنو امیہ کے انحرافات اور اسلام دشمن اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔
امام حسن علیہ السلام نے صلح کے اقدام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس صاحبِ علم (حضرت خضرؑ) ساتھی کے کشتی میں سوراخ کر دینے کی مانند قرار دیا ہے، جس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کشتی کو اس کے مالکوں کے لئے محفوظ رکھا جائے۔ (بحار انوار ،ج۴۴،ص۱۹؛ تحف العقول،ص۲۲۷؛ عوالم العلوم،ج۱۶،ص۱۷۵؛ فرائد السمطین، ج۲، ص۱۲۰)
آپ نےاپنی صلح کو اپنے نانا کی صلح کے مشابہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو ہمارے شیعوں میں سے ہر ایک قتل ہو جاتا۔(علل الشرائع،ج۱،ص۲۱۱؛ عوالم العلوم،ج۱۶،ص۱۷۰) اور آپ نے اپنے اس اقدام کو مومنین کے لئے عزت سے تعبیر کیا ہے۔کتنا فرق ہے کہ ایک ہی اقدام کو پیروکار ذلت سے جبکہ رہبر اسے عزت سے تعبیر کر تا ہے۔امام ؑنے ایک شخص کے اعتراض کے جواب میں فرمایا:
“اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کشتی میں سوراخ کرنے کےراز کو جانتے ہوتے تو حضرت خضر ؑپر اشکال نہ کرتے اسی طرح اگر تم صلح کے راز کو جانتے ہوتے تو مجھ پر اعتراض نہ کرتے۔”(علل الشرائع)
ہرامام کااصل مقصد پیغمبر اعظم ﷺ کے لائے ہوئے نظام کا تحفظ اور نظام امامت کے تحفظ کے سائے میں اسلامی معاشرہ سازی ہے اور یہ عمل حالات و حقائق کے پیش نظر مختلف روشوں سے انجام پاتا ہے۔ ہر امام اپنے زمانے میں اپنے حالات کو مد نظر رکھ کر اس ہدف کے حصول کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور ہر امام کے زمانے کے حالات سابق امام کے زمانے کے حالات سے مختلف ہوتے ہیں چنانچہ ہر امام کی روش بھی سابق امام کی روش سے مختلف ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے اقدامات ہدف کے حصول کی روشیں ہیں۔ اسی بنا پرلبنان کے شیعہ بزرگ عالم دین مرحوم شرف الدین الموسوی العاملی کہتے ہیں:
یہ دوبھائی ایک رسالت کے دوچہرے تھے ہر ایک کی ذمہ داری اپنے زمانے کےحالات وشرائط کےمطابق تھی جواہمیت کےلحاظ سے بھی اورفداکاری وجانثاری کےحوالے سے بھی معادل اور ہم وزن تھی۔امام حسنؑ کوجان کی پروا نہ تھی اور راہِ خدامیں حسینؑ سےبڑھ کرکوئی صابر اوردرگذر کرنےوالا نہ تھا،ایک نےاپنی جان کوخاموشی کےجہاد میں صرف کیا،تاکہ گرم جنگ کےلئے فرصت اورموقع فراہم ہوسکےاگریوں لکھاجائے تومناسب ہوگا کہ شہادت کربلا حسینیؑ ہونے سےپہلےحسنیؑ تھی ۔( صلح الامام الحسن شیخ راضی آل یاسین،صفحہ،ط)
صاحبان نظراوراہل عقل کا کہنا ہے:
امام حسنؑ کا روزِساباط(مقامِ صلح)امام حسینؑ کےروزعاشور سے کہیں زیادہ فداکاری کےمفہوم کواوج عطاکرتا ہے،اس لئے کہ امام حسنؑ نے مظلومانہ انداز میں ایک زبردست بہادر کاکرداراداکیا۔شہادت عاشورا اس اعتبار سےحسنیؑ تھی کہ امام حسنؑ نے ہی اس کی بنیاد رکھی اورحسینیؑ بےمثال کارنامے کے وسائل فراہم کئے۔(ایضاً)
استاد شہید مطہریؒ کا قول بھی ملاحظہ ہو :
“بے شک اگر امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں ہوتے تو وہ بھی امام حسین علیہ السلام کا کام ہی انجام دیتے اور اگر امام حسین علیہ السلام کو امام حسن علیہ السلام جیسے حالات و حقائق کا سامنا ہوتا تو وہ بھی وہی کچھ کرتے جو امام حسن علیہ السلام نے کیا۔”(سيري در سيرہ ائمہ اطہار،ص 60)
امام حسن علیہ السلام نے صلح کی پیشکش قبول کر کے نظام امامت کوباقی رکھا؛ تشیع بھی باقی رہی ، آج بھی باقی ہے اور کوئی بھی طاقت اسے مٹانے کی قوت و صلاحیت نہیں رکھتی لہذا یوں ہم کہہ سکتے ہیں :
آپ کی صلح نہایت مفید اور پرثمر تھی اور ہم جانتے ہیں کہ جس مصالحت سے اہداف حاصل ہوجائیں وہ مصالحت اس جنگ سے بہتر ہے جس سے مقاصد کا حصول پردہ ابہام میں ہو یا پھر اس سے نقصان کے سوا کچھ بھی نہ مل رہا ہو۔
امام حسن علیہ السلام کی حکومتِ اسلامی کے خاتمہ کاسب سےاہم سبب رہبرِوقت کی عدمِ اطاعت ہے۔ اسی طرح انہوں نے امام حسنؑ کوصلح کرنے پرمجبورکیا اوربعد میں ایسا کرنے کی بناپر ان پراعتراض کیاتھا۔ ایسے حالات میں اگر امام حسن ؑصلح نہ کرتے تو کیا کرتے جب دشمن دین کی خلاف ورزیاں کررہاتھا،فریب کے جال بچھا رہا تھا اور اپنی بیٹیوں کے رشتےدے رہا تھا،اپنےفوجی امام کی بات نہیں مان رہے تھے اور حاکمِ شام کی صفوں میں شامل ہورہے تھے توآپ کے سامنے صلح کےسوا کون سا راستہ کھلاتھا؟( الشیعۃ والحاکمون، ص۱۱۵)
لوگ رہبران کی مشکلات کو بھول جاتے ہیں جو ہر طرف سے ان کو جکڑے ہوئے ہوتی ہیں۔وہ چیزوں کو دور سے دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں اور واقعات کے اسباب اور نتائج کا علم نہیں رکھتے۔چونکہ اسباب زمینی حقائق سے جڑے ہوتے ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص وقت اور حالات کو نظر انداز کرکے اپنا مقصد حاصل کر سکے۔لوگ “رہبر”پر تونکتہ چینی کرتے ہیں لیکن اس “معاشرہ”کو کچھ نہیں کہتے جوافراد کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہم لوگ اسی مشکل میں گرفتار ہیں ہمارے تمام تر مسائل اپنے قائد کی عدمِ اطاعت کی وجہ سے ہیں۔
اسی نکتہ کی جانب توجہ دلانے کےلئے علامہ سیدشہنشاہ حسین نقوی کہتے ہیں:
پاکستان میں قیادت کامسئلہ نہیں بلکہ اطاعت کامسئلہ ہے۔پہلے قائد علامہ سیدمحمد دہلوی(اعلی اللہ مقامہ) چنددن کےلئے گھر بٹھا دیئے گئے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ فعال دکھائی نہیں دیتے فرمانے لگے کہ اونچی چھلانگ لگانے کےلئے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے( خطاب سے اقتباس، علماء کانفرنس، اسلام آباد)
قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین(اعلی اللہ مقامہ) اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن تھے انہیں سمجھایا جانے لگا کہ حضور شیعہ حقوق کی جنگ وہاں رہ کے نہیں لڑی جا سکتی ۔( سفیر انقلاب،ص۹۸) قیادت سے مربوط علمائے حقہ کے خلاف عقائد کی جنگ کا آغاز کردیا۔جارحیت کرنے والوں کا نشانہ علمائے حقہ بنے ۔ قوم واضح طور پر دوگروہوں میں تقسیم ہوئی۔جارح”غالی”اور نشانہ بننے والے “مقصرین” ٹھہرے۔ (سفیر انقلاب،ص۹۹) ان کو میدان میں تن تنہا چھوڑ دیا گیا جس کے نتیجہ میں حکومت نے اسلام آباد معاہدہ کی خلاف ورزی کی(میثاق خون، ص۴۳؛ آداب ِکارواں،ص۳۲۸) قائد شہید علامہ سیدعارف حسین الحسینیؒ کے دور ِقیادت میں جناب سید حامد علی شاہ موسوی صاحب نے اپنی قیادت کا اعلان کر کے ایک شیعہ گروہ سمیت عدم اطاعت کا واضح ثبوت فراہم کیا۔اتنے مسائل پیدا کر دئیے گئے کہ قائد شہید جیسے رہبر کا شیعہ ہونا لوگوں کومشکوک نظر آنے لگا۔ (سفیر نور،ص۱۱۳) ہرجگہ پر شہید حسینیؒ کوصفائی پیش کرنا پڑتی کہ ہم نہ وہابی ہیں اور نہ ہی مقصر(میثاق خون،ص۳۱،۹۵) آپؒ اتنا مجبور ہوگئے کہ صد علما کی موجودگی میں استعفیٰ پیش کر دیا کہ کسی اورکو ذمہ داری سونپی جائے(سفیر نور،ص۱۱۲) جو اپنوں میں اپنے آپ کو شیعہ ثابت کرتا رہا ؛ وہی اپنی سرگرمیوں اور جانفشانی کے سبب عالمی استعمار اور ان کے پاکستانی ایجنٹوں کی آنکھوں کا کانٹا بنا رہا۔ آخرکار ۵/ اگست ۱۹۸۸ ءکو پشاور میں انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔( ایضاً،ص۳۲۷)
قائد کی شہادت کے بعد ایک بار پھر قوم یتیم ہونے لگی تو علمائے کرام نے آگے بڑھ کر ملت کے سرپر دستِ شفقت رکھا اور سرپرستی کا حق ادا کرتے ہوئے تحریک کے آئینی اداروں سپریم کونسل اور مرکزی کونسل کے ذریعہ علامہ سید ساجد علی نقوی کو اس قوم کا سربراہ وسرپرست اور ملت کا قائد منتخب کیا۔ ان کی قیادت میں جہاں تحریک جعفریہ تلخ اور مشکل ترین مراحل سے گزری وہاں بے انتہا کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔پاکستانی سیاست میں قدم رکھنے کے ساتھ دہشت گردی،تکفیریت اور فرقہ واریت جیسے طوفانوں کامقابلہ کرنا پڑ گیا۔
تحریک جعفریہ پاکستان کی محنتوں، کاوشوں ، اعلیٰ دینی ،سیاسی اور ملکی مقام سے خائف ہمارا دشمن ہماری وحدت،ہماری قیادت کی بصیرت،ہماری اسلامی یکجہتی کے لئے کی جانے والی کوششوں،ہمارے نظریہ ولایت فقیہ،علمائے کرام کی بصیرت افروز قیادت،پاکستان میں ہمارے زبر دست کردار،قومی دھارے میں ہماری موجودگی،ہماری استعمار دشمنی اور سامراج مخالف پالیسیوں اور ہمارے روشن مستقبل سے خوفزدہ ہوا؛ اس لئے آئے روز ہمیں اپنی قیادت سے نفرت دلا کر،ہماری قیادت اور پلیٹ فارم کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر کے،ہمیں آپس میں لڑا کر،باہم دست و گریبان کر کے،ہمیں ایک دوسرے سے بد اعتماد کر کے،نوجوانوں کو علمائے کرام سے بد گمان کر کے، ملت جعفریہ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔
رازوں سے ناواقف بعض افراد کی طرف سےپاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی کو ٹھہرایا جاتا ہےکہ جو شیعوں کا قتل عام پاکستان میں ہورہا ہے اس کا جواب علامہ ساجد نقوی کو دینا ہوگا؛بالآخر کیوں؟ پیغمبراعظم ﷺ کی رحلت کے بعد سے لے کرآج تک کس دور میں شیعہ قتل نہیں ہوئے؟امام حسن علیہ السلام کے دور میں حاکمِ شام نے کون سا ظلم نہیں کیا؟امام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں حجر بن عدی ،عمرو بن حمق،رشید ہجری جیسی عظیم شخصیات کا قتل نہیں ہوا کیا؟حجاج بن یوسف کے ظلم کس سے پوشیدہ ہیں؟اس کے قتل عام کو توشمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔( مرآۃ الجنان،ج۱،ص۲۸۵) عمربن عبدالعزیزکہتےہیں:
اگر دنیا کی تمام قومیں خباثت کا مقابلہ کریں اور اپنے اپنے سارے خبیث لے آئیں توہم تنہا حجاج کوپیش کرکے ان پر بازی لے جاسکتے ہیں۔(خلافت وملوکیت،ص۱۸۶)
اس کے زمانے میں جولوگ قید کی حالت میں کسی عدالتی فیصلے کے بغیر قتل کئے گئے صرف ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی جاتی ہے۔جب وہ مرا تو اس کے قید خانے میں ۸۰ہزار بے قصور انسان مقدمے اور کسی عدالتی فیصلے کے بغیر قید تھے۔(ایضاً)
امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانہ میں بنی عباس کو اقتدار بخشنے کے لئے فقط ابو مسلم خراسانی نے اپنے زمانۂ اقتدار اورلڑائیوں میں چھ لاکھ انسانوں کو قتل کیا ۔( تاریخ الطبری،ج۵،ص۱۷۷) امام موسی کاظم علیہ السلام کے دورۂ امامت میں حاکم وقت نے اتنا خون بہایا کہ اس سے قبل والوں کا ظلم قابل مقایسہ نہیں ہے۔متوکل عباسی کی بربریت کو کون نہیں جانتا؟جو قائد ملت کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں وہ ان لوگوں کے خون کوکس کے کھاتے میں ڈالنا پسند کریں گے؟!
۱۹۶۱ءمیں ٹھیڑی (سندھ)کے شہدا کا ذمہ دار کون ہے؟قائد شہیدؒ کے دور میں ہونے والی شہادتوں ، واقعات (آداب کارواں،ص۲۳۰) ان کی زندگی میں لوگوں کاجیلوں میں رہنا،امامباڑوں کاتباہ ہونا اور شیعوں کے گھروں کے جلائے جانے(میثاق خون،ص۱۱۳) کا ذمہ دار کون ہے؟ بے مقصد قسم کی دشمنی کاقائل نہیں ہونا چاہئے،پہلے ایک مقصد طے کرنا چاہئے،پھر کسی سے دشمنی اور نجات کے لئے عملی جدوجہد کا وقت آئے گا۔تقسیم در تقسیم ہماری ہی قسمت میں کیوں ہے۔اس کا جواب دوسروں پر تنقید کرنے سے نہیں ملے گا بلکہ ہمیں اپنے باطن کوٹھیک کرنا ہوگا؛اپنے اندر اخلاقی گڑھوں کی گہرائیوں کو کم کرنے سے ہی ہم ایک آزاد،خود مختار اور انقلابی قوم کے طور پر اپنا وجودقائم کر پائیں گے۔
کسی انسان کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے دشمنوں پر نظر ڈال لینی چاہئے عظیم لوگوں کے اکثر دشمن جھوٹے،مکار اور منافق ہوتے ہیں۔عظیم لوگوں کو تمام عمر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کا سامنا رہتا ہے اور یہ سلسلہ ان کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔اکثر اوقات چھوٹے لوگ بڑا بننے کے لئے اپنے قلم وزبان سے عظیم لوگوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی ناکام کوشش میں اپنا دامن تار تار کر دیتے ہیں؛بعض افراد خود قائد بننے کومسائل کاحل سمجھتے ہیں۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مے نوشی کئے بغیر اچھے اشعارکہتے تھے اوربہت سے بڑے شعراان کے اس لئے مخالف تھے؛اسی طرح قائد ملت علامہ سید ساجد علی نقوی شورشرابا کئے بغیر اپنے قومی اہداف حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
پاکستان میں بعض افراد استقامت،مقاومت اور انقلاب کے داعی ضرور ہیں لیکن وہ متبادل نظام پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں؛اپنے معاملات میں مبہم ہونے کے علاوہ خود کو”امام موسیٰ صدر”قرار دیتے ہیں یا “سیدحسن نصراللہ”تاہم فکری دلائل اور ان کے اعمال ان کے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہیں، دکھائی یہی دیتا ہے کہ وہ قومی معاملات میں “تضادات”کا مجموعہ ہیں۔ بعض لوگ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راستہ منزل کی طرف نہیں جاتا بلکہ منزل سے دور کرتا جا رہا ہے۔ظلم کے نظام کوبدلنے کی خواہش نے لوگوں کوسیاست کے انجان راستوں پر چلا دیا ہےاورانہیں پتہ نہیں چل پاتا کہ وہ اپنوں کے خلاف غیروں کے مددگار ہیں۔ مسائل اور تنازعات کوحل کرنے کےلئے جس جرأت اور بصیرت کی ضرورت ہے جانے کب ہم لوگوں کو نصیب ہوگی اور جب تک نصیب نہیں ہوگی۔۔۔تب تک دشمنانِ اسلام وتشیع مسکراتے رہیں گے۔ جنگجو ہونا آسان ہوتا ہے لیکن حق جو ہونا مشکل ؛پاکستان میں کسی کی خاطر قربانی دینے اور اپنی توانائیاں صرف کرنے سے پہلے اس بات کو کلیئر کرنا لازمی ہے کہ ہمارے اوپر کس کی اطاعت واجب ہے؟ ہم سب یہ جان لیں کہ صرف ظالم حکمرانوں کو سرنگون کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ بلند مقاصد تک پہنچنے کے لئے صالح قائد کی اطاعت ضروری ہے پھر اس کے ساتھ بصیرت اور تقویٰ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔